3 ستمبر، 2015

نہ بجلی،نہ گیس اور اب پٹرول بھی نایاب؟

ہم عوام بھی کتنے بھولے بھالے ہیں جو دوسروں کی باتوں میں آجاتے ہیں اورہر نئی قیادت سے اُمیدوں کے پہاڑ پر پہنچ جاتے ہیں۔لیکن اللہ بھلا کرے ہمارے حکمرانوں کا،وہ جلد ہی پہاڑ سے منہ کے بل ایسادھکا د یتے ہیں کہ اس کے زخم مندمل ہو بھی جائیں مگرنشان باقی رہ جاتے ہیں۔ہمارے حکمران یا توعوام کی حالت زار سے بے خبر ہیں یا پھر جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں جو انہیں ہر بحران کی خبرکئی دنوں بعدخبر ہوتی ہے اور پھرحسب سابق وہی نام نہاد   ”ایکشن“لیا جاتاہے جس میں اصل ذمہ دار کو توبچالیا جاتا ہے جبکہ چند ایک کو معطل کیا جاتاہے وہ بھی کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ جب معاملہ ٹھنڈا ہوتاہے تمام تر سہولیات اور بقایا جات کی ادائیگی کیساتھ بحال ہو جاتے ہیں۔
ابھی عوام کو بجلی،گیس کی ”جدائی“بھولنے بھی نہ پائی تھی کہ حکومت نے پٹرول کا ایسا جھٹکا دیا ہے کہ لوگوں نانی یاد کروا دی ہے۔پٹرول کی اتنی ”قدروقیمت“ہوگئی ہے کہ اب پٹرول کے حصول کے لیے بھی سفارش کروانی پڑ رہی ہے،پمپ مالکان سرعام منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں اگرآپ کسی کی شکایت حکام بالا سے کر بھی دیں تو وہ بھی کچھ نہیں کریں گے کیونکہ ان کو بھی ان کا ”حصہ“پہنچتا ہے۔اوّل تو پٹرول پمپ مالکان بھی آج کل حکومت کی طرح بات سننے کو تیار نہیں اور اگر آمادہ ہو بھی جاتے ہیں تو کئی گنا قیمت وصول کرکے حکومت کی ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘کی طرح ”بیک ڈور“سے ہی مستفید فرمائیں گے،دوسرا زیادہ تر تو پٹرول پمپ بند ہیں جو کھلے ہیں ان پر لوگوں کی ”دیوار چین“آپ کو دور سے ہی نظر آئے گی۔پٹرول کا اگر یہی پرسان حال رہا تو مستقبل قریب میں مانگنے والا گدا گر بھی شائد یہی صدا لگایا کرے:اللہ کے نا م پر تھوڑا سا پٹرول دے دے رے بابا۔یا اللہ کے نام پہ دس روپے دیدے اللہ تجھے پٹرول دے۔
لوگ اس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہیں کہ ہر سڑک پرآپ کو”پٹرول کے متاثرین“ملیں گے کوئی موٹر سائیکل کو سڑک پر پیدل گھسیٹتا ہوا ساتھ بیوی بچے بیچارے مارچ کرتے ہوئے،تو کوئی گاڑی کو دھکا لگاتا ہوا،کوئی بے بسی کے عالم میں سڑک کنارے کھڑا کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہوئے،جدھر جاؤہر چوک،چوراہے پر پٹرول کے ہی چرچے ملیں گے۔دہشت گردی کے خطرے کی بدولت پہلے ہی طلباء کا کافی تعلیمی نقصان ہو رہا تھا اب پٹرول کی قلت کے باعث سکول وین والوں نے بھی جواب د یدیا ہے،مریض راستوں میں دم توڑ رہے ہیں،گاڑیوں سے پٹرول چوری ہو رہا ہے،وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔
میری اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے التماس ہے کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے ایسے عملی اقدامات کیے جائے جس سے جتنی جلدی ممکن ہو ایسے باربار جنم لینے والے بحرانوں اور جگ ہنسائی سے بچا جا سکے،اور پیچارے عوام کوبھی سکھ کا سانس نصیب ہوسکے۔
مکمل تحریر >>

2 ستمبر، 2015

قدم بڑھاؤ راحیل شریف‘عوام تمہارے ساتھ ہے

گذشتہ چند سالوں سے وطن عزیز میں دہشت گردی،فرقہ واریت اور ٹارگٹ کلنگ پورے عروج پر رہی ہے جس سے ہر اک محب ِوطن شہری اور امن کا داعی پریشان تھا مگرجب چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے حلف اٹھایا توان کے خاندانی پس منظر کو دیکھتے ہوئے اور ان کے پہلے ہی خطاب(جس میں انہوں نے پاکستان کواندرونی وبیرونی خطرات سے پاک کرنے کا اعادہ کیا تھا)سے ہرانسان دوست اورپاک سر زمین سے محبت و عقیدت رکھنے والے کے دل میں یہ اُمید پیدا ہوئی کہ شائد ہم بھی ایک ایسے معاشرے کو پروان چڑھتا ہوا دیکھ سکیں گے جس میں انسانیت کی قدر کی جا ئے گی اورنہ کہ ایسے معاشرے میں جہاں اسے جس کاجی چاہا جانوروں کی طرح، سڑکوں اور چوراہوں پر ذبح نہیں کیا جائے گا،جہاں اس وطن کے معصوم پھولوں کو محض صرف سکول سے دور رکھنے کی غرض سے نہیں مسل دیا جائے گا،یا بیچارے غریب،بھوک کے ماروں مزدوروں کو صرف پیسوں کی حرص کی بدولت زندہ نہیں جلادیا جائے گا۔
حالات جیسے بھی ہوں ہم سب کے انفرادی و اجتماعی فرائض ہیں جواس ملک کا شہری ہوتے ہوئے ہم سے ہمارے مثبت کردار کو ادا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور اگراب کی بار بھی ہم اپنا مثبت حصہ ڈالنے سے قاصر رہ گئے تو شائد آئندہ ہمیں موقع نہ ملے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کوستی رہیں۔پاکستان آرمی نے جہاں ”آپریشن ضربِ عضب“میں دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہاں اندرون ِملک بھی ملک دشمنو ں کا صفایا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہی ہے۔مگر افسوس در افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت نے ہمیشہ دوغلے پن اور منافقت کی پالیسی کو اپنایا ہے۔جہاں اپنا مفاد نظر آتا ہے وہاں سب اکٹھے ہو جا تے ہیں اور اس نام نہاد’’مفاہمت‘‘کو جمہوریت کا ”حسن“قرار دیتے ہیں اور جہاں مفادات کو ذرا سی ٹھیس پہنچنے لگتی ہے تو ”جمہوریت کو خطرہ‘‘ قرار دے کر عوام کو طرح طرح کی ”گولیاں“دیتے ہیں۔جب آرمی ”آپریشن ضرب ِعضب“ کرے تو صحیح جب’’کراچی آپریشن“ہو تو غلط۔واہ جی واہ!یعنی ”میٹھا میٹھا ام ام،کڑوا کڑوا تھو کوڑی“۔یا ہمارے جمہوریت کاراگ الاپنے والے لیڈروں کی مثال ایک ایسی عورت کی سی ہے جو اپنے شادی شدہ بیٹے کو اکثر ان الفاظ میں لعن طعن کیا کرتی تھی”میرا بیٹا اتنا بُرا ہے کہ جوکماتاہے اپنی بیوی کو لاکر دیتا ہے،اس سے اچھا تو میرا داماد ہے جو کما تا ہے لاکر میری بیٹی کو دیتا ہے۔“یعنی آرمی باقی سارے کام کرے تو صحیح اورلٹیروں کی کرپشن پکڑے تو غلط۔۔۔۔
محترم جنرل راحیل شریف صاحب!ان سیاستدانوں کو چھوڑیں یہ نہ خود کچھ کرتے اور نہ کرنے دیتے ہیں۔قوم اب آپ کی طرف دیکھ رہی ہے،اس ملک میں حقیقی جمہوریت کیلئے،امن وخوشحالی کیلئے اوراس قوم کی کھوئی ہوئی خوشیوں کو واپس لانے کیلئے ہر محب وطن پاکستانی آپ کے ساتھ ہے آپ جو کر رہے ہیں،اس پرڈٹے رہیں اوراب موقع ملا ہے کہ ایک بار اس ملک کے ”گند“کو صاف کر دیں جو برسوں سے پڑامختلف”بیماریاں“پھیلا رہا ہے،اس ”گند“نے اس قوم سے اس کے بنیادی حقوق کوبھی اس سے دور کر دیا ہے۔ روز روز کے رونے سے ایک بار کا رونا بہترہوتا ہے۔آرمی چیف صاحب کے کرپشن کے خلاف حالیہ آپریشن کے بعدجنرل راحیل شریف کی عوامی مقبولیت اپنی آخری حدوں کوچھو رہی ہے جس کے بعداب یہ ہر اک پاکستانی کا نعرہ بنتاجارہاہے:
”قدم بڑھاؤ راحیل شریف‘عوام تمہارے ساتھ ہے“

مکمل تحریر >>

31 اگست، 2015

وسائل ہی وسائل، مگرپھر بھی مسائل۔۔۔!

ایک دفعہ کسی کھوہ(کنواں) میں کتّاگر گیااُس مُلک کے بادشاہ نے حکم دیاکہ کنویں کا پانی نکال دیا جائے چنانچہ بادشاہ کا حکم بجا لاتے  ہوئے کنویں کاپانی تو بدل دیا گیامگر کُتے کوباہر نہ نکالا گیا۔کچھ ایسی ہی صورتحال سے ہماراوطن عزیزبھی گزر رہا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ایک غریب،پسماندہ اور کمزورملک ہے؟؟؟؟؟ہر گزبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بلکہ ہمارے پاس دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے،پانچویں بڑی سونے کی کان ہے،پانچویں بڑی کوئلے کی کان ہے،ساتویں بڑی تانبے کی کان ہے مگرپھر بھی ہمIMF سے بھیک کیوں مانگتے ہیں؟ہم ساتویں بڑی ایٹمی طاقت ہیں،ارض ِپاک پانچ دریاؤں کی سرزمین ہے مگرپھر بھی یہاں لوڈ شیدنگ کیوں ہوتی ہے؟ہماری پاس دنیا کی چھٹی بڑی آرمی ہے،ہم نیو کلیئرپاورہیں،ہمارے پاس نمبر1ٹرینڈآرمی ہے،پھر بھی بھارتی جارحیت اورحملوں پر ہمارے حکمران کیوں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اقوامِ عالم میں ہماری عزت وسا  لمیت کو کیوں للکارا جاتا ہے؟ہم ساتواں بڑاچاول پیداکرنیوالا ملک اورآٹھواں بڑاگندم پیداکرنیوالازرعی ملک ہیں، پھر بھی مہنگائی اور غذائی قلت کا شکارکیوں ہیں اور کیوں ہمارے کسان ذلیل و خوار ہورہے ہیں؟ہمارے پاس بے شمارقدرتی وسائل(تیل،گیس،قیمتی پتھر،نایاب معدنیات)ہیں اوراس کے علاوہ ہمارے پاس محنتی اورجفاکش افرادی قوت کی فراوانی ہے لیکن پھر بھی یہاں بے روزگاری کیوں ہے؟ہماراملک اسلام کے نام پر قائم ہونیوالا ملک ہے مگر پھر بھی یہاں فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کیوں ہے؟موجودہ حکومت برسرِاقتدار آنے سے پہلے یہ دعویٰ کرتی پھرتی تھی کہ ہمارے پاس بہترین تجربہ کی حامل ٹیم ہے مگر”حکومتی تجربہ کار ٹیم“ہونے کے باوجوداداروں کو بہترکرنے کی بجائے ان اداروں کی تباہی کیوں کی جا رہی ہے؟ہم سے بعد میں آزاد ہونے والی اقوام آج ہم سے آگے نکل چکی ہیں،آخرکیوں؟ہماری ترجیحات کا انتخاب درست نہیں ہے،آخر کیوں؟ہمارے ہاں ادارے کمزور اور شخصیات طاقتور ہیں،آخر کیوں؟امیر،امیرتر اور غریب،غریب تر،آخر کیوں؟جائز کا م کروانے کی بھی رشوت،آخر کیوں؟جتنا بڑا چور،اتنا بڑا عہدہ،آخر کیوں؟ان تمام مسائل اور”کیوں“ کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ ہم بھی کنویں سے پانی ہی نکال رہے ہیں ”کُتا“نہیں۔
شائد ہمارے لکھنے یا پڑھنے سے حکمرانوں کی صحت پر کوئی اثر نہ ہو۔۔۔مگر ”دستک“ تو دینی چاہیے نا!
مکمل تحریر >>

30 اگست، 2015

ہماری منزل کیا ہے...؟

 ہمارا مُلک کدھر جا رہا ہے؟ہماری منزل کیا ہے؟ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟ایسے بیشمار سوالات مجھ جیسے ایک عام پاکستانی کے دل ودماغ اور زبان پر ہیں۔اور وہ ہرنئی صبح کو نئی اُمید لیے بیدار ہوتا ہے کہ شائد آج کا دن اُس کے کل سے بہتر ہوگامگر یہ صرف اس کی ”خوش فہمی“ہی ثابت ہوتی ہے۔مہنگائی،غربت،بے روزگاری اورگھریلو پریشانیوں نے ویسے ہی ایک عام آدمی کی ”مت“مارکر کے رکھ دی ہے۔دوسرا ملک کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ انہیں دیکھتے ہوئے کسی بھی محب وطن کا دل روئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وطنِ عزیزکے بیچارے عوام پر ان مسائل نے اس حد تک گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں کہ غریب آدمی ایک توسارا دن روزی،روٹی کے حصول میں ہاتھ پاؤں مارتا رہتا ہے اور جب شام کو تھکا ہارا جب گھر لوٹتا ہے تو آگے”لوڈ شیڈنگ اور مچھر“اس بیچارے کے”استقبال“ کے لیے راہیں بچھائے،نظریں جمائے،تاک لگائے انتظار میں ہوتے ہیں۔وہ رات بھر ان سے نبرد آزما ہوتا ہے اور اس وجہ سے نیند بھی پوری نہیں کر پاتاہے۔صبح پھر کام پر چلا جاتا ہے کیونکہ کام نہیں کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟بجلی آئے نہ آئے بل تو ٹائم پر آئے گااور وہ بھی اتنا۔۔۔ کہ جیسے ”چاند“بھی شائد اس بیچارے کے میٹر سے روشن ہوتا ہو۔ اوراس تما م صورتحال کا نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ وہ ایک قسم کا ذہنی مریض بن کر رہ جاتا ہے اور اس میں چڑچڑاپن،غصہ،عدم برداشت،بلڈپریشراور خود گفتاری جیسی ”بیماریاں“گھر کر لیتی ہیں۔ اچھے،بُرے حالات اور نشیب وفرازقوموں کی تاریخ و بقا ء کا حصہ رہے ہیں مگر ان قوموں کوایسے لیڈرز اور قیادت ملی کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں جس کی زندہ مثال ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک چین ہے جو ہم سے دو سال بعد میں آزاد ہوامگر آج ہم سے بہت آگے نکل چکاہے بلکہ دنیا کے لیے چین کی ترقی ایک مثال ہے۔ جبکہ اس کے برعکس دوسری طرف ہمارے حکمرانوں نے ہمیں ایسے ”ٹرک کی بتّی“کے پیچھے لگایا ہوا ہے جس میں شائد انجن بھی نہیں ہے،ہمارے آقاہماری نام نہاد ”خوشحالی اور ترقی“کے بلندوبالاکرتے رہتے ہیں ہر سال بجٹ میں حسبِ سابق نئی نئی ”گولیاں“دے دیتے ہیں جن ”گولیوں“کافی الحال اثر کم اور ”سائیڈایفیکٹ“زیادہ نظر آرہا ہے۔اور تو اورآج ہمیں افغانستان بھی ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے۔حالیہ کراچی کے حادثہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومتی صفوں میں خود بھی اعتماداور سنجیدگی کا فقدان ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ کوششیں کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر غیروں اور ملک دشمنوں کا کام آسان کر رہی ہیں۔حکمرانو!بیچاری عوام کو ”بھیڑ بکریوں“کی طرح نہ سمجھیں کہ جدھر چاہا ہانک لیا،مانا کہ آپ کو ووٹ دینا ان کا جرم ہے مگرخدارا!اللہ کے عذاب سے بچیں۔اس کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے،اس ملک کا بھی کچھ سوچیں جس نے آپ کو عزت اور پہچان عطا کی ہے۔
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے