29 مارچ، 2015

بھگت سنگھ-ایک انقلابی

ایک عظیم اور انقلابی شخصیت پر قلم اٹھانے جا رہا ہوں جس کی عظمت کو دشمن بھی سلام کرتے ہیں میں بھگت سنگھ کے چاہنے والوں سے معذرت کرتا ہوں کے ایک نامور مجاہد پر ذاتی مصروفیت کی بناء پر نہیں لکھ پایا۔۔ آہ بھگت سنگھ---- 1907 کو لائل پور (پنجاب پاکستان) میں پیدا ہونے والا نام بھگت سنگھ جس کو مذہب سکھ کی وجہ سے ہماری تاریح میں جگہ نہیں دی گئی۔ سنگھ کی جدوجہد کو ایک آرٹیکل میں سمانا ناممکن سی بات ہے ۔ پھر بھی ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ جب کبھی پھر موقع ملا تو تفصیل سے لکھیں گئے۔ سنگھ نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہ انگریز راج کے خلاف ہر محاز پر کھڑی رہنے والی فیملی تھی۔ اور ان کی پیدائش اُسی دن ہوئی جب اُن کے والد، اور دو چچا انگریز قید سے رہا ہوئے تھے، جس کی وجہ سے خاندان میں ان کو خوش قسمتی کا ستارہ سمجھا جانے لگا۔ ایک آزادی پسند گھرانے میں پیدائش کا فائدہ یہ ہوا کہ سنگھ کے اندر بغاوت اس کے خون اور تربیت کا حصہ بن گئی۔ جوں جوں وقت گزرا حالات نے رخ بدلا، سنگھ کی آنکھ نے گہرائی محسوس کرنے کا ہنر سیکھا اور سنگھ مارکس کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان میں کود پڑا۔سترہ سال کی عمر میں پنجاب میں زبان کے مسئلے پر مضمون لکھ کر مضمون نگاری میں انعام حاصل کیا۔سترہ سال کی عمر میں ایک عظیم مفکر کے طور پر جانے لگے۔اپنی ٹین ایج میں ہی سیاسی سرگرمیوں میں نظر آنے لگے تھے 1928 میں دہلی میں ایک ہنگامائی میٹنگ بلائی اور ایک جماعت ہندوستان ریپبلک ایسوسی ایشن (ایچ-آر-آے) کا نام بدل کر ہندوستان ریپبلک سوشلسٹ ایسوسی ایشن( ایچ-آر-آیس-آے) نام رکھ دیا گیا۔ جس کے نام پر زور صرف سنگھ نے دیا تھا۔اس کے بعد عملی طور پر انھوں نے سوشلسٹ انقلاب کے لئے جدوجہد شروع کر دی۔ اور اس کے سائے تلے محنت کشوں کو اکھٹا کرنے کے لئے کوشش کرنے لگے۔ اس سے قبل وہ سیاسی طور پر جنرل سیکٹری این-بی-ایس رہ چکے تھے۔جو کہ ان کی اپنی ایک طلبہ پارٹی تھی۔۔اسی اثناء میں ساؤنڈرس کا قتل ایک ریلی میں ہنگامے کے دوران سنگھ نے کر دیا کیونکہ ساؤنڈر برطانیہ کے ہرادل دستے کا اہم جُز تھا اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے انقلابیوں کی کو زیر زمیں دفن کیا تھا۔ساؤنڈ ر نے لالہ لاجپت رائے کو شہید کیا تھا وہ بھی ایک عوامی راہنما تھا اسے بھگت اپنا استاد مانتا تھا اسکے قتل کے بعد انہوں نے ساؤنڈ ر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس اقدام کے بعد سنگھ کو یقین ہو چکا تھا کے اس کی زندگی کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ اور وہ باقی زندگی میں بہت سے کام جلدی جلدی پر کم سے کم جانی نقصان پر کرنا چاہتے تھے۔ ساؤنڈر کے قتل کے بعد عوام میں بھی جوش و خروش پایا گیا جس کو سنگھ نے ضائع نہیں ہونے دیا اور اور عوام کو ایک ایک آزادی کی راہ دیکھلائی۔1929 کو اپنی آواز کو بلند و بالا سامراج کے قلعوں تک پہنچانے کے لئے غیر مہلک بم مرکزی مجلس مقننہ میں پھینکے۔ جس کا مقصد تھا کے انقلاب زندہ باد اور سامراجیت مردہ باد کر نعرے کو تقویت پہنچے۔ اسی دوران ان پر عدالت میں مقدمہ چلا اور ان کو ساؤنڈر قتل کیس میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ مزے کی بات یہ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے مقدمہ سے بائیکاٹ کر لیا تھا اور یہ عدالت کا فیصلہ یک طرفہ فیصلہ تھا جس کو مسلط کیا گیا تھا۔ خیر 24مارچ صبح چھ بجے کو پھانسی کا فیصلہ ہوا جس کو سامراجیت نے عدالتی حکم کو پسے پشت ڈالا اور عالمی پھانسی کے قانون کو توڑ کر 23مارچ کی شام سات بجے ہی پھانسی دے دی گئی۔ جس کی خبر لاہور شہر میں آگ کی طرح پھیلی اور تمام آزادی پسندوں نے جیل کے قریب پہنچ کر جیل کو توڑنا شروع کر دیا۔جس سے برطانیہ کے افسروں میں ڈر پیدا ہو گیا۔ انھوں نے سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں کاٹ کر تھیلوں میں پیک کیا اور دریا کے کنارے لے جا کر جلا ڈالا۔ جس کو بعد میں ڈھونڈ لیا گیا۔ سنگھ ایک ایسا تاریحی اور انقلابی شحص تھا جس نے قوم وملک کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی جس کا سنگھ نے ایک خط میں اپنے والد کو بتایا بھی تھا۔سنگھ نے 15 دن موت کی دنیا (جیل) میں بھوک ہڑتال کی، آخری دنوں میں 4بکس لکھیں۔ اور بہت سے نوٹس مرتب کیے جن کو عوامی سطح پر حکومت کو سامنے لانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے اور اس عظیم مجاہد کی قربانیوں کو تاریحی صفحات پر نمایاں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سنگھ کی قربانیوں کو اس کا اصل صلہ دیا جائے اور قوم کو اس کے متعلق بتایا جائے۔اس سے نہ صرف حق گوئی کو تقویت ملے گی بلکہ آنے والی نسل کو بھی ایک تحریک ملے گی۔
مکمل تحریر >>

24 فروری، 2015

حب الوطنی مِن الایمان

اسلام ہو یا کوئی اور مذہب، ہر مذہب اور ہر جگہ پر وطن سے محبت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نبی پاک ﷺ جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی تو مکہ کے پہاڑوں پر کھڑے ہو کر کہا 'اے میرے مکہ اگر تمہارے لوگ مجھے تنگ نہ کرتے تو میں تجھے کبھی چھوڑ کر نہ جاتا' ایک اور مقام پر فرمایا، مفہومِ حدیث”وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے“  کہ حب الوطنی کو سب سے قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا کیمختلف ممالک میں بچوں کی فطرت میں مُحبِ وطنی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔جس میں بہت سے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے جاپان میں پرائمری کلاس تک کے بچوں کو کچی مٹی میں بیٹھ کر پڑھایا جاتا ہے۔تاکہ اُن کی نَس نَس میں وطن کی محبت جاگ جائے۔ اِسی طرح ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو ہمیں پتہ لگے گا کہ اُن کی کامیابی کا راز صرف و صرف وطن سے محبت ہے۔اور وطن سے محبت ایک خوبصورت اور قابلِ تحسین جذبہ ہے۔جو ہمیشہ ہر قوم میں سراہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص قوم کی خاطر چھوٹا سا بھی اقدام کر جائے تو اُس کو سراہا جاتا ہے، مختلف قِسم کے حکومتی سطح پر انعامات اور خطاب دئیے جاتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو تحریک ملے، ملک و قوم کی خاطر کام کرنے والوں میں اضافہ ہو۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس پر ہر قوم فخر کرتی ہے نہ کہ شرم محسوس کرتی ہے۔ لیکن کشمیر میں تو اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں پر تو وطن سے محبت کرنے والے پر فخر نہیں بلکہ شرم محسوس کی جاتی ہے۔ یہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اپنے قومی ہیروز کو اٰیجنٹ اور ایجنٹس کوپل بھر میں قومی ہیروز بنا لیتیہیں۔یہ وطن فروشوں کو غازی اور مجاہد کا لقب دیتے ہیں اور وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو ایجنٹ کا لقب دیتے ہیں۔ حال ہی میں سعید اسد کی دو کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔اور ساتھ ہی ساتھ سِتم ظریفی ایسی کے انہیں مملکتِ کشمیر  کا حقیقی نقشہ پیش کرنے پر فردِ جرم عائد کر دیا گیا۔ کوئی اِس قوم کی ذہنی معیار کو دیکھے 67سال سے غلام چلے آ رہے ہیں۔ اِن کی حالت یہ ہے کہ اِن کو پاکستان کا ایک حوالدار کنٹرول کرتا ہے، اور پھر بھی ان کا نعرہ؟ آ ہا آزاد کشمیر کی اسمبلی پر لاھور چڑیا گھر کا منظر یاد آ گیا، چڑیا گھر میں ایک بڑے سے پنجرے میں پرندوں کو بند کیا گیا ہے اور پرندے اُونچا اُڑتے ہیں لیکن جال سے ٹکرا کر زمین کی طرف آ جاتے ہیں۔ اور وہ سوچتے ہیں کہ شاید وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو کر واپس آ رہے ہیں، کچھ ایسا ہی منظر ہماری اسمبلی کے ساتھ بھی ہے۔اس کو بھی ایک سیکٹری کے ماتحت رکھا گیا ہے اور یہ اسمبلی ممبرز اُس سیکٹری کی ایک مسکراہٹ دیکھنے کو آزادی کی انتہا سمجھتے ہیں، خیر اِن بیچاروں سے کیا شکوہ یا غاصبِ کشمیر سے کیا شکایت؟ بس اتنا کہتا ہوں خدا کے لئے خود کو پہچانو، غاصبوں کی خوش آمد چھوڑ دو اور اگر وطن سے محبت کوئی گناہ یا جرم ہے تو میں سب سے بڑا مجرم ہوں۔اور اِس جرم کو بار بار دوہراتا رہوں گا۔
مکمل تحریر >>

14 فروری، 2015

ویلنٹائن ڈے

دنیا بھر میں مختلف ایام کو تہوار کی صورت میں منایا جاتا ہے۔ 14فروری کو دنیا بھر میں محبتوں کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن دوست و احباب، عزیز و اقارب ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن ہماری قوم کے اکثریت اس دن کو منفی انداز میں لیتے ہیں۔
ویلنٹائن ڈے کے متعلق بہت سے حوالے موجودہیں لیکن معروف حوالے کے مطابق آج سے تقریبا ڈیڑھ ہزار سال پہلے روم کے بادشاہ نے نوجوانوں اور بالخصوص فوجیوں پر شادی کی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ شادی شدہ لوگ جنگ و جدل میں دلچسپی نہیں لیتے۔ روم کے ایک پادری سینٹ ویلنٹائن نے بادشاہی احکامات سے بغاوت کرتے ہوئے کہا کہ شادی مذہبی اور انسانی اعتبار سے ہر ایک کا حق ہے لہٰذا اس نے چرچ میں لوگوں کی شادیاں کروانا شروع کردیں۔ اسی جرم میں اس کو قید کیا گیا اور سزائے موت دی گئی۔ قید کے دوران جیلر کی ایک بیٹی جو نابینا تھی سینٹ ویلنٹائن سے ملنے آتی تھی اور ان کی اچھی دوستی ہوگئی۔ ویلنٹائن نے مرنے سے قبل اس کو ایک الوداعی خط لکھا تھا۔ تب سے 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کے یوم شہادت کے طور پر منایا جانے لگا اور بعد ازاں اسے یوم محبت کا نام دے دیا گیا
ہمارے ہاں چونکہ ہر چیز کو رد کرنے اور تاریخی واقعات پر تحقیق کے بجائے ہر چیز کو حرام اور سازش قرار دینے کی روایت بہت پختہ ہو چکی ہے اس لئے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بھی من گھڑت فتووں کا انبھار لگا ہوا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو سینٹ ویلنٹائن نے ایک جانب بادشاہ کے ظالمانہ اقدام کی مخالفت کرکے اور لوگوں کے بنیادی حق کیلئے جدوجہد کرکے ایک انقلابی کام کیا تھا۔ اور دوسری جانب فطری جذبات اور محبت و امن کا درس دیا۔ ویلنٹائن ڈے کا یا محبت کا مفہوم صرف جنسی خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ محبت ایک وسیع اور لامحدود معنی رکھنے والا جذبہ ہے۔
ہمیشہ اپنی سوچ کو وسیع اور مثبت رکھیں۔
HAPPY VALENTINES DAY TO EVERY ONE
مکمل تحریر >>

11 فروری، 2015

فرزندِ کشمیر ۔۔۔ مقبول بٹؒ


تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو7ہزار سال پرانی تاریخ یا جتنی بھی کتابی شکل میں میسر تاریخ ہے اُس میں کشمیر کا نام نمایاں حیثیت میں جلوہ گر ہے۔ کشمیر جو کہ تاریخی،جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کو مذاہب کی تاریخ میں جو کہ بنی نوع انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی وجود میں آ گئے تھے، اُن کی تاریخ میں کشمیر کو سنہری الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔حدود اربعہ کے لحاظ سے یہ ریاست سکڑتی اور پھیلتی رہی ہے۔کبھی تبت تک جا پہنچی تو کبھی افغانستان تک،کبھی ٹیکسلا کو عبور کر ڈالا تو کبھی دہلی سے جا ٹکرائی۔موجودہ رقبہ ریاست جموں و کشمیر 84471 مربع میل پرمحیط ہے۔ جو 16مارچ1846 کو معاہدہ امرتسر کے تحت دنیا کے نقشے پر واضح ہوا۔اور اس کی شناخت کو 22اکتوبر 1947 کو پاکستان اور 27اکتوبر کو بھارت کی طرف سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ اِن حالات میں اس ریاست کے تشخص کو بچانے کے لئیے ریاست کا بیٹا مقبول بٹ ایک ریاستی حقیقیِ بیٹے کے فرائض انجام دیتے نظر آتا ہے۔ کہتے ہیں اگر زندگی کا مقصد سمجھ آ جائے تو دونوں جہاں سرخرو ہو جاتے ہیں۔ کشمیر کےاس سرخروعظیم سپوت کی زندگی پرنظر ڈالتے ہیں۔آپ نے 18 فروری1938 کو کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں غلام قادر کے گھر آنکھ کھولی آپ سات بہن بھائی تھے، ظہور بٹ(جو سرینگرمیں مقیم ہیں)،حبیب اللہ بٹ(جو 17سال کی عمر میں پر اسرار طور پر لا پتہ ہو گئے)،غلام نبی بٹ(جو 1994 میں شہید ہوئے)۔زمانہِ طالبِ علمی میں ہی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت سیاسی اور سماجی طور پر خود کو منوا لیا۔میٹرک اپنے گاوں کے ایک سکول سے پاس کی اور بی اے کی ڈگری جوزف کالج بارہ مولہ سے حاصل کی۔ 1958 میں ایمانی اور اسلامی جذبے کے تحت پاکستان(آزاد کشمیر) ہجرت کر کہ آئے اور پشاور کے ایک اخبار میں ملازمت اختیار کی، پشاور یونیورسٹی سے ایم اے ، ایل ایل بی کی۔اور پھر سے اپنی زندگی کے مقصد کے لئے کوشاں ہو گئے اور اپنے فرائض انجام دینے لگے۔ اگر کہا جائے کہ مقبول بٹ نے ہی نظریہ خودمختار کشمیر کی بنیاد رکھی تو یہ غلط نہ ہو گا۔ 
اِن کے فرائض کی راہ میں رکاوٹ بنتے کبھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا علمبردار بھارت نظر آتا ہے تو کبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنا کِردار ادا کرتے نظر آتا ہے۔کبھی مقبول بٹ لاہور شاہی قلعے میں سزا کاٹتے نظر آتے ہیں،تو کبھی مظفرآباد میں انوسٹیگیشن کے ہتھے چڑھے دکھائی دیتے ہیں، کبھی دہلی میں مقدمے لڑتے دکھائی دیتے ہیں، تو کبھی پاکستان کی عدالتوں میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے نظر آتے ہیں، اور کبھی قوم کی خاطر جیل کی کوٹھڑی میں جاتے نظر آتے ہیں۔ تو کبھی محاز رائے شماری کے نام پر قوم کی خاطر لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اِنہی مرحلات سے گزرتے گزرے ایک دن تہاڑ جیل میں موت کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور ایک تاریک صبح جس دن سورج تو طلوع ہوا پر انصاف کا نہیں ظلمت کا، جس دن ہوا تو چلی پر سکون کی نہیں قہر کی، یہ تاریک صبح  11فروری1984 کی تھی۔ جس دن تمام قانونی کاروائیوں کو سب سے بڑی جمہوریت کچلتےہوئے نظر آتی ہے۔جو جمہوریت کو کالے قانون کی نذر کرتے نظر آتی ہے۔اس دن مقبول بٹ کے جسم کو تو ساکت کر دیا گیا پر اٗس نظریے کاکیا جو نظریہ ایک طوفان کی طرح مچلتانظر آیا۔ اس سے بڑھ کر بھارت کے لئے شکست کا مقام کیاہو سکتا ہے؟ کہ آج ہر بچے بچے کی زباں پر خودمحتاری اور آزادی کا نعرہ ہے۔آج جو آزادی کی شمع ہمارے دل و دماغ میں پھوٹ رہی ہے وہ آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام سے ہی بجھے گئی۔قسم اُس ذات کی اِس نظریے کو جتنا دباؤ گے اُتنا یہ ابھرےگا۔
مکمل تحریر >>

4 فروری، 2015

یکجہتی کشمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا حقیقت کیا فسانہ؟

اگر ریاستوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ریاست جموں کشمیر کو ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔تمام ریاستوں کی تاریخ میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حاصل کر کے یہ ریاست پاک و ہند کے لئیے جموں کشمیر ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ 1947 میں کشمیر کے بطن سے پیدا ہونے والے دو بچوں نے اس کی شناخت کو کچلنے کی کوشش کی،جنہیں آج دنیا پاکستان اور ہندوستان کے نام سے جانتی ہے۔ آج ہم کچھ سرسری نظر 5فروری کے حوالے سے ڈالتے ہیں۔5فروری کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے حکومت پاکستان کی طرف سے مقرر کردہ دن ہے،جو کہ جماعت اسلامی کی وجہ سے منایا جانے لگا۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کو کشمیری اپنا سفارتی اور اقتصادی وکیل تصور کرتے ہیں،لیکن پاکستان حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ناکام رہا۔ جس کی وجہ سے کشمیری عوام کو سخت مایوسی ہوئی اور بھارت اپنی مضبوط خارجہ پالیسی کی بدولت عالمی سطح پر کشمیر پر اپنا تسلط قائم کرنے کا جواز پیدا کر رہا ہے۔ 5فروری کومنانے کا اصل مقصد حکومت پاکستان کا کشمیری عوام کو یہ یقین دلانا ہےکہ وہ مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پر کشمیر کی سر زمین اور تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ پاکستان نے آج تک کشمیر کے لئے تنکا برابربھی نہیں کیا۔ کشمیر کا کچھ حصہ جو کہ پاکستان کے زیر کنٹرول ہے جو آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے اس کو اس کے اصل حقوق دینے سے قاصر ہے۔بلکہ اگریوں کہا جائے کہ کشمیر کو پاکستان نے حق دینے کے بجائے اس کی سرزمیں کو حتیٰ الوسع لوٹنے کی کوشش کی ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔یکجہتی کا ایک دن منا لو ، ملک کے سرکاری اداروں میں چھٹی بھی کر لو تو کیا کشمیر آزاد ہو جائے گا؟؟ کیا کشمیریوں کو ان کے حقوق مل جائیں گئے؟؟ میں پوچھتا ہوں پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کیا کام کیا؟؟ کیا کشمیریوں کو ان کے اصل حقوق ان کو دئیے؟ تعلیم پر کتنا خرچ کیا جاتا ہے؟سانحہِ زلزلہ2005 کے نام پر پوری دنیا سے پیسے مانگ کر لائے گئے تو وہ اربوں ڈالرز کہاں گئے؟؟ یوم یکجہتی کشمیر کے نام پر برسوں سے کشمیریوں کو دھوکے میں رکہ کر غلام بنایا جا رہا ہے۔میں پوچھتا ہوں حکومت پاکستان سے اور الحاق کے یاروں سےکشمیر پراپرٹی کے ساتھ پاکستان میں کیا سلوک کیا جا رہا ہے؟؟ کیا کشمیر پراپرٹی سے جو آمدن ہوتی ہے وہ کشمیریوں پر خرچ کی جاتی ہے؟؟ پاکستان کی طرف سے کب اور کس پلیٹ فارم سے کشمیریوں کے لئے بات کی گئی؟ گلگت بلتستان جو کہ ہر لحاظ اور ہر قانون کے اعتبار سے کشمیر کا حصہ ہے اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا؟؟ اقصائی چن کو کس قانون کے تحت اور کس کی اجازت سے چین کو دیا گیا؟؟
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کو نمائندگی کیوں نہیں دی جاتی؟؟ کشمیریوں کے خون کا سودا کر کہ جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول میں کیوں تبدیل کیا گیا؟؟ آخر اس میں کیا حکمت چھپی تھی ؟ کہیں ادھر ہم اُدھر تم والی حکمت تو نہیں تھی؟؟ تاشقند معاہدے میں کشمیریوں کو کتنی نمائندگی دی گئی؟؟ اقوام متحدہ کی طرف سے قرار داد 1948 میں حق خودارادیت کے حوالے سے جو پاس کی گئی تھی اس کو مشروط کیوں قرار دیا گیا؟ 1947 میں بیس ہزارقبائلی کس قانون کے تحت کشمیر میں بھیج کر قبضہ کیا گیا؟ کشمیریوں کو ان کی تاریخ سے دور کیوں رکھا جا رہا ہے؟؟؟؟ مطالعہ کشمیر کو نصاب میں شامل کرنے کےلئے ہائی کورٹ نے فیصلہ بھی جاری کیا پھر بھی اس کو شامل کیوں نہیں کیا گیا؟؟ بابائے قوم مقبول بٹ شہید کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟؟ 5فروری2011 کے 4دن بعد افضل گورو کو سزائے موت دی گئی اس پر کیا اقدامات کیا گئے؟؟؟ نام نہاد اسمبلی آزاد کشمیر میں اس اسمبلی کی کتنی مانی جاتی ہے اور اس کو کتنے اختیارات دیے گئے ہیں؟؟ بقول وزیر صحت سردار قمرالزمان کے اس اسمبلی کے وزیر اعظم کو گھاس تک نہیں ڈالی جاتی۔ تو ہم کہاں سٹینڈ کر رہے ہیں؟؟ پاکستان اور ہندوستان نے کس قانون کے تحت اپنی فورسز کشمیر میں کشمیریوں پر مسلط کر رکھی ہیں؟؟ بس اتنا کہوں گا کہ یکجہتی کا ڈرامہ بند کیا جائے۔ جھوٹے اور کھوکھلے نعروں سے اب ہمیں مزید بےوقوف نہ بنایا جائے۔ پاکستان اور ہندوستان اپنا کنٹرول ریاست جموں کشمیر سے ختم کریں ورنہ مجھےوہ وقت بہت قریب نظر آرہا ہے جب بچہ بچہ بولے گا کشمیر پر حق ہے کشمیر کے رہنے والوں کا۔
مکمل تحریر >>

28 جنوری، 2015

انسانیت سے برتر کچھ نہیں

سید،سردار، راجہ، سدھن اور شیخ وغیرہ پر اگر غور کیا جائے تو ان سب ناموں کا مطلب ایک ہی ہے بڑا آدمی یا بادشاہ۔ ان ناموں نے انسانیت کو سوائے غلامی، قہر، ظلم، رسوائی اور دکھ کے کچھ نہیں دیا، برادرازم نے انسان کو نقصان کے علاوہ کچھ نہیں دیا نہ دے گا، البتہ ہمارے لیڈر حضرات ان کمزوریوں سے کافی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تعصب کی آگ لگا کر الیکشن جیت جاتے ہیں، مجھے اتنی سمجھ نہیں آتی آخر کب ہم لوگ اس عذاب سے نجات پائیں گئے؟
آپ اگرخود کو محض ایک انسان مانتے ہیں تو دراصل آپ خود کو7ارب میں گنتے ہیں اور اگر مذہبی لحاظ سے خود کو مانتے ہیں تو آپ خود کو کروڑوں میں مانتے ہیں. اسی طرح اگر آپ خود کو ریاستی لحاظ سے مانتے ہیں تو سمجھ لیں آپ لاکھوں میں جانے جائیں گے اگر آپ خود کو علاقائی شناخت سے نمایاں کرنا مناسب جانتے ہیں تو آپ کا شمارمزید کم ہو کہ ہزاروں میں آ جائے گا اور اگر آپ برادری کے لحاظ سے خود کو بہتر سمجھتے ہیں تویقین کیجئے دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل بھی آپ کو تلاش کرنے میں بہت زیادہ وقت لے گا اور عین ممکن ہے آپ کو تلاش ہی نہ کر پائے۔ اب آپ سوچیں اور بتائیں آپ کون ہیں؟ آئیں ہم اب ان خود ساختہ القابات سے بائیکاٹ کریں اور اپنے ناموں کے ساتھ یہ لکھنا چھوڑدیں۔ آئیں ہم سردار،راجہ، سدھن اورشیخ وغیرہ کے حصارتوڑ کے انسانیت کے رشتہ میں بندھ جائیں۔۔
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے