10 اگست، 2015

موٹرسائیکل

چندسال قبل تک موٹرسائیکل اساتذہ اور ڈاکٹرز کے زیادہ زیر استعمال ہوتا تھا یا پھر کچھ شوقین مزاج نوجوانوں کے۔ نئی شروعات کے بعد پاکستان میں جہاں بینک فنانسنگ کی وجہ سے ہر قسم کی گاڑیا ں عام ہوئیں وہاں پر پاکستان اسمبل سستے موٹر سائیکل اور لوکل سطح پر اقساط میں موٹرسائیکل کی دستیابی کی وجہ سے ہر خاص و عام کی دسترس میں یہ سواری آگئی۔ آج ایک عام مزدور بھی وقت کی بچت کے لئے موٹرسائیکل کو استعمال کر رہا ہے۔ موٹرسائیکل کی آمد سے قبل جب ایک پھیری والا سبزی فروش گدھے پر سبزی لاد کر دن بمشکل دو یا تین گاؤں میں پھیری لگاتا تھا۔ آج وہ ایک دن میں چھ سات دیہات میں پھیری لگا لیتا ہے۔ اسی طرح دیگر اشیاء کی پھیری لگانے والے بھی موٹرسائیکل کی سواری سے مستفید ہو رہے ہیں۔ معاشرتی اعتبار سے دیکھا جائے تو جن علاقوں میں عام گاڑیا ں آسانی سے نہیں ملتیں یا سفر مہنگا ہونے کی وجہ سے مشکلات تھیں۔ جس سے عام آدمی کو معاشرتی ذمہ داریاں ادا کرنے میں دشواری ہوتی تھی وہاں موٹرسائیکل کی دستیابی کی وجہ سے ایک عام آدمی اب معاشرتی ذمہ داریاں نبھانے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔برسبیل تذکرہ گاڑیوں اوربالخصوص موٹرسائیکلوں کی بہتات کی وجہ سے دیہات میں پگڈنڈی رستے تقریبا متروک ہوچکے ہیں۔ دیکھا جائے تو موٹرسائیکل کے سستا ہونے کی وجہ سے عام آدمی کو کافی فائدہ ہوا ہے۔ سفر ی وقت میں بچت ہوئی لیکن سفری اخراجات میں اضافہ البتہ یہ اخراجات کم وقت میں زیادہ مزدوری کی وجہ سے نقصان دہ حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ ایک عام فہم سی بات ہے کہ جس شئے کا زیادہ استعمال ہوتا ہے اس کے نفع و نقصان بھی اس حوالے سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سمجھ دار لوگ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نفع کے مواقع زیادہ کرتے ہیں جبکہ نقصان کے حادثا ت سے از حد بچنے کی تدبیر کرتے ہیں۔
آج کل ہر دوسرے گھر میں کم از کم ایک موٹرسائیکل یا سواری موجود ہے۔ حادثہ کا امکان ہر قسم کے سفر میں ممکن ہے لیکن موٹرسائیکل کی سواری اس کا آسان شکار اور انتہائی زیادہ نقصان دہ ذریعہ ہے۔ موٹرسائیکل کے حادثہ کی صورت میں موٹرسائیکل سواروں کو زیادہ سے زیادہ شدید چوٹیں آنے کا امکان ہوتا ہے جبکہ ان حادثات میں کئی موٹرسائیکل سوار جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ آئے روز بڑھتے حادثات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ان حادثا ت کے امکانات کو کم کرنے کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا جائے۔ ڈرائیونگ سکولوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔ ڈرائیونگ نصاب کو جدید کیا جائے۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لئے انتہائی ایمان دار عملہ کو تعینا ت کیا جائے جوکہ ناممکن نہیں ہے۔ حادثہ کے فریقین میں راضی نامہ کے باوجود بغیر ڈرائیونگ لائسنس اور تیز رفتاری کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں کڑی سزاؤں کی قانون سازی کی جائے۔ ٹریفک پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ اور پیٹرولنگ پولیس وارڈنز سے تعاون نہیں کرتے۔ وارڈنز کی سفارش کے باوجود نانا رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی۔ ذرائع کے مطابق جہاں دیگر محکمے ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے وہاں سیاسی مداخلت بھی بہت زیادہ ہے۔ بقول ذرائع چالان بک کھولنے سے پہلے ہی سفارشی کالز کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ محکمہ قومی شاہرات کے ارباب حل وعقد بھی آبادیوں اور فلائی اوورز کے قریب اسپیڈ بریکرز کی تنصیب جلد از جلد کریں۔روات کلر سیداں روڈ پر اکثر حادثات مناسب مقامات پر اسپیڈبریکرز نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ ہر حادثہ کے بعد محکمہ قومی شاہرات کے دفتر سے جب رابطہ کیا جاتاہے تو وہاں سے ’’کر رہے ہیں‘‘ جیسا بکواس جواب دیا جا تاہے۔
موٹرسائیکل حادثا ت کی ایک بڑی وجہ راقم کے مطابق والدین یا سرپرستوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے آج آپ کو اپنے ارد گرد بارہ تیرہ سال کے نوعمر بچے بھی موٹر سائیکل چلاتے نظر آئیں گے۔ ٹین ایجرزریس لگاتے اورون ویلنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل استعمال کے لئے نہ دیں۔ ریس اور ویلنگ والے بچوں کو سختی سے اس امر کا پابند کریں کہ وہ موٹر سائیکل پر کرتب بازیاں نہ دکھائیں۔ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ کم عمر ان طلباء پر پابندی لگائیں جو موٹرسائیکل پر سکول آتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تربیت میں ٹریفک قوانین اور ذمہ داری کا خصوصی خیال رکھیں۔ احتیاط آپ کے لئے،آپ کے بچوں کے لئے اور معاشرہ کے لئے باعث آفیت ہو گی ورنہ کف افسوس ملنے کا وقت آپ پر بھی آسکتا ہے۔
مکمل تحریر >>

11 جون، 2015

اور یہ ہوتی ہے بندر بانٹ


واہ جی واہ کیا تقسیم ہوئی یونین کونسلز میں صرف گف کی بات کریں گے کہ نندنہ منگرال والوں کا پہلے ایک کلومیٹر دور یونین کونسل میں جانا ہوتا تھا وہ اب تین تین گاڑیاں بدل کر دس کلومیٹر دور جایاکریں گے، یہی حال تقریباً سلجور والوں کا ہوا کرے گا۔ البتہ بمہ گنگال والوں کے لئے صورتحال پرانی ہی رہے گی جتنا دور گف اتنا ہی شاید بھلاکھر۔
واہ رے مسلم لیگ! اپنے راہنماوں کو نوازنے کے لئے ہزاروں لوگوں کو کانٹوں کی سیج پر لا بٹھایا۔
مولاخوش رکھے
یاد رہے یہ واقعات تحصیل کلرسیداں ضلع راولپنڈی کے ہیں جوکہ چوہدری نثار علی خان کا حلقہ انتخاب ہے۔
مکمل تحریر >>

21 مارچ، 2015

قیام پاکستان

قیام پاکستان کی تحریک میں انتہائی اہم موڑ 23مارچ 1940کا تھا ۔اس دن لاہورمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منٹوپارک موجودہ اقبال پارک میں ہوا ۔ اس اجلاس میں دوٹوک انداز میں یہ اعلان کیا گیا کہ اب ہماری تحریک کا مقصد صرف اور صرف ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست ہے،اس سے کم پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی سمجھوتہ نہ ہو گا۔ یہاں سے یہ نعرہ زبان زد عام ہو ’’لے کے رہیں گے پاکستان ،بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘۔اس اجلاس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اخبارات نے اس قرار داد لاہور کے ’’قرار داد پاکستان ‘‘کا نام دے دیا اور یوں مسلمانوں میں بھی قرار داد پاکستان ہی چل نکلا۔ اس اجلاس کے بعد قوم کو آزادی کی منزل قریب نظر آنے لگی ان حالات نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ تحریک آزادی میں اس نئے جوش و ولولہ کی وجہ سے انتہاء درجہ کی تیزی آگئی۔ ہر خاص و عام ،مردوزن،کسان وطالبعلم الغرض ہر شبعہ زندگی سے وابستہ لوگوں کی زبان پر ایک ہی نعرہ آگیا کہ ’’لے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘ ۔یہ جوش و ولولہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔اس دوران دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی جس سے سلطنت برطانیہ کمزور ہو گئی۔ اور ساتھ ساتھ تحریک آزادی بھی شدید ہوتی گئی اور یوں مسلمانان برصغیر کے دلوں کی خواہش 14 اگست 1047میں پوری ہوئی اور اس دنیا پر ایک نیا مسلم ملک ’’پاکستان ‘‘ معرض وجود میں آیا۔ایک ایسا ملک کہ جس نے علاقائی،لسانی اور قبائلی عصبیتوں کو شکست دی۔ جس نے مسلم نظریہ کی بنیاد پر آزادی حاصل کی۔پاکستان کے ساتھ محبت کا یہ عالم تھے کہ جو علاقے پاکستان میں شامل نہ ہو سکے وہاں سے لاکھوں مسلمان اپنا گھربار،کاروبار اور جائیدادیں تک چھوڑ کر نئے اور آزاد ملک کے جانب مہاجرت پر عمل پیراء ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنے عقیدہ کے مطابق آزاد زندگی بسر کر سکیں۔اس ہجرت میں مالی نقصان تو ہوا ہی ہوا لیکن لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے بھی گئے،بچے یتیم ہوئے، بوڑھوں کے سہارے تہ تیغ ہوئے،عورتیں بیوہ ہوئیں ان سب نقصانات کے باوجود وہ سب اس ارض پاک پر پہنچ کے مطمئن ہوئے کہ ایک آزاد اور اپنے ملک میں آنیوالی نسلیں سکھ سے رہیں گے اور اپنے عقیدہ کے مطابق زندگی گزاریں گئیں۔
جن علاقوں پر مملکت پاکستان قائم ہوئی تھی اس میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد بھی رہائش پذیر تھے اس لئے قائد اعظم نے فرمایا کے اس نئے ملک میں اقلیتوں کو مذہبی حوالے سے ہر قسم کی آزادی ہو گی ۔ان کی عبادت گائیں محفوظ ہوں گئیں، ان کو اپنے رسوم ورواج اور عقیدہ کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہو گی۔کیونکہ اسلام کی اولین ریاست جو رحمت اللعالمینؐ نے عرب میں قائم کی تھی اس میں بھی غیر مسلموں پر کوئی جبر نہ تھا اور وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہ کر زندگی گزار سکتے تھے۔قیام پاکستان کے بعد بالخصوص پنجاب اور دیگر علاقوں سے ہندو اور سکھ تو ہجرت کرگئے اور کچھ یہاں ہی رہ گئے مگر عیسائیوں کے لئے ہندوستان یا پاکستان ایک ہی جیسے تھے کیونکہ دونوں جگہوں پر ان کی آبادی اقلیت میں تھی لہذا جو عیسائی پاکستان کے حدود میں تھے وہ یہیں کے ہو کے رہے۔
آج جب پاکستان کو آزاد ہوئے سڑسٹھ برس سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے تو جب ہم اقلیتوں کی جانب دیکھتے ہیں تو حالات کچھ یوں نظر آتے ہیں ۔ نہ ان کے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں، نہ ان کو اچھی نوکریاں ملتی ہیں اور نہ ہی ان کی بسیتاں انسانی بستیاں کہلانے کے لائق ہیں،ا ن کی عبادت گاہیں آئے دن فسادیوں کی زد میں ہیں،غیر مصدقہ اطلاعات پر توہین مذہب کے ذریعے ان کی گردنیں اتارنا انتہائی آسان ہے۔ آج جب ہم غیر مسلموں کی یہ حالت غیر دیکھتے ہیں تو شرمساری و ندامت کے باعث سر اٹھایا نہیں جاتاکہ اول تو اسلام کی رو سے انسانی حقوق حاصل ہیں اور دوئم جس ہستی کی قیادت کیوجہ سے ہم اس آزاد مملکت کے شہری ہیں یعنی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اقلیتوں سے وعدہ کی پاسداری بھی نہیں کر سکے۔لیکن اتنا بھی پریشان و نادم ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ ملک ’’مسلمانوں‘‘ کی آزادی وسہولت کے لئے قائم کیا گیا تھا۔مسلمانوں کے آزادی کے لئے لاکھوں لوگ شہید ہوئے تھے اور ہزاروں عصمتیں قربان ہوئیں تھیں ۔لیکن ان مسلمانوں کو ہی اپنے ’’مسلمان بھائیوں ‘‘ سے امان حاصل نہیں ہے۔ مسلمانوں کی عبادت گاہیں مسلمانوں ہی کے ظلم کا شکار ہیں،مسلمانوں کی بیٹیاں ’’مسلمانوں‘‘ ہی کے لئے ’’مباح ہیں،مسلمانوں کے کٹے سر ’’مسلمانوں‘‘ ہی کے لئے فٹ بال کھلینے کا ذریعہ ہیں۔اس لئے میں غیر مسلموں سے زیادہ شرمندہ نہیں ہوں ۔
آج ہم پھر اپنی آزادی و طاقت کے مظاہرہ کے لئے ’’یوم پاکستان‘‘ منانے کے لئے پر عزم ہیں نہ صرف پر عزم ہیں بلکہ پریڈ ایونیوپر فوجی پریڈ کا اہتمام کر رہے ہیں۔کیا یہ طاقت ہماری آزادی ہے؟ نہیں جب تک ہم بطور مسلمان اس ملک میں محفوظ نہیں اور غیرمسلم بطور انسان محفوظ نہیں ہیں اس وقت تک قیام پاکستان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہر ایک فرد کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا نہیں تو ہم ظلم کے غلام رہیں گے نہ صرف ہم غلام رہیں گے بلکہ آنیوالی نسلیں بھی غلام رہیں گئیں اور اس ظلم کی وجہ سے ہم آنیوالی نسلوں کے قصوروار ہوں گے۔
فوجی طاقت بجا کیونکہ ہماری سرحدوں کی حفاظت ایک جدید منظم اور طاقتور فوج ہی کر سکتی ہے۔لیکن ہمیں قانونی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مضبوط ہونا ہو گا۔عقیدہ کے نام پر جہالت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔مسالک کے درمیان فروعی اختلافات کو وجہ قتل اور تکفیر بنانے والوں کو تختہ دار پر چڑھانا ہو گا۔اسلام کے آفاقی امن وسلامتی کے پیغام کو اپنانا ہو گا۔قائد اعظم کے افکار کے مطابق اس ملک کے نظام کو چلانا ہو گا۔بصورت دیگر تباہی ہمارا مقدر ہو گی اور ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں!
مکمل تحریر >>

3 مارچ، 2015

ترقیاتی منصوبے۔ کامیابی کی ضمانت؟

ہمارے بلدیا ت کومضبوط کرنے کے بجائے قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کو علاقے کیلئے ترقیاتی فنڈز کا اجراء کیا جاتا ہے تا کہ ان کا ’’کلہ‘‘ مضبوط رہے۔یہ سلسلہ بالخصوص ضیاء الحق کے مارشل لاء کا کارنامہ ہے جو بدقسمتی سے نہ صرف جمہوری ادوار میں جاری رہا بلکہ مزید مستحکم ہوا۔آج کل بھی جہاں اراکین اسمبلی کو سینیٹ کے انتخابات کیوجہ سے لائق ملاقات سمجھا جا رہا ہے وہاں تقریبا تمام صوبائی حکومتیں بشمول وفاق ان کے صوابدیدی فنڈز بھی جاری کر ہی ہیں۔
حلقہ این ۔اے باون اس حوالے سے میڈیا کی زینت بنا رہتا ہے کہ یہا ں دیگر حلقہ جات کی نسبت زیادہ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ان ترقیاتی منصونہ جات کی بعض اوقات از حد تعریف کر کے یہ منظر نامہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس حلقہ سے ملحق کچھ علاقے انتہائی بیقرار ہیں کہ ان کو کب حلقہ این ۔اے باون کا حصہ بنیں تاکہ ان کے کام بھی ہوں۔خیر اپنے اصل مضمون کی طرف آتے ہیں کہ انہی ترقیاتی منصوبہ جات کیوجہ سے یہ نظریہ پیش کیا جا رہا ہے کہ حلقہ این۔اے باون موجودہ ایم این اے کے لیئے مختص ہو چکا ہے۔لہذا اب کوئی امیدوار یہاں سے منتخب نہیں ہو سکتا۔ صرف ترقیاتی منصوبہ جات کی بنیاد پر جیت کے نظریہ کو علاقہ کے سابق انتخابات اور ترقیاتی کاموں کا تجزیہ کیا گیا تو اس نظریہ کو کسی حد تک غیر منطقی پایا۔
1988میں جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت تشکیل پائی تو اس حکومت میں وفاقی وزیر صنعتی پیداوار راجہ شاہد ظفر نے مانکیالہ کے مقام پر ریلوے کی اراضی پرخشک بندرگاہ کا منصوبہ بنایا اور اس کا افتتاح اس وقت کی وزیر اعظیم شہید بینظر بھٹو نے کیا۔اس موقع پر روات سے کلرسیداں کے لئے گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری بھی دی گئی۔ان میگا پروجیکٹس کے باوجود 1990کے انتخابات میں راجہ شاہد ظفر الیکشن ہار گئے۔سابق صوبائی حلقہ پی پی سات میں پیپلز پارٹی کے دوسرے دورے حکومت میں تعلیمی اداروں کی تعمیر و توسیع،پختگی گلیات،فراہمی آب کے منصوبہ جات،بجلی فراہمی اور ٹیلی فون کی سہولیات کے متعدد منصوبے مکمل کروائے گے جبکہ حلقہ میں میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں بھی فراہم کی گئیں۔ان تمام تر ترقیاتی منصوبہ جات اور ذاتی طور پر چوہدری خالد کی اچھی شہرت بھی ان کو 1997میں شکست سے نہیں بچا سکی۔’’دھمیال ہاؤس‘‘ کے راجگان نے ق لیگ کے دور حکومت میں روات کلرسیداں گیس پائپ لائن بحالی،مانکیالہ اوور ہیڈ برج کی تعمیر اور کلرسیداں کو تحصیل کادرجہ دلوانے کے باوجود تاحال فتح کی ہما سے ان کا سر محروم ہے۔یاد رہے کہ دھمیال ہاؤس والوں نے اس دور میں بلدیات کے ذریعے بھی کافی سارے کا م کروائے۔اسی طرح اگر گوجر خان کی بات کی جائے تو سابق دور حکومت میں گوجر خان بھر میں سوئی گیس فراہمی،بجلی کی تنصیب،ذیلی اور مرکزی شاہرات کی ازسر نوتعمیر،تعلیمی ادارہ جات کو فنڈز کی فراہمی، گلیات کی پختگی حتی کہ سرکاری نوکریاں بھی سینکڑوں افراد کو دی گئیں۔راجہ پرویز اشرف نے گوجرخان کو اس حد تک فوقیت دی کہ ان کو جیالے بطور طنز وزیر اعظم پاکستان کے بجائے ’’وزیراعظم گوجرخان‘‘ کہا کرتے تھے۔ ان تمام تر منصوبہ جات کے باوجود راجہ پرویز اشرف 2013کے انتخابات ہار گئے ہیں۔
مندرجہ بالا تمام امثال یہ ثابت کرتی ہیں کہ صرف اور صرف ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر کسی بھی علاقہ پر مخصوص شخصیت کی گرفت قائم رہنا ناممکن ہے۔ہار جیت میں ترقیاتی منصوبہ جات کلیدی حیثیت نہیں رکھتے۔شاید اسی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چوہدری نثار علی خان گذشتہ دورہ کلرسیداں میں خلاف معمول اور خلاف توقع مسلم لیگی کارکنان کے گھروں میں گئے۔اس دورہ میں چوہدری نثار علی خان نے حزب اختلاف کے انداز میں خطاب کیئے۔جبکہ ساتھ ساتھ اپنے ترقیاتی کاموں اور ذاتی کردار کی بات کرتے رہے تاکہ جب بھی انتخابی دنگل ہو تو اہل حلقہ سماجی رویے اور عمرانی اصولوں کے برخلاف ان ہی کو منتخب کریں۔
راقم سمجھتا ہے کہ چوہدری نثارعلی خان جو کہ انتہائی تجربہ کار سیاستدان ہیں وہ ان سماجی حرکیات کا علم باخوبی رکھتے ہیں کہ عمومی حکومتی کارکردگی کے اثرات ہر امیدوار کے ووٹ بینک کو متاثر کرتی ہے۔ان عمومی اثرات و حالات کے علاوہ اب ’’پنجابی پگ کے داغ‘‘ کا نعرہ بھی اپنی وقعت کھو چکا ہے۔’’دو پارٹی‘‘ نظام کے بجائے اب تیسری پارٹی بھی ’’ان‘‘ ہو چکی ہے۔ تیسری پارٹی کی قیادت گوپہ درپہ غیر سیاسی فیصلے کر چکی ہے اس کے باوجود اس کی حیثیت مسلم ہو چکی ہے۔جس کی وجہ سے مقابلہ کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے اور اب ’’مخصوص نشت ‘‘ کا تصور مشکوک ہوچکا ہے۔2013کے انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ چوہدری نثارعلی خان کے مخالف پڑھنے والاووٹ مجموعی طور پر خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔شاید انہی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے انتہائی طور پر قبل از وقت انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔یا پھر یہ بھی ممکن ہے کو چوہدری نثار علی خان کو عنقریب انتخابات کا میلہ سجتا نظرآرہا ہے۔جبکہ تیسری پارٹی کے خوف بھی کہا جاسکتا ہے۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ شاید آنیوالے انتخابات میں چوہدری نثار علی خان کو ایک حلقہ تک ’’ محدود ‘‘ کیا جائے۔وجہ جو بھی ہو ’’ راوی ہر طرف چین کی بانسری بجاتا نظر نہیں آرہا‘‘۔
مکمل تحریر >>

26 فروری، 2015

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی

چوہدری نثار علی خان اس طرح دفاع کر رہے ہیں مولوی عبدالعزیز کا کہ "کیا ہی کہنے"۔
موصوف کا کہنا ہے کہ مولوی صاحب نے معافی مانگ لی ہے"وہ بھی تحریری"۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اس کو تحریری معافی سے قبل اتنا عرصہ گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
دوسرا
یہ مولوی تو پہلے بھی معافیاں مانگ چکا ہے؟
پھر یہ کوئی ٹریفک سگنلز کا مسئلہ نہیں بلکہ "ریاست" کی اتھارٹی کا معاملہ ہے اور امید ہے کہ "ریاست " کی اتھارٹی کے"ذمہ داران " اس کا کوئی حل نکالیں گے
 یا پھر کسی سانحہ پشاور کا انتظار کیا جائے گا؟
باقی لدھیانوی اور جیو نے تو کوئی جرم ہی نہیں کیا۔ انہوں نے تو صرف شیعہ کو گالیاں بکی ہیں اگر دو تین سو شیعہ بیک وقت مر بھی جائیں تو یہی رویہ ہو گا کہ "ابھی تو پارٹی شروع ہوئی"۔
مکمل تحریر >>

23 فروری، 2015

سینیٹ انتخابات‘ چوہدری تنویر کی سیاست میں دوبارہ آمد

جیسے جیسے مارچ قریب آرہاہے ایوان بالا کے انتخابات کے حوالے سے ماحول میں گرمی آرہی ہے۔پنجاب کی گیارہ کی گیارہ نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کی کامیابی کے واضح آثار ہیں۔فی الحال تک مسلم لیگ ن نے چھ ٹکٹ راولپنڈی ڈویژن کو دیئے ہیں۔جن میں سینئیر سیاستدان اور بزرگ لیگی راہنما راجہ ظفر الحق ،پرویز رشید،جنرل (ر) عبدالقیوم ،چوہدری تنویر خان اور نجمہ حمید شامل ہیں۔مسلم لیگ ن سندھ کے راہنما نہال ہاشمی کو بھی پنجاب سے منتخب کروایا جا رہا ہے جنہوں نے اپنا ووٹ راولپنڈی میں رجسٹرڈ کروایا ہے۔اس لئے ان کو بھی راولپنڈی ڈویژن کا امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے۔پنجاب سے ن لیگ کے امیدواران ایوان بالا پر نظر دوڑائی جائے توجنوبی پنجاب سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہونے کے باوجود وہاں سے سرائیکی پس منظر کا کوئی امیدوار نظر نہیں آتا۔جو یقیناًسرائیکی وسیب ایسے پسماندہ علاقہ سے زیادتی کے مترادف ہے۔مسلم لیگ ن کے نصف سے زائد امیدواروں کا تعلق راولپنڈی سے تعلق ہونے کا پس منظر جاننے کے لئے ضروری ہے کہ قارئین کو بتایا جائے ضلع راولپنڈی میں کی انتخابی پوزیشن کیا ہے اور ماضی میں کیا تھی۔قومی انتخابات 2002میں ضلع راولپنڈی سے مسلم لیگ ن ایک قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔2008کے انتخابات میں چھ قومی اور نو صوبائی اسمبلی کی نشستیں مسلم لیگ ن کے حصہ میں آئیں جبکہ بعد ازاں مسلم لیگ ق کے یونینفیکیشن بلاک کے ذریعے اور دو اور ممبران صوبائی اسمبلی مسلم لیگ ن کا حصہ بنے۔2013کے انتخابات میں چار قومی اور آٹھ صوبائی نشستوں پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی ۔یوں 2013کے انتخابات میں عمومی فضا مسلم لیگ ن کے حق میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن نے 2008کے انتخابات کی نسبت دو قومی اور تین صوبائی نشستیں کم حاصل کیں۔2008کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک قومی اور دو صوبائی جبکہ مسلم لیگ ق نے تین صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان دونوں پارٹیوں کے اتحاد کے باوجود 2013میں ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکیں۔2013میں ضلع راولپنڈی میں مسلم لیگ کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف نے دو قومی اور چھ صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ قومی اسمبلی ایک نشست پر شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کامیابی حاصل کی۔
امید واثق یہ ہے کہ یہی ہے کہ درجہ بالا حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن نے ایوان بالا کے زیادہ ٹکٹ راولپنڈی کو دیئے ہیں تاکہ پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو روکا جا سکے اور راولپنڈی کو دوبارہ مسلم لیگ ن کے لئے اور محفوظ کیا جائے۔شنید یہ بھی ہے کہ راجہ ظفر الحق کو چیئرمین کو ایوان بالا نامزد کیا جائے گا۔خلق خدا ان امیدواران ایوان بالا کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے اندازے قائم کر رہی ہے۔ جن کی حقیقی ہونے میں شک کیا جانا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔
تین امیدواروں کے حوالے سے یہاں کچھ پس پردہ عوامل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔سب سے پہلے بزرگ اور سینیئرسیاستدان راجہ ظفر الحق کے حوالے دیکھتے ہیں۔راجہ ظفرالحق اس قبل بھی ایوان بالا کے رکن ہیں۔راجہ ظفر الحق کے بیٹے راجہ محمد علی حلقہ پی پی 2سے اس وقت رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔راجہ محمد علی 2002میں بھی رکن صوبائی رہ چکے ہیں۔2013کے انتخابا ت میں راجہ محمد علی کی مخالفت وہاں سے امیدوار قومی اسمبلی اور موجودہ وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کھل کی ۔شاہد خاقان عباسی نے حلقہ پی پی 2سے مٹور ہی سے آزاد امیدوار راجہ صغیر کی کھلم کھلا حمایت کی اور یہ مخالفت تا حال جاری ہے جو مستقبل میں ن لیگ کے لئے نقصان دہ ہے۔عوامی حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ راجہ محمد علی کو کوئی صوبائی وزارت نہ دینا بھی راولپنڈی کی ن لیگ کے اندورنی اختلافات کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ان تمام شکوک و شبہات کو رفع کرنے اور اختلاف کو دبانے کے لئے راجہ ظفرالحق کو دوبارہ ممبر ایوان بالا اورامید ہے کہ چیئرمین ایوان بالا ہوں گے۔سنیارٹی اور پارلیمانی تجربہ کی بنیاد پر راجہ ظفرالحق ہی اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس موزوں چیئرمین ایوان بالا ہو سکتے ہیں۔
جنرل (ر) عبدالقیوم سابق گورنر پنجاب،سابق چیئرمین پی او ایف واہ اور سابق چیئرمین اسٹیل ملز رہ چکے ہیں۔ان تمام عہدہ جات پر سابق جنرل نے ایک اچھا منتظم ہونے کی حتی المقدور کوشش کی ہے۔جس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔یہ تمام عہدہ جات جنرل قیوم کو سابق آمر جنرل مشرف نے ودیعت کیئے تھے۔سابق آمر جنرل مشرف کو آرٹیکل چھ کے تحت سزا دلوانا میاں برادران کی دلی خواہش ہے البتہ مشرف کے کئی ایک حواری اس وقت میاں برادران کے نفس ناظقہ بنے ہوئے ہیں۔راقم کا خیال یہ ہے کہ جنرل (ر) قیوم کو چکوال میں معروف صحافی و سیاستدان محترم المقام ایاز امیر کے نعم البدل کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔جنرل(ر) قیوم ایک اچھے منتظم ہو سکتے ہیں لیکن ایاز امیر کا نعم البدل قطعا نہیں۔
سب سے حیرت انگیز ٹکٹ سابق ایم پی اے اور محترمہ کلثوم نواز کے راولپنڈی کے اولین جلسہ کے میزبان چوہدری تنویر خان کا ہے چوہدری تنویر اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں2013کے انتخابات میں چوہدری تنویر کے آبائی حلقہ پی پی چھ کو چوہدری نثار علی خان کی ضد کی وجہ سے اوپن رکھا گیا تھا اور یہاں سے چوہدری نثار علی خان آزاد امیدوار کی حیثیت سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو ئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں جن نشستوں پر دھاندلی پر اصرار کر رہی ہے ان میں سے یہ حلقہ بھی شامل ہے۔ان اختلافات کی بنیاد پر چوہدری تنویر خان ایک عرصہ سے ن لیگ کی سیاست سے کنارہ کش تھے۔ان اختلافات کو ن لیگ کی پنڈی میں شکست کو ایک وجہ سمجھا جا رہا ہے ۔شاید انہی اختلافات کا ازالہ کرنے ک ے لئے میاں برادران نے چوہدری تنویر خان کو ٹکٹ دیا ہے۔اسی بنیاد پر خلق خدا میں یہ چہ میگوئیاں چل رہی ہیں کہ شاید اسی وجہ سے اپنے حالیہ دورہ کلرسیداں میں چوہدری نثار علی خان اپنی حکومت کے خلاف ہی پھٹ پڑے اور حکومت کو ناکام قرار دیدیااور یہاں تک کہا کہ میں حکومت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار کا ادا کر رہا ہوں ۔اندر کی خبر رکھنے والے کہہ رہے ہیں کہ اس ٹکٹ کے علاوہ راجہ قمرالاسلام ایم پی اے حلقہ پی پی پانچ کی بطورچیئرمین ایجوکیشن ٹاسک فورس تعیناتی بھی اہم ہے۔یہ چیئرمین شپ صوبائی وزیر کے ہم پلہ ہوتی ہے۔اس تعیناتی پر چہ میگوئیاں اس لئے ہو رہی ہیں کہ ایم پی اے مذکور کو حلقہ میں ایک بے اختیار رکن اسمبلی متصورکیا جاتا رہا ہے۔ علاقہ میں تمام اہم ترقیاتی منصوبہ جات پر چوہدری نثار علی خان کی تختیاں لگی ہیں جبکہ ان کے افتتاح بھی غیر منتخب افراد کرتے رہے ہیں۔راجہ قمرالاسلام کے ذاتی ووٹ بینک کا علاقہ کی سڑک کی صورتحال کچی سڑک سے بھی بدتر ہے۔جس کی از سر نو تعمیر کا مطالبہ اہلیان علاقہ متعدد بار کر چکے ہیں اس اہم معاملہ پر تاحال شنوائی نہ ہوئی ہے۔بادی النظر میں یہی منظر تشکیل پا رہا ہے کہ ن لیگ ان اختلافا ت کو ختم کرنا چارہی ہے جبکہ ان اختلافات کا بنیادی مرکز چوہدری نثار علی خان کی ذات کو سمجھا جاتا ہے۔چوہدری تنویر کا ایوان بالا کا ٹکٹ ،راجہ قمرالاسلام کی بطور چیئرمین ٹاسک فورس تعیناتی اور چوہدری نثار کا اپنے حلقہ کے دورہ کے موقعہ پر میڈیا اور عوامی اجتماعات میں اپنی حکومت پر تنقید حالا ت کا رخ تبدیل ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے