3 فروری، 2015

جیسی پرجا ویسا راجہ .!

 ہمیں خود پر مسلط کرکے اب پوچھتے کیوں ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟. اپنے سیاسی مخالف گورنر کو قتل کروانے اور اس کے قاتل کو اعتراف جرم کے باوجود جیل میں مسلسل وی آئی پی سٹیٹس دیے رکهنے پر کس نے ہمارا کیا بگاڑ لیا تها؟؟. جب ہم ماڈل ٹاون میں 15 بندے مروانے کیلئے استعمال کئے گئے رانا ثناءاللہ سے پورٹ فولیو واپس لینے کے باوجود اس کیلئے وزیر کا مکمل پروٹوکول جاری رکھ سکتے ہیں اور دوسرے مہرے توقیر شاہ کو سیکرٹری شپ سے ہٹا کر سیدها ڈبلیو ٹی او کی سفارت عطا کر سکتے ہیں تو ہم سے اس جرم میں مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے کی جرأت کس مائی کے لعل میں ہے؟؟. ہماری مرضی کہ پٹرول بحران سمیت اپنے ایسے ہر کارنامے پر کمیشن بٹهانے کے بعد بهول جائیں یا پهر اس کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہمارے زرخرید افتخار چودهری نے اپنے جان نشین ارسلان کی میگا کرپشن لیک ہونے پر خود بنائے سڈل کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ کیا تها .. باقی رہا برخوردار سلمان شہباز کے ملز منیجر کو اپنے مالک کی کرپشن کی شکایت کرنے پر پورے خاندان سمیت دی گئی سزا کا معاملہ تو اس میں شہزادہ سلمان کی بہن کی طرف سے بیکری ملازم کو اس جرم پر دی گئی سزا سے مختلف کیا ہے کہ دو ٹکے کے بندے نے شہزادی حضور کی تعمیل حکم میں تاخیر کردی تهی؟؟.
مکمل تحریر >>

2 فروری، 2015

اہلیتِ قیادت

امریکہ کو ہم سے چهین لینے کے بعد بهارت کیا چائنہ کو بهی جیتنے والا ہے؟. ہمارے پاس سے گزر کر ہمارا حال تک نہ پوچهنے والے امریکی صدر سے ان کے دورہ بهارت کے دوران کم و بیش 600 ملین ڈالرز کے معاہدے حاصل کرنے کے بعد بهارتی وزیر اعظم مئی میں چین تشریف لے جارہے ہیں، جو انڈین ریلوے کی ماڈرنائزیشن پر 32 ارب ڈالرز اور انڈیا میں انڈسٹریل پارکس کی تعمیر پر 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پہلے سے ہی کر رہا ہے، ناریندر مودی کے دورہ چین کے نتیجے میں جس میں کئی گنا اضافہ کی توقع کی جارہی ہے .. دوسری طرف چین کو جیتنے کی اس دوڑ میں شامل پاکستان اپنے وزیر اعظم بڑے شریف اور ڈیفکٹو وزیر خارجہ چهوٹے شریف کے متعدد دوروں کی لگاتار ناکامی کے بعد ڈیفیکٹو چیف ایگزیکٹو جنرل شریف کے دورہ چین کے نتیجے میں "امید سے" ہے کہ چینی صدر مارچ میں یوم پاکستان کی تقریب کو رونق بخشنے اسلام آباد ضرور آئیں گے، جیسا کہ صدر اوبامہ نے گذشتہ ماہ بهارتی یوم جمہوریہ کی تقریب کو اعزاز بخشا .. اندریں حالات اگر یہ سمجهنے کیلئے کسی افلاطونی ذہن کی ضرورت نہیں کہ چین اب امریکہ و بهارت سمیت تمام عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تو اس حقیقت کو تسلیم کرلینے میں بهی دقت نہیں ہونی چاہئے کہ سفارت کاری کے میدان میں کسی "چج" کے بندے سے محروم الباکستان کے مقابلے میں بهارت، عالمی افق پر تیزی سے ابهر آنے والی طاقت چائنہ کے ساتھ بارگیننگ" کی کہیں بہتر پوزیشن میں ہے ..
مکمل تحریر >>

معذرت

معذرت چاہتا ہوں.! میں طالبان کی دہشت کے زور پر ملک و قوم پر مسلط ان کے "ضامن" کے منہ سے جب اس قسم کے فلمی ڈائیلاگ سنتا ہوں کہ "دہشت گردوں کے عبرتناک انجام کا وقت آگیا"، تو یقین جانئے اس "عزم" پر ایمان لانے والوں پر ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتا ہوں .. سچ سچ بتائیے اور کون کون ایسی "حس لطافت" سے محظوظ ہو پاتے ہیں؟؟.
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے