5 ستمبر، 2015

کوئی حماقت سی حماقت..!!

مجهے یقین ہے کہ چرچل آج زندہ ہوتا تو اپنے شہرہ آفاق قول کہ "جنگ جیسا نازک کام جرنیلوں کے بھروسے پر نہیں چهوڑا جاسکتا" میں "جرنیلوں" کے بعد "ایٹمی سائنس دانوں" کا اضافہ ضرور کرتا۔۔
خواتین و حضرات؛ بقول سابق فضائیہ چیف ائیر مارشل اصغر خان انڈیا کے خلاف ہر جنگ خود چهیڑ کر ہربار منہ کی کهانے والے "سورماؤں" کے بعد نام نہاد سائنسدان بهی شاہراہ حماقت پر بگٹٹ رواں دواں ہوگئے۔۔
قوم کو 1965میں معلوم نہیں کونسی جیتی جنگ کے جشن فتح کے نشے میں مست پا کر، عالمی سطح پر تسلیم شدہ سائنسی معیار کی رو سے "ایٹمی ٹیکنیشن" سے زیادہ مقام نہ رکهنے والے ثمر مبارک مند کو ایک اور ایٹمی ٹیکنیشن اور خود ساختہ "محسن پاکستان" عبدالقدیر خان سے ہتھ جوڑی کے بعد الباکستان سے دس گنا بڑی طاقت انڈیا کے ساتھ پنجہ آزمائی کا شوق جا چرایا فرماتے ہیں "بهارت ہمارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں؛ ہمارے پاس سینکڑوں ایٹم بم موجود ہیں، چند سیکنڈ میں پورے بهارت کو نیست و نابود کر دیں گے"... ایتهے رکھ
بندہ پچهے "پتر جی؛ 1971 میں تو چلئے آپ کے پاس ایٹم بم نہیں تها، یہ سیاچن اور کارگل کی معرکہ آرائیوں میں نیست و نابود ہونے سے کون بچا اور وہ بهی امریکہ بہادر کی منت سماجت کے بعد..؟؟"
جی ہاں؛ وہی امریکہ بہادر جس کے ترلے کرنے کے بعد "معاہدہ تاشقند" کی شرمناک شرائط تسلیم کر کے آپ 1965 میں بمشکل ملک بچانے میں کامیاب ہو سکے تهے اور اسی لئے ہرسال 6 ستمبر کو آپ "یومِ فتح" کی بجائے "یومِ دفاع" کا درست نام دینے کے باوجود اپنے تئیں "جشن فتح" کا سماں پیدا کر کے خوشیاں منا کر خود کو بے وقوف بنا رہے ہوتے ہو؛ ورنہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اگر جنگ خدانخواستہ 18 ویں دن میں داخل ہو جاتی تو ملک کا بچنا محال تھا ..
ثمر مبارک مند بهی شاید ہمارے سورماؤں کی طرح اس "خوش فہمی" میں مبتلا دکهائی دیتے ہیں کہ بهارت پورے کا پورا آنکھیں بند کئے سورہا ہے کہ ہم جب چاہیں، اسے غفلت میں جا لیں گے اور وہ ہمارے حملے کی اطلاع پاتے ہی ہم سے پہلے ہی ہم پر چڑھ نہیں دوڑے گا ...
ثمر مبارک کو اب کون جا سمجھائے کہ "حضور؛ ایٹم بم کا استعمال بچوں کا کھیل نہیں اور اگر خدانخواستہ اس کی کبهی نوبت آ بهی جاتی ہے تو انڈیا پاکستان جیسے دس ممالک کو اکٹھے صفحہء ہستی سے مٹانے جتنی اہٹمی و حربی صلاحیت ضرور رکهتا ہوگا" ....
جنگ کهیڈ نہیں ہوندی ٹیکنیشناں دی
مکمل تحریر >>

4 ستمبر، 2015

بوٹ پالش کروا لو، پرانے نویں بنڑوا لو..!!

جی ہاں خواتین و حضرات؛ بقول سپریم کورٹ بهارت کو اصل خطرہ جن کی حربی صلاحیت سے نہیں بلکہ رئیل اسٹیٹ بزنس کی مہارت سے لاحق ہے کہ کہیں "ان" کا ڈی ایچ اے پھیلتا پھیلتا امرتسر تک نہ پہنچ جائے؛ رئیل اسٹیٹ اور دلیہ سازی جیسے شعبوں میں کامرانیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اب وہ "صنعت بوٹ پالش" میں نت نئے ماہرین فن کی نوک پلک سنوارنے میں نئے نئے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں ..
یوں تو اپنے "آجرین" کے سامنے "نمبر ٹانگنے" کا مقابلہ وطن عزیز کے تقریباً تمام صحافیوں کے علاوہ نواز شریف اور عمران خان جیسے "تراشیدہ" سیاست دانوں کے درمیان بهی کافی دنوں سے جاری و ساری ہے، اور اب تک "تجربہ کار" نواز شریف کا پلہ اس میدان میں بظاہر بهاری دکهائی دے رہا تھا لیکن "مہربانوں" کی جانب سے سندھ کو فتح کر کے موصوف کی جھولی میں ڈال دینے کے وعدوں کا خود کو اہل و حق دار ثابت کرنے کیلئے اندرون سندھ پہنچنے والا "خان اعظم"، حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کے مصداق اب شریف البنجاب کو کہیں پیچھے چھوڑتا محسوس ہورہا ہے ..
شوکت خانم ہسپتال کیلئے بیرون ملک سے بھجوائے گئے تین ملین ڈالرز کا حساب کتاب مانگنے کے "جرم" میں فنڈنگ کرنے والے کو دھکے اور گالیاں دے کر بنی گالہ پیلیس سے باہر پهنکوانے والا کرپٹ خان شکار پور میں بیٹھ کر خاکیوں کی زبان میں "سندھ کو سب صوبوں سے زیادہ کرپٹ" کہتا نظر آتا ہے تو کندھ کوٹ پہنچ کر "ازخود اختیارات" کے تحت "رینجرز کو کرپشن کے خلاف کارروائی" کی ترغیب مزید دے کر کرپٹ ترین جرنیلوں سے شاباش وصول کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے ہوئے بهول جاتا ہے کہ وہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر صحت شوکت یوسفزئی کو اس کی تسلیم شدہ کرپشن پر نہیں بلکہ صوبائی محکمہ صحت کیلئے ادویات اور آلات جراحی کی سپلائی کے ٹهیکے پارٹی کے جنرل سیکرٹری ترین کی کمپنی کی بجائے (وزیر موصوف کی) اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو دینے پر معزول کر چکا ہے ...
اور تو اور کنفیوزڈ خان کو حسبِ عادت یہ بهی یاد نہ رہا کہ رینجرز سمیت تمام دفاعی اداروں کے فرائض منصبی صرف "دہشت گردی کا قلع قمع اور امن و امان کی بحالی" تک محدود ہیں اور نا ملکی آئین اور ناہی سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مینڈیٹ کی رو سے کرپشن کے خلاف، خالص انتظامیہ کے دائرہ کار میں آنے والے تمام تر اقدامات رینجرز کی ذمہ داری میں کسی بھی طرح شمار کئے جاسکتے ہیں ...
مکمل تحریر >>

3 ستمبر، 2015

منطقی انجام..!!

"ضربِ سندھ (المعروف کراچی آپریشن) کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا"؛ خاکی شریف کے ساتھ سفید شریف کا مکمل اتفاق ..
جی ہاں؛ آپ بالکل درست سمجھ رہے ہیں، بعینہ وہی "منطقی انجام"، بهکے بنگالیوں سے جان چھڑانے کیلئے جس تک "آپریشن مشرقی پاکستان" کو پہنچایا گیا تها .. نئے ہوں یا پرانے یہ "اجڈ" سندهی بهلا بنگالیوں سے اچهے ہیں ..؟؟
نہ ہم اپنے پالتو دہشت گردوں کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی خود بنائے "ازلی دشمن" کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں؛ چلو تاریخ ہمیں دنیا کے نقشے پر "بنگلہ دیش" کے بعد ایک اور نئے ملک "سندھو دیش" کے بانی مبانی کے طور پر تو یاد رکهے گی نا ..
کیا کریں؛ ہم روزانہ کے حساب سے درجنوں "نامعلوم" دہشت گردوں کو ٹی وی چینلز پر پرانی وڈیوز اور نئی پریس ریلیزز چلا چلا کر "کیفرکردار" تک پہنچا دیتے ہیں لیکن ہمارا "پالنہار" امریکہ بہادر ہے کہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے میں واقعی سنجیدہ ہیں، پس آئے روز معاوضے کی قسط روک دیتا ہے ...
اور ازل سے ہمارا ویری بهارت ہے کہ منہ توڑ جواب کی ہماری بلند آہنگ دھمکیوں کا اس پر ذرا سا بھی اثر نہیں پڑتا؛ آئے دن لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی جوانوں سمیت نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز ہی نہیں رہتا ...
اندریں حالات ہمارے پیارے الباکستانیو؛ آپ خود فیصلہ کر لو کہ ہمارے پاس سندھ کو الگ کر دینے کے علاوہ کرنے کا اور کام رہ ہی کیا جاتا ہے، آخر ہم نے اپنی بهاری تنخواہیں بهی تو حلال کرنا ہیں ...
باقی اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے اس "انتباہ" سے ہمارے سندھو دیش بنانے کے "نیشنل ایکشن پلان" پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا کہ "ریاست باقی رہے گی تو ادارے بهی رہیں گے"...
ہمیں تو جو بهی اچها نہیں لگے گا، اسے بنگالیوں کی طرح علیٰحدگی پر مجبور کرتے رہیں گے ............. تا آنکہ رہے نام اللہ کا
مکمل تحریر >>

2 ستمبر، 2015

سامراجی ایجنڈہ پر مسلط کی گئی "شریف" حکومت..!

کاٹ کر زبان میری مجهے کہہ رہا تھا وہ
اب تمہیں اجازت ہے حال دل سنانے کی
سابق صدر زرداری کی حکومت کے خلاف لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، کرپشن، نااہلی، دہشت گردی اور سرحدوں کے عدم تحفظ سمیت سفارت کاری میں ناکامی جیسے الزامات کی لفاظی پر پروپیگنڈہ کرنے والے تمام عناصر کو عدلیہ اور فوج کی جانب سے سامراجی ایجنڈہ پر مسلط کی گئی "شریف" حکومت کے اڑھائی برس میں ہی ان تمام "اصطلاحات" کے درست ترین معانی سمجھ آچکے ہیں، اب صرف آصف زرداری کی فہم و فراست کا اعتراف باقی ہے، جس کی مدد سے وہ ناصرف پانچ برس تک ریاستی گاڑی کو نا ہموار شاہراہ پر دھکیلتا رہا؛ بلکہ "قومی مفاد" کے نام پر غلیظ کهیل کهیلنے والے شاطر خاکیوں، انتشار چودھری کی مادر پدر آزاد عدلیہ اور عیار شرفاء کی پنجاب حکومت کی گھناؤنی مشترکہ سازشوں کے باوجود چند اہم کامیابیاں بهی حاصل کرلیں۔
1. 1973 کے آئین کی اصل حالت کے قریب قریب بحالی، جس کا سب سے بڑا فائدہ نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بن کر اٹھایا
2. خارجہ پالیسی کا چین و روس کی جانب میجر ٹویسٹ، جس کی مدد سے موجودہ شریف ریجیم امریکہ اور مغربی بلاک کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے
3. رسوائے زمانہ آئی ایم ایف کے چنگل سے چھٹکارہ، شرفاء نے اپنی نالائقی اور کاروباری مفادات کی خاطر جس کے شکنجے میں ملک و قوم کو دوبارہ جکڑ دیا
..... شدت درد میں کمی نہ آئی ذرا بھی
درد، درد ہی رہا الٹا بهی لکها سیدھا بهی لکها
مکمل تحریر >>

30 اگست، 2015

سوزان رائس سے کس کس کو ڈانٹ پڑی..؟؟

قارئین گرامی؛ تیز رفتار گلوبل میڈیا کے اس دور میں یہ حقیقت زیادہ دیر تک چهپی نہیں رہے گی کہ خاکی شرفاء کے بوٹ اور سرخ و سفید شرفاء کے تلوے چاٹ چاٹ کر روزی روٹی کمانے کے عادی ہمارے میڈیا نے امریکی مشیر برائے سلامتی امور مس سوزان کی پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کے ساتھ ملاقاتوں کے صرف اس پہلو کو ہی اجاگر کیا جو ان شرفاء کے حق میں جانا ہے؛ جبکہ امریکی اہلکار کے دورے کے "تکلیف دہ" پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کی بھونڈی کوشش میں اپنا رہا سہا اعتبار پر داوء لگا دیا ہے ...
آیئے؛ ہم آپ کو اصل صورت سے آگاہ کریں اور وہ بهی اپنے چند روز پرانے ایک تجزیہ بلکہ پیشین گوئی کے حوالے سے ...
مجهے باقاعدگی سے پڑهنے والوں کو یاد ہوگا کہ چند روز قبل آرمی چیف، وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ کی جانب سے "دہشت گردی کے خلاف ان دیکھی کامیابیاں اور مستقبل کے اقدامات" کی اچانک تکرار نے جب میرے کان کھڑے کئے تو کسی "سورس" کے بغیر صرف اپنی تجزیاتی حس کی مدد سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ سب "کوالیشن اسپورٹ فنڈ" کی کئی ملین ڈالرز پر مشتمل نئی قسط سر پر آن پہنچنے کا کرشمہ ہے ..
اپنے اس درست ترین اندازے کی بنیاد پر بی راقم الحروف نے "پهرتیاں" کے عنوان سے لکهے اپنے مختصر مضمون میں یہ "انکشاف" بهی کیا تها کہ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت نے نام نہاد "ضربِ عضب" اور نام نہاد "نیشنل ایکشن پلان" دونوں کی حقیقت آشکار کر کے قوم سمیت دنیا بھر کے سامنے خاکی اور سفید دونوں شرفائے البنجاب کی کارکردگی مکمل طور پر بے نقاب کر کے رکھ دی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے ذمہ دار ہمارے سول اور عسکری اعلیٰ عہدہ دار بے چارے اسی کارن "پهرتیاں" دکھانے پر مجبور ہو گئے ہیں ...
امریکی صدر کی مشیر برائے سلامتی امور سوزان رائس کے موجودہ دورہ الباکستان کے دوران منافق اور زرخرید ملکی میڈیا میں "کل" کی گئی اس خبر نے میرے مذکورہ بالا تجزیہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، جس کے مطابق
"پاکستانی قیادت نے مس رائس کے سامنے امریکی اسپورٹ فنڈ کی قسط روکے جانے کا سوال بهی اٹھایا ہے" ..
گویا الباکستانی صورت حال کے تناظر میں میرے اس وقت کے اس اندازے کی درستگی بهی ثابت ہو گئی کہ
"کرنل شجاع خانزادہ کے سانحہ کے بعد الباکستان کیلئے دہشت گردی کی بیخ کنی والی اسائنمنٹ کے حوالے سے امریکہ سمیت عالمی برادری کو مطمئن کرنا اب مشکل ہوگیا ہے اور اس کا اثر اس اسائنمنٹ کے معاوضے کی آئندہ قسط پر پڑتا دکهائی دے رہا ہے"..
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سوزان رائس کے تازہ دورہ کی روشنی میں تو بات اس قسط کے روک لئے جانے تک پہنچ گئی ہے ....
سوزان رائس کے حالیہ دورہ کے حوالے سے ایک اہم خبر یہ بھی رہی ہے کہ محترمہ نے پاکستان کی جانب سے بهارتی جارحیت کی شکایت کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا کہ "بھارت کے پاس اس کا جواز پاکستان کی طرف سے جاری دہشت گردی کی صورت میں موجود ہے"؛ جس کا الباکستانی قیادت کے پاس جوابی الزام تراشی کے علاوہ کوئی جواب نہ تها، جسے بہر کیف امریکی مشیر کی طرف سے خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ..
سوزان رائس کی اس "بے نیازی" سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ امریکہ بہادر اب ٹی وی چینلز پر پرانی وڈیوز اور نئے پریس ریلیزز کے ذریعے جاری "ضربِ عضب" کے چکر میں مزید آنے والا نہیں ہے ..
کیمرہ فوٹیج سمجھنے اور باڈی لینگویج پڑهنے کی صلاحیت والے احباب، دونوں شرفاء بالخصوص خاکی شریف کے ساتھ ملاقات میں مس سوزان کے چہرے کی سختی بلکہ کرختگی سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پیغام کیا ڈلیور کیا جا رہا ہے؛ 
کاش ہم پاکستانی قوم کی طرح کل کی امریکی چھوکری کو بھی کهل کر بتا سکتے کہ "پہلے ہم سندھ تو فتح کرلیں، دہشت گردوں سے بهی نمٹنے رہیں گے"..
خواتین و حضرات؛ سوزان رائس نے پاکستان جیسی اپنی محکوم بلکہ بهکاری اقوام کیلئے مخصوص امریکہ کی المشہور "ڈومور" کال کا اعادہ کرتے ہوئے، افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان، ملا عمر کی ہلاکت کے بعد رک جانے والے ان مذاکرات کے فوری احیاء پر بهی زور دیا ہے، جس میں پاکستان "سہولت کار" کا کردار ادا کر رہا تھا ...
...... سنتا جا، شرماتا جا
مکمل تحریر >>

ٹنگ دیو اناں سالیاں نوں..!!

پیپلزپارٹی والے تو ہیں ہی "غدار"؛ بس ایک "دہشتگردوں کی پشت پناہی" کا الزام رہ گیا تھا، سو ہم نے وہ بهی ثابت کر دکهایا ...
یہ پاکستانی طالبان، لشکر جھنگوی، یہ سپاہ صحابہ ان سب کی پالنہار یہی پارٹی ہی تو رہی ہے ..
دہشت گردوں کے یہی "دلال" چھ سال اپنے باپ اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کینٹ میں چُھپا کر بیٹھے رہے ...
ہم بتاتے ہیں عوام کو کہ مہران بیس حملہ اور جی ایچ کیو حملہ میں بهی انہی کے غدار، دہشتگردوں کے دلال فوجی ہی ملوث تھے ..
اور تو اور اوجھری کیمپ کے ڈاکوؤں اور مہران بینک کے لٹیروں کے سر پر بهی انہی کی بے غیرت "اشٹیبلشمنٹ" کا ہاتھ تها ...
ملاعمر جیسے دہشتگرد کا جنازہ پڑھانے والا حافظ سعید، حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والا اور قتال فی سبیل للہ کا درس دینے والا منورحسن، "طلبان اور ہماری سوچ ایک ہے" کا نعرہ لگانے والا شوباز اعلیٰ، طالبان کا "ضامن" نوسرباز اعلیٰ، لال مسجد میں خودکش بمبار بنانے والا عبدلعزیز برقعہ، ایک سو پینتالیس بچوں کی شہادت کے بعد بهی طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرنے والا سونامی خان اور یہ انڈیا کے سامنے ترانوے ہزار ہتھیار ڈالنے والا بے غیرت جرنیل بهی؛ 
جی ہاں؛ یہ سب "کالے چہرے" اسی راندہ درگاہ پارٹی کے ہی "بچہ لوگ" ہیں ...
ان پیپلیوں کے علاوہ باقی سب تو بس "الباکستانی" ہیں؛ لہٰذا سب کے سب "صادق و امین فرشتے"..!!!!
(از سہیل خان سیال؛ بترمیم و اضافہ)
مکمل تحریر >>

آؤ؛ سندھ ہی فتح کر ڈالیں..!!

دہشت گردی کی ہر نئی واردات پر وزیرستان اور ہر بھارتی جارحیت پر لائن آف کنٹرول پہنچ کر بڑهکیں مارنے کے عادی "محمد بن قاسم" اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں بیٹهے بٹھائے دہشت گردوں کے خاتمے اور بهارتی عزائم کو ناکام بنانے والے "حجاج بن یوسف" کا مشترکہ "اعلان جہاد"...
ہمارے اپنے پالتو دہشت گرد جب چاہیں ہماری زیرِ نگرانی چلنے والے اسکول میں گهس کر معصوم نونہالانِ قوم کو اجتماعی طور پر خون میں نہلا دیں یا سب سے بڑے صوبے کے وزیر داخلہ کے ڈیرے پر حملہ کر کے اسے 70000 معصوم شہداء کے پاس پہنچادیں یا پھر ہمارے فوجی جوانوں کو گولی مار دیں یا ذبح کرتے پهریں؛ ہم سوائے بذریعہ پریس ریلیز اپنے ان "بهائی بندوں" میں سے درجنوں کی "ٹی وی چینلز پر ہلاکت" کے سوا عملاً کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں رکهتے ..
اسی طرح ہمارا اپنا پیدا کردہ "ازلی دشمن" بھارت ہماری حفاظت میں موج مستی کرنے والے حافظ سعید جیسے ہمارے "تذویراتی اثاثہ جات" کو لے کر بین الاقوامی فورمز پر ہماری مٹی پلید کرتا رہے یا پھر آئے روز ورکنگ باؤنڈری یا لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی جوانوں سمیت نہتے شہریوں کو ہلاک کرتا پهرے؛ جواب میں ہمارے پاس لائن آف کنٹرول پر پہنچ کر اپنے جوانوں کا "مورال بلند" کرنے اور انڈین ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمانے کے علاوہ کرنے کو اور کچھ رہ بهی تو نہیں جاتا ...
ہاں البتہ ملک بهر میں ہر قسم کی دہشت گردی کا الزام بھارت پر عائد کرنے کے علاوہ ہم نے اب اپنی ایک اور "ازلی دشمن" پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت والے صوبہ سندھ کو "دہشت گردوں کا معاون" ثابت کرنے کے بعد صوبائی حکومت کے عہدیداروں کی گرفتاری کی صورت میں اس "سیکورٹی رسک" صوبے کو "فتح" کرکے اپنی تمام تر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا نیا سبق ضرور سیکھ لیا ہے ...
اندریں حالات خواتین و حضرات خود سوچئے؛ رینجرز کی طرف سے سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر عاصم کی بلا الزام اور بلا وارنٹ گرفتاری یعنی باقاعدہ "اغوا" کے گھنٹوں بعد ان پر "دہشت گردوں کی معاونت" جیسے مضحکہ خیز الزامات عائد کئے جانے کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم اور راجہ پرویز اشرف کی متوقع گرفتاری کی خبروں پر ردعمل میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی طرف سے "اعلان جنگ" اور وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی جانب سے ان اقدامات کو "سندھ پر نیا حملہ" کے مترادف قرار دینے میں آخر غلط ہی کیا ہے...؟؟
مکمل تحریر >>

26 اگست، 2015

متحدہ ہندوستان کی بذور منظم طاقت آزادی کا آخری علم بردار ..!!

علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ
بهول بهلکڑ قوم کو یاد دلاتے چلیں کہ مورخہ 25 اگست 2015 مسلم برصغیر کے ایک بهولے بسرے لیکن تاریخ ساز کردار بطل حُریت، ضعیم ملت اور نقیبِ فطرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کا 127 واں یوم پیدائش جبکہ 27 اگست آپ کا 52 واں یومِ وفات ہے ...
بطل حُریت اور عالم بے بدل علامہ عنات اللہ خان المشرقی نے 25 اگست 1888 کو اس عالم رنگ و بو میں قدم رکھا۔۔ یورپ کی عالمی شہرت یافتہ جامعات میں ناقابلِ تنسیخ تعلیمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد 26 اگست 1930 کو متحدہ ہندوستان میں مسلم تسلط کے احیاء کی دعوے دار آخری تحریک "خاکسار" کی بنیاد رکھی۔۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے ہنگام انگریز نے جب ہندوستان کی تقسیم کا حتمی فیصلہ کرلیا تو 19 مارچ 1940 کو لاہور میں خاکساروں کے خون سے ہولی کھیل کر تنظیمی مراحل سے گذرنے والی خاکسار تحریک کو بزور کچلنے کے چار روز بعد اسی شہر میں نئی قیادت اور نئے نعرے کے ساتھ نئی تحریک کا آغاز کردیا گیا۔ 
علامہ المشرقی نے قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت کو مظبوط و مستحکم بنانے کی خاطر کئی کارآمد  منصوبے پیش کئے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔۔۔ علامہ بعالم تمام حسرت و یاس 27 اگست 1963کو بالآخر اپنے مرکز واقع اچھرہ لاہور میں جا آسودہ خاک ہوئے۔۔۔ 
             اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
جی ہاں؛ اپنے وقت کا سب سے زیادہ پڑها لکها انسان، وہی المشرقیؒ جس نے ناصرف یورپ کی اعلیٰ ترین جامعات میں علمی فتوحات کے ناقابل فراموش جھنڈے گاڑنے، بلکہ اسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کی آخری منظم کوشش "خاکسار تحریک" کا بانی قائد ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ..
اور جس کی صدائے جرس پر کان نہ دھرنے کا نتیجہ اس بدقسمت خطے کے تمام مسلمان نجانے کب تک بھگتتے رہیں گے ..
"ہم نے ملک تو حاصل کرلیا، لیکن قوم نہ بن سکے"، کی دہائی دینے والوں کیلئے دعوت عام ہے کہ زعیم مشرق علامہ المشرقی کی جانب سے، جہادی گروہ کی تشکیل نہیں بلکہ، افراد معاشرہ میں ڈسپلن پیدا کرکے انہیں صحیح معنوں میں ایک "قوم" کے قالب میں ڈھالنے کی خاطر رائج کئے گئے گیا "قطاروں میں عسکری قواعد پرمبنی تربیتی نظام" سے بہتر اور تیز اثر طریقہ کار، اگر کوئی موجود ہے تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔
یاد رکھئے خواتین و حضرات؛ تاریخ کے تناظر میں علامہ المشرقی کا نظریہ نہیں، البتہ خاکسار تحریک برٹش سامراج کے تیز رفتار استبدادی ہتھکنڈوں کے سامنے بظاہر ناکام ضرورہوئی۔ اسے انگریز کی عدالت سے سیاسی وکیلوں کی جیت قرار دینے والے آج اڑسٹھ برس بعد تک برطانیہ کے جانشین امریکہ بہادر کی مسلسل غلامی کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ 1947 میں ہمیں "آزادی" مل گئی تھی تو وہ آئندہ ایک صدی تک غلامی کے اسی طوق کیلئے اپنی گردنیں تیار رکھِیں۔۔
آج کا نوجوان اگرچہ الباکستان کے ہر شعبے میں غالب مخصوص مسلم لیگی ذہنیت کے زہریلے پروپیگنڈہ کے زیرِ اثر، میدان حریت اور علم و تحقیق میں اس گوہرِ تابناک کے کارہائے نمایاں سے غافل ہے؛ لیکن آنے والا وقت ثابت کر دے گا کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد کے دور میں برصغیر بالخصوص مسلمانان ہند کے مستقبل کو درپیش خطرات کو بر وقت بھانپتے ہوئے، مسائل کا جو حل المشرقیؒ نے تجویز کیا تھا، اسے پذیرائی نہ دے کر ہندی اقوام نے کتنے بڑے گھاٹے کا سودا کیا ...
آیئے؛ اس موقع پر بطل حُریت، ضعیم مشرق کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے اس عظیم الشان شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کی اپنی سی ایک کوشش کریں..!!
ڈهونڈو گے ہمیں برسوں برسوں
  ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
Nobel Prize Nominee (Literature) August 25, 1888 - August 27, 1963. Punjab University: Master of Arts (M.A.) in Mathematics; Degrees from Christ's College, Cambridge University, England (1907-1912): Bachelor of Arts (B.A.), Bachelor of Science (Bsc.), Bachelor of Engineering (B.E.), Bachelor of Oriental Languages (B.O.L.). Four Triposes with distinction in five years (at Cambridge University from 1907-1912) in Mathematics, Natural Sciences, Mechanical Sciences, and Oriental languages. Titles awarded at Cambridge University: Wrangler, Foundation Scholar, and Bachelor Scholar; Fellow of the Royal Society of Arts (F.R.S.A) (1923), Fellow Geographical Society (F.G.S) (Paris, France), Fellow of Society of Arts (F.S.A) (Paris, France). Member of the Board at Dehli University, President Mathematical Society, Authored Tazkirah and many other books, Member International Congress of Orientalists, President All World's Faiths Conference (1937), A delegate to Palestine World Conference, Gold medalist World Society of Islam, Head of the delegation for the Motamar-I-Khilafat Conference at Cairo, Member of Indian Education Service ( I.E.S), Under Secretary of Education of undivided India, Founder of the Khaksar Tehrik.
مکمل تحریر >>

25 اگست، 2015

"پهرتیاں..!!

"ملک سے ہر قیمت پر دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے".. چیف اعظم
150 ملین ڈالرز پر مشتمل کوالیشن اسپورٹ فنڈ کی آئندہ قسط کی وصولی کا وقت آن پہنچا؛ "وہ" سابقہ قسط کے بدلے کارکردگی کا حساب کتاب مانگ رہے ہیں، اب کیا کریں..؟؟
"فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا وقت آگیا ہے"؛ وزیر اعظم
میرے اپنے صوبے کا وزیر داخلہ ہی جب دہشت گردی کا نشانہ بن گیا ہے، کوالیشن اسپورٹ فنڈ کی اگلی قسط کس منہ سے مانگوں گا...؟؟
"دہشت گردوں کے تمام تر ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے"؛ وزیر داخلہ
کرنل شجاع خانزادہ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد معلوم نہیں کہاں ٹھکانہ کئے ہوئے تھے، ورنہ میں نے تو انہیں چکری کے اپنے "گیسٹ ہاؤسز" سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تها ..
بہرحال؛ یہ نیوز کانفرنس تو میں دونوں بڑے "شرفاء" کے حکم پر کر رہا ہوں، ورنہ مجھے کوالیشن اسپورٹ فنڈ میں سے صرف ان کا "جهوٹا" ہی ملا کرتا ہے؛ لائنز شئیر تو تینوں "شریف" ہی لے اڑتے ہیں ..
"الباکستانیو"؛ اب ہم اس طرح کی "پهرتیاں" نہ دکھائیں تو کیا کریں؛ یہ کرنل شجاع خانزادہ کو بهی عین اس وقت مرنا تها، جب "قسط" سر پر آگئی تھی...؟؟؟ ..........
خواتین و حضرات؛ ویسے آپ سب کو اب ہمارے "چیف" صاحب کے عزم و ولولہ میں سے چھلکتی "ہر قیمت" کی ویلیو کا اندازہ تو خوب ہو گیا ہوگا..!!!
مکمل تحریر >>

24 اگست، 2015

پٹواری لیگ کی روایات اور عدالت عظمیٰ کا بالاخانہ..!!

"نون لیگ کی روایات کے مطابق فیصلہ تسلیم کرتے ہیں".. ایاز صادق
لاہور کے انتخابی ٹربیونل کی جانب سے الیکشن 2013 میں حلقہ این اے 122 سے اپنے انتخاب کو کالعدم قرار دئے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کا یہ "ردعمل" ہمیشہ صرف پنجاب کی اکثریت کے بل بوتے پر ملک بھر پر قابض ہونے والی نواز لیگ کی "روایات" سے واقفیت رکھنے والوں کیلئے خاصی دلچسپی کا حامل ہوگا ...
کالعدم اسپیکر صاحب کو اگر "پارٹی پالیسی" اجازت دیتی تو وہ اپنی بات یقیناً کچھ یوں مکمل کرتے کہ 
"ہم نے الیکشن بهی نون لیگ کی روایات کے مطابق دھاندلی سے جیتا تھا اور اب نون لیگ کی روایات کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے، دھاندلی نہیں انتخابی مشینری کی ناکامی والے مقبول عام فیصلے کو (سپریم کورٹ سے وابستہ روایتی توقعات کے ساتھ) تسلیم بهی کرتے ہیں ..
پارٹی کی انہی روایات کے عین مطابق اب ہم اپنی زرخرید سپریم کورٹ جا رہے ہیں؛ جہان سے ہمیں بعینہ اسی طرح ریلیف مل جائے گا، جیسے سعد رفیق کے خلاف بالکل اسی قسم کے فیصلے کے بعد فوراً ہی مل گیا تھا ..
مسئلہ اس مرتبہ صرف یہ ہے ہماری سپریم کورٹ کی جانب سے ریلیف ملنے تک کے چند روزہ عبوری دور میں ہمارے قائد نواز شریف نے سعد رفیق کو تو ریلوے کی وزارت میں ہی اپنا مشیر بر وزن وزیر مقرر کر دیا تها؛ جبکہ آئین میں اسپیکر کا ہم وزن کوئی عہدہ سرے سے موجود ہی نہیں، اسلئے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ سے اپنی بحالی تک کی اس عبوری مدت کے دوران مجهے مجبوراً بیروزگار رہنا پڑے گا"...
............ رہے نام اللہ کا..!!
مکمل تحریر >>

22 اگست، 2015

ناطقہ سر بگریباں ہے، اسے کیا کہئے ..؟؟

"نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد نہیں ہو رہا"؛ آرمی چیف اور وزیرِ اعظم کا (غالباً مودی اور را سے) گلہ ...
نیشنل ایکشن پلان کے ڈائریکٹر راحیل شریف اور پروڈیوسر نواز شریف بهی ملک میں امن و امان کے ذمہ دار وزیر خارجہ چودھری نثار کے نقش قدم پر چل پڑے؛ جو چند ماہ پہلے پوپلے منہ کے ساتھ، پتہ نہیں کس سے، مسلسل شکوہ کرتے نظر آتے تھے کہ "حکومت امن و امان کے قیام میں ناکام ہوچکی ہے"...
نیشنل ایکشن پلان کے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف دونوں بااختیار "پردهانوں" میں سے کوئی ایک دوسرے سے جواب طلب کرتا کہ "پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟" تو بات کچھ سمجھ میں آ بهی جاتی؛ یہ دونوں عمل در آمد میں ناکامی کا گلہ بهلا کس تیسرے سے کر رہے ہیں..؟؟
ہے کوئی جو "شرفاء" نامی اس عجیب الخلقت "مخلوق" سے جا پوچھے کہ "حضور؛ نفرت انگیز لٹریچر کی اشاعت روکنے اور مدارس کو آپ کے مرتب کردہ ضابطہ کار کا پابند کرنے کیلئے اب قوم کو سی آئی اے، موساد، ایم فائیو یا پھر کسی را کی خدمات حاصل کرنا پڑے گی..؟؟
لیجئے؛ ایک اور "نابغہ" بهی اب میدان میں ...
ائیر چیف صاحب کو آرمی چیف کی ریس (سرائیکی میں) آگئی ..آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹی وی چینلز پر، روزانہ کے حساب سے درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت کیلئے اپنے زیرِ تحویل جیٹ طیاروں کے استعمال کے باوجود میڈیا پر سارا "کریڈٹ" آرمی چیف کو جاتا دیکھ کر رہ نہ سکے اور جا بیٹهے ایک جیٹ کے کاک پٹ میں؛ 
ٹی وی چینلز کیلئے ذرا سی اڑان بهری اور "پریس ریلیز" کے ذریعے شمالی وزیرستان میں درجنوں بلکہ سینکڑوں بار تباہ کئے گئے "دہشت گردوں کے ٹھکانوں" کو ایک بار دوبارہ "نیست و نابود" کر دکهایا ..
ویسے آپس کی بات ہے؛ ہمارے ائیر مارشل صاحب "ہیرو" جنرل سے تھوڑے سے سمجھ دار ہی ثابت ہوئے ہیں، جو دہشت گردوں سے کب کے خالی وزیرستان میں دو سال سے جاری "ضربِ عضب" کے ذریعے آئے روز سینکڑوں دہشت گردوں کی "بذریعہ پریس ریلیز ہلاکت" کا کریڈٹ لینے کے عادی چلے آ رہے ہیں ...
بهائی لوگو؛ جب آپ دہشت گردوں کو جنوبی پنجاب کی بجائے شمالی وزیرستان میں ڈھونڈتے پهرو گے تو نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کون مکمل کرائے گا..؟
جب آپ لال مسجد کے ملا بُرقعہ پوش کو وارنٹ گرفتاری کے باوجود، دہشت گردوں کی بھرتی کیلئے کهلا چهوڑ دوگے اور کالعدم تنظیم کے سربراہ حافظ سعید کے حکم پر انڈین فلموں پر پابندی لگاتے رہو گے تو نفرت انگیز مواد کی اشاعت و ترویج کیونکر روکی جاسکے گی..؟
اور جب آپ خطرناک ترین دہشت گرد ملک اسحاق کے اعتراف جرم کے باوجود اسے عدالت سے سزا سنوانے کی بجائے، اس سے چھٹکارہ پانے کیلئے جعلی پولیس مقابلے کا سہارا لینے پر مجبور دکهائی دوگے تو مدارس کو ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے کا موقع تو ملے گا نا ...
نہ سمجهو گے تو مٹ جاو گے "الباکستان" والو
تمہاری داستاں تک بهی نہ ہوگی داستانوں میں
مکمل تحریر >>

20 اگست، 2015

بیمار قوم کا علاج؛ قانون فطرت کی روشنی میں ..!!

قومیں جب موت و زوال کے چکر میں آجاتی ہیں تو کسی کو نہیں سوجهتا کہ خرابی کہاں پر ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ "اگر اس کائنات فطرت میں ہر جسم کا زوال اس لئے ہے کہ اس جسم کے مختلف حصوں نے اپنا اپنا عمل چھوڑ دیا ہے تو قوم کے جسم کا زوال بھی لازماً اسی وجہ سے ہے"۔
یہاں یہ امر ملحوظ رکھنا ہوگا کہ ایک قوم کس وقت "قوم" کہلانے کی مستحق ہوتی ہے اور کس وقت کثرتِ افراد کے باوجود وہ قوم، قوم نہیں ہوتی۔ گویا محض افراد کی موجودگی قوم ہونے کی دلیل نہیں اور یہی وہ بنیادی بات ہے جس پر ہمارے کسی دانشور نے کبھی بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی؛
لیکن علامہ المشرقیؒ کے نزدیک قوم کا تصور افراد کی اندر عدم مرکزیت اور عدم تنظیم کی حالت میں نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک عدم مرکزیت کا فقدان ہی تمام تر معاشرتی بگاڑ اور سماجی برائیوں کا اصل باعث ہوتا ہے۔ 
جب افراد ایک نظام کی لڑی میں پروئے ہوتے ہیں اور ہربات اجتماعی نقطہء نظر سے سوچتے اورکرتے ہیں، تو ایسے منظم اور ہم آہنگ افراد کی ہیئت اجتماعیہ ہی قوم کہلاتی ہے۔ غیرمنظم اور منتشر افراد کی سوچ اپنی اپنی غرض اور اپنی اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے۔ ایسے افراد کا ہجوم قوم نہیں ہوتا۔ ان کی ذاتی اغراض اور انفرادی سوچ ہی سے نفسا نفسی اور قیامت کا سماں پیدا ہوتا ہے جس میں بیٹے کو باپ اور بھائی کو بھائی کا پاس و لحاظ نہین رہتا۔ خود غرضی اور مفاد پرستی کا یہ ماحول ہی وسیع بگاڑ کا اصل سبب ہوا کرتا ہے۔
اوریہ بات اصولی طورپر درست ہے کہ ایسے خود غرض اور بکھرے ہوئے افراد کی اصلاح کے لئے کسی شرعی یا غیر شرعی قانون کے نفاذ اور کسی انتخابی ہنگامہ آرائی کی نہیں، بلکہ انہیں مناسب خطوط پر منظم کرنے اور تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ ایک قوم بن سکیں اور قومی نقطہء  نظر سے سوچنے کے قابل ہوسکیں۔
علامہ المشرقیؒ نے اس مقصد کے پیش نہاد ابتدائی جماعت بندی کا سلسلہ جاری کیا۔ ایک نظام کی داغ بیل ڈالی اور اسے محلے کی سظح سے لیکر شہری، ضلعی اور ملکی سطح پر وسعت دے دی۔ علامہ محترم نے اس تنظیم و نظام میں شامل ہونے والے افراد کو چندہ لیکر رکنیت دینے کے بجائے انہیں روزمرہ کا کام دیا۔ حرکت کو جاری رکھنے کے لئے ایک محلہ وار سطح پر پروگرام دیا؛ ظاہر ہے کہ جو فرد ایک آواز اور ایک حکم پر کچھ نہ کچھ حرکت شروع کردے وہ کچھ عرصہ بعد اس جماعت کا ہی ہوکر رہ جاتا ہے؛ افراد کے اندر یہ خوبی پیدا کرنا ہی بنیادی کام ہے، جو نصیحت، وعظ اور تلقین یا کسی اور طرح سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ 
اسلئے اصلاح احوال کے مروجہ گول مول اور بے نتیجہ طریقوں کو عرصہ دراز تک دیکھنے کے بعد یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ قوم اور قومی یکجہتی اتحاد و عمل کے بغیر ناممکن ہے اور اتحاد و عمل ایک تنظیم کی وساطت سے ہی بنائے جاسکتے ہیں۔ جب جا کر کسی بہتر نتیجے کی توقع ہوسکتی ہے۔
آپ حضرات یقیناً اتفاق کریں گے کہ پورا عالمِ اسلام اور پاکستان میں ایک بڑی خرابی اجتماعیت اور نظم و ضبط کا فقدان ہے۔ جس قوم کے افراد میں اجتماعیت اور نظم و ضبط نہیں، وہ سرے سے قوم ہی نہیں۔ وہ محض بے ہنگم افراد کی بھیڑ ہوتی ہے جس کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ عدم رابطہ کی وجہ سے اعتماد باہمی کی فضا پیدا نہیں ہوتی۔ 
نظم و ضبط اور اجتماعیت تربیت اوراطاعت سے پیدا ہوتے ہیں؛ جس طرح ملٹری اکیڈیمی میں لباس درست طور پر پہننے، تسمے ٹھیک طرح کسنے، آستینیں ٹھیک طور پر چڑھانے، ٹوپی ٹھیک طور پہننے اور قدم ایک ساتھ اٹھانے سے اطاعت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور جس طرح اسلام نے بھی ایک ہی طرح ہاتھ منہ دھونے، ایک ہی طرح صف بندی کرنے، ایک ہی وقت پر ایک امام کے پیچھے ایک ہی حرکت کرنے سے افراد متعلقہ میں اطاعت اور نظم ضبط پیدا کرکے حیران کُن نتائج پیدا کردئیے تھے۔ 
اس تخیل کے تحت المشرقیؒ نے بھی ایک مخصوص لائحہء عمل رائج کرکے ملت کے ایک عنصر کے اندر اجتماعیت اور نظم ضبط اور اطاعت کا قابلِ تعریف اخلاق پیدا کردیا تھا۔
لیکن تربیت اور اخلاق ناول نویسی، ڈرامے بازی اور قانون سازی سے ممکن نہیں؛ تفسیریں، تقریریں اور شعروں سے بالکل ممکن نہیں اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ المشرقیؒ نے صرف چند سال میں قوم کے اندر نظم و ضبط اور اجتماعیت کا جو نمونہ اور اطاعت کا بلند ترین اخلاق پیدا کردیاتھا؛ اس کا پچاسواں حصہ بھی کوئی بڑی سے بڑی پرہیز گار اور سیاست باز پارٹی گذشتہ 68 سالوں میں بھی پیدا نہ کرسکی۔
آج ملک اور قوم کی اصلاح و تعمیر کے لئے اس کیریکٹر کا تصور پایا جاتا ہے کہ سچ بولا جائے، ملاوٹ نہ کی جائے، جھوٹی شہادت نہ دی جائے، چوری چکاری اور غنڈہ گردی سے اجتناب کیا جائے؛ لیکن ایسا کریکٹر نظم و ضبط اور حرکت کے کس فارمولے پر عمل اورمناسب تربیت کے بدوں پیدا نہیں ہوسکتا۔
اس زمین کے اور کسی قوم کے بگڑے ہوئے معاشرے کے سدھار کے متعلق جس بھی مصلح نے سوچا؛ اس نے سب سے پہلے انسانوں کی درستگی پر توجہ دی۔ انسانوں کے اجتماعی کریکٹر کی تشکیل پر کام کیا۔ انسانوں کی خود سری اور خود رائی کو ختم کر کے انہیں اطاعت سکھائی. جس لیڈر نے زمین کے کسی خطے پر قیام حکومت کا منصوبہ بنایا، اُس نے سب سے پہلے عوام میں اپنے ڈھب کو بنایا، اپنی بات سننے اور ماننے کے لئے تیار کیا۔ ان کی سوچ کا رُخ انفرادیت سے ہٹا کر اجتماعیت کی طرف موڑ دیا۔ عوام کو ان کے حقوق وفرائض سے آگاہ کیا۔ انہیں معاشرتی آداب سکھائے اور پھر جب ان تربیت یافتہ عوام کی حکومت قائم ہوئی تو انسانی معاشرہ عدل و انصاف کی خوش گواریوں سے چھلک اٹھا۔ اِن میں قاضی چنے گئے تو انہوں نے انصاف کو مقدم رکھا، وکیل بنائے گئے تو قانون کا بول بالا ہوا، پولیس والے بنائے گئے تو عوام کی جان و مال کے محافظ بنے۔ ڈاکٹر بنے تو دُکھی انسانیت کا سہارا بنے، کاروباری بنے تو دیانت دار، ملازم بنے تو وفادار، مزدور بنے تو ایمان دار۔
ملک پاکستان کے اندر وہ تمام برائیاں جو آج پورے عروج پر ہیں، یہ بغیر کسی وجہ جواز کے نہیں؛ اب ہمارے معاشرے میں عزت کا معیار کسی عملی صلاحیت پرنہیں بلکہ دولت اور اس کی فراوانی پر ہے.. ظاہر ہے کہ اس معیار کو قائم رکھنے کے لئے جائز اور ناجائز میں امتیاز کی ضرورت نہیں، روپے کی ضرورت ہے؛ یہی رجحان تمام بیماریوں کی بنیادی جڑ ہے.. اس نے ہی معاشرے میں طبقاتی ناہمواری اور لاقانونیت کا جنم دیا ہے۔
علامہ المشرقیؒ نے اس بیماری کو شروع سے ہی بھانپ لیا تھا؛ انہوں نے اس کے سدباب کے لئے اوپر سے نیچے تک خاکی لباس پہننے کی شرط عائد کردی، ہر چھوٹے بڑے ہر ادنی ٰ و اعلیٰ کے کندھے پربیلچے کا شرمندہ کن اوزار رکھ کر سب کے عمل کا ایک معیار مقرر کردیا۔ اس طرح معاشی تفاخر اور سٹیٹس کی تمام بک بک سرے سے ہی ختم کر دی۔ 
یہی حکمت عملی ماؤے تنگ نے بھی اختیار کی اور ساٹھ کروڑ چینوں کو یکساں لباس پہنوا کر عام مساوات کا ماحول پیدا کردیاتھا۔ لہٰذا آج بھی ہمیں عدم مساوات کے بھڑکتے ہوئے جہنم کو ٹھنڈا کرنے کے لئے المشرقیؒ کی تجویز و تدبیر سے استفادہ کرنا ہوگا۔
بشکریہ: رشید ملک ایڈووکیٹ مرحوم (ادارہ معارفِ افکار المشرقیؒ گجرات)
مکمل تحریر >>

19 اگست، 2015

روز جیتا، روز دفن ہوتا نظریہء ضرورت..!!

 یقین جانئے؛ ہماری عدلیہ جنگل کے بادشاہ کی طرح "آزاد" ہے؛ جب چاہے انڈا دے، جب چاہے بچہ۔
فاتح کابل حمید گل کی سورگباشی کے فوراً بعد ملک میں دہشت گردی کے اس سب سے بڑے امپورٹر کے عسکری شاگرد کرنل شجاع کی اپنے استاد کی روحانی اولاد کے ہاتھوں شہادت؛ اور امیرالمنافقین کے جبڑے کی 27 ویں برسی جیسی "ہنگامہ خیز" خبروں میں دب کر رہ جانے والی ایک اہم خبر شاید ہم میں سے بہت سوں تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی ..
ہوا کچھ ہوں کہ چند روز قبل ہی فوجی عدالتوں کے قیام بارے آئینی ترمیم کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کو مسترد کر کے "بنیادی انسانی حقوق" جیسی آئینی مبادیات (ناقابل تنسیخ بنیادی اصول) کی تشریح کا اختیار منتخب پارلیمان کو دینے والی عدالت عظمیٰ نے، اب فوجی عدالتوں کے حق میں اپنے مذکورہ حالیہ فیصلے سے مکمل "یوٹرن" لیتے ہوئے، انسانی حقوق کی معروف ایکٹویسٹ عاصمہ جہانگیر کی ایک آئینی درخواست آئین کی انہی "مبادیات" کا سہارا لیتے ہوئے خارج کر دی ہے ..
یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنی آئینی پٹیشن میں عدالت سے ملک بهر میں بڑهتی ہوئی "مذہبی انتہا پسندی" کے پیش نظر پارلیمنٹ کی طرف سے ملک کو سیکولر ڈیکلئر اسٹیٹ ڈیکلئر کرانے کی استدعا کی تهی، جسے عدالت عظمیٰ نے اٹھارویں ترمیم بارے خود اپنے حالیہ فیصلے میں رد کی گئی مبادیات کو ازسرِنو زندہ کرکے، معاملہ اس پارلیمنٹ کو بھیجنے کی بجائے خود مسترد کر دیا، جسے یہی عدالت چند روز قبل آئینی امور بارے "فائنل اتھارٹی" قرار دے چکی ہے ..
حالانکہ عاصمہ جہانگیر کی درخواست تو بانئی پاکستان کی جانب سے مملکت کی پہلی آئین ساز اسمبلی کیلئے 11 اگست 1947 کی اپنی معروف تقریر میں فراہم کردہ اس "گائیڈ لائن" کی روشنی میں بهی ازحد اہمیت کی حامل ہے، جس میں بابائے قوم نے ملک کی آئینی اساس کو واضح طور پر "سیکولر" ڈیکلئر کر دیا تها ...
خواتین و حضرات؛ ملک کی سب سے بڑی یہی عدالت حال ہی میں مادر پدر آزادی کا ایک اور شرمناک مظاہرہ اس وقت کر چکی ہے، جب اس نے ملک کی دو مرتبہ منتخب وزیراعظم اور ملک کی ایک بڑی پارٹی کی سربراہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی عوامی اجتماع میں سرعام شہادت کے مقدمے کو "مفاد عامہ" کا کیس ماننے سے انکار کرتے ہوئے، شہید رہنما کی اپنی وصیت کے مطابق سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل اور سابق ایم آئی چیف بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی اس کیس میں نامزدگی کی درخواست مسترد کردی ...
قارئین کرام؛ افتخار چوہدری کی مادر پدر آزاد عدلیہ کی جانب سے آئین کے ساتھ حسبِ مراتبِ سائل، بے حیائی پر مبنی اس نوعیت کے مسلسل کھلواڑ کے بعد شہرہ آفاق "نظریہء ضرورت" بهی اب چلا چلا کر پکارنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ
روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں
کاش پوچھو کہ "بپتا" کیا ہے
مکمل تحریر >>

17 اگست، 2015

ملک اسحاق کے بدلے کرنل شجاع..!!

وزیر داخلہ پنجاب کے خون ناحق کی ذمہ داری مادر پدر آزاد عدلیہ، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر قانون کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے ...؟؟
چھوٹے میاں کی جانب سے چند سال پہلے اپنے پروردہ طالبان کو "ہمارا تمہارا ایجنڈہ ایک" کی یقین دہانی کے ساتھ "ہمارے صوبے کو معاف رکهئے" کی اپیل کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کارروائیوں سے اب تک عملاً محفوظ چلے آ رہے صوبہ پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کی، اٹک میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں شہادت کی خبر نے ہمیں شریف برادران، مادر پدر آزاد عدلیہ اور رانا ثنائاللہ کے مربی ملک اسحاق کی چند روز قبل مظفر گڑھ میں پولیس مقابلے میں ہلاکت کی کہانی کے علاوہ اس وقوعہ کے ایک آدھ دن بعد لاہور کی ایک نیم پوش آبادی میں واقع ایک دیوبندی مدرسہ کے نائب مہتمم کے یہ الفاظ بھی یاد کرا دیئے کہ "میاں برادران نے مولانا ملک اسحاق کو پولیس مقابلے میں مروا کر ہمارے ساتھ بہت بڑا دهوکہ کیا ہے"..
قارئین کرام؛ ملک اسحاق وقوعہ کے بعد میں نے میاں برادران کو ٹی وی چینلز پر جب بھی دیکھا، ہر دو کا چہرہ موت کے خوف سے زرد ہی پایا، جسے یار لوگ خاکیوں کے ساتھ جاری ان کی چپقلش کا شاخسانہ قرار دیتے رہے؛ جبکہ میرے نزدیک اپنے پالتو دہشت گردوں کی طرف سے ملک اسحاق کے قتل پر متوقع انتقامی کارروائی کا خوف اس پژمردگی کی اصل وجہ رہا ..
اس پس منظر میں خواتین و حضرات؛ چند روز قبل پنجاب کابینہ کے اجلاس کی کارروائی بارے اس رپورٹ پر غور کرنا ضروری بن جاتا ہے، جس کے مطابق کرنل شجاع، رانا ثنائاللہ پر وزارت داخلہ کے امور میں مداخلت کے الزام لگاتے رہے جبکہ رانا ثناء کرنل پر نااہلی کے جوابی الزامات؛ اور بالآخر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو صوبہ کے داخلی امور آئندہ براہ راست اپنی نگرانی میں لینے کا اعلان کرنا پڑا؛ 
جی ہاں؛ دونوں صوبائی وزراء کے مابین تنازعہ کی بنیاد "ملک اسحاق ایپی سوڈ" کے علاوہ کوئی اور کم از کم میری سمجھ میں تو نہیں آرہی ..
اندریں حالات؛ میاں برادران کی روایتی "حکمت عملی" کے تناظر میں یہ سمجھنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے رانا ثنائاللہ کی وساطت سے ملک اسحاق کے انتقام کیلئے بے چین "جہادیوں" کو یہ یقین دہانی کرا دی ہو کہ ملک اسحاق کی ہلاکت میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ فوجی پس منظر رکهنے والے صوبائی وزیر داخلہ نے انہیں بائی پاس کرتے ہوئے اپنی ماتحت اینٹی ٹیرر ازم پولیس کو وقوعہ مظفر گڑھ میں استعمال کیا ..
اور پهر یوں "انتقامی کارروائی" کا رخ انتہائی کامیابی بلکہ عیاری سے صوبائی وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کی جانب موڑ کر انہیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ..
قارئین گرامی؛ اس سارے معاملے میں ہماری "مادر پدر آزاد عدلیہ" بهی یقینی طور پر برابر کی مجرم یوں ہے کہ اگر وہ ایک سو سے زائد قتل کا بهری عدالت میں اعتراف کرنے والے اور مخالفت گواہوں سمیت ججز اور وکلاء کو دھمکیاں دینے والے ملک اسحاق کو قرار واقعی سزا سنانے کی ہمت دکها دیتی تو نہ مظفر گڑھ کے جعلی پولیس مقابلے کی نوبت آتی، جسے بعد ازاں انتہائی ڈھٹائی سے "نیشنل ایکشن پلان" کی کارروائی ڈیکلئر کر دیا گیا؛ 
اور علی النتیجہ نہ ہی دہشت گردوں کو آج اٹک میں وزیر داخلہ پنجاب کرنل شجاع خانزادہ پر خود کش حملے کی جرات ہوتی ...
سانحہ اٹک نے نام نہاد "ضربِ عضب" اور نام نہاد "نیشنل ایکشن پلان" کی افادیت بلکہ سچ پوچهئے تو ہر دو کی حقیقت پر بهی ایک بار پھر انمٹ سیاہی سے بہت بڑا سوالیہ نشان چسپاں کر دیا ہے ..
وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں کی طرف سے "دہشت گردی کے خاتمے" کے بلند بانگ دعووں کے باوجود دہشت گردوں کے "ضامنین" کی حکومت والے سب سے بڑے صوبے میں امن و امان کی ذمہ دار وزارتِ داخلہ کا عسکری پس منظر کا حامل سربراہ بهی اگر متعلقہ علاقہ کے ڈی ایس پی اور درجن بھر معصوم شہریوں سمیت اتنی آسانی سے دہشت گردوں کا نشانہ بن جاتا ہے تو عسکری اور سول اداروں کی جانب سے گذشتہ دو سال سے جاری "ضربِ عضب" اور "نیشنل ایکشن پلان" کیا "گنڈیریاں بیچنے کا دھندہ" رہا ہے یا پھر امریکہ اور السعودیہ سے "وار آن ٹیررز" کے ڈالرز بٹورنے کا کاروبار ..؟؟؟
شہید کرنل شجاع خانزادہ کی جانب سے سانحہ رحلت سے چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر اپنے استاد اور وطن عزیز میں دہشت گردی سمیت انتہا پسندی کے سب سے بڑے پروموٹر بلکہ اولین امپورٹر جنرل حمید گل کی "تذویراتی حکمت عملی" کو زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کے باوجود خود کرنل صاحب کی اپنے استاد اور ادارے کے "تذویراتی اثاثہ جات" کے ہاتھوں شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر ہی پیپلزپارٹی سمیت دیگر بہت سے مذہبی اور سیاسی مکاتیب فکر کی جانب سے پرجوش بلکہ والہانہ خراجِ تحسین اس حقیقت کا غماز ہے کہ قوم واقعتاً دہشت گردوں کے خلاف یکسو ہو چکی ہے ..
خود ہم نے بهی اچھی طرح واضح ہونے کے باوجود کہ موصوف کا پیشہ ورانہ اور سیاسی ہر تعلق دہشتگردی کے سرپرست ادارے اور پارٹی کے ساتھ رہا اور دہشت گردوں کے خلاف بطور وزیر داخلہ پنجاب، خود آپ کی عملی اور نتیجہ خیز کارروائی بهی ملک اسحاق کی ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہی؛ اس بنیادی وجہ سے کرنل صاحب کو "شہید" لکها ہے کہ انہوں نے اپنی جان اپنے "مہربانوں" کے پالتو درندوں کے ہاتھوں گنوا کر بے نظیر بھٹو شہید، سلمان تاثیر شہید، بشیر احمد بلور شہید اور شہباز بھٹی شہید جیسے جان کی بازی لگانے والوں کی صف میں جگہ پالی ہے ...
مذہبی بدمعاشی کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کرنے والے تمام شہدائے حق کو سرخ سلام ...
مکمل تحریر >>

15 اگست، 2015

کیسی دی آزادی جو ہے خود پہ پشیمان...؟؟

"منظم طاقت کے زور پر چهینی گئی آزادی کے بغیر جو کچھ حاصل ہوتا ہے؛ وہ ایک پائیدار ہڑبونگ کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا".........
۱۴ مئی ۱۹۴۷(تقسیم ہند سے کئی سال پہلے) بانکی پور میدان، پٹنہ میں نقیب فطرت حضرت علامہ المشرقیؒ کا تاریخ ساز خطاب، اس جلسہء عام میں پچاس ہزارسے زائد افراد نے شرکت کی، اس تاریخ ساز خطاب میں علامہ نے تقسیم ہند کی جو تصویر کشی کی وہ آج حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہی ہے۔ آپ بهی پڑهنے اور سر دهنئے
.....................................
"صرف وہی انقلاب جو عوام کے متحدہ جسمانی زور سے میدان جنگ میں پیدا ہوا ہو ہندوستانیوں کو صحیح معنوں میں آزادی دے سکے گا۔ ایسا انقلاب ہی حکومت کے نظام کو الٹ پلٹ سکتا ہے جو اس وقت رائج ہے اور جس نے چالیس کروڑ انسانوں کے دل اس وقت مکمل طور پر انگریز سے برگشتہ کردیئے ہیں۔ 
صرف یہی جمہور کی طاقت سے پیدا ہوا ہوا انقلاب خود بخود برطانوی راج کے خدو خال کو مٹاکر اس کی جگہ ہندوستانیوں کا بنایا ہوا ہندوستانی راج قائم کرنے کا راستہ صاف کرسکتا ہے۔
انگریز کا ان لوگوں کو پرُ امن طور پر حکومت سپرد کردینا جن کو انگریزی طریقِ تخیل کی تربیت دی گئی ہے، بدترین قسم کے برٹش راج کو پھر لانے کے سوا کچھ پیدا نہ کرسکے گا۔ 
ایسا راج برطانوی راج سے کی بدترین صور ت سے بھی دس گنا زیادہ ظالمانہ، زیادہ بدصورت، زیادہ بھیانک، زیادہ سرمایہ دارانہ، اور غیر ہندوستانی ہوگا۔ یہ حقیقت میں تما م سچائیوں کا الٹ ہوگا۔ اور پچھلے سو سال میں انگریزوں نے جو بھلی یا بری شے ہندوستانیوں کو دی ہے اس کی مسخ شدہ تصویر ہوگا۔
یہ فی الحقیقت ایک منظم فتنہ، ایک مستقل ظلم اور پائیدار ہڑبونگ ہوگی جس سے بڑھ کر ہڑبونگ نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک ایٹم بم کی طرح کی دائمی حکومت اور دہشت کی دائمی بادشاہت ہوگی۔ 
اس میں دوسری قوموں کے قتل ِعام کا جواز حکومت کی طرف سے ہوگا۔ بچوں کو ماؤں کے پیٹ میں قتل کرنا، مخالف قوم کو یکسر مٹا دینا، غیر قوم کی صحیح تاریخ کو ملیا میٹ کردینا، ملی فلسفوں کی موت، باعزت روایات کو نیست و نابود کرنا اور خیالات کا قتل عام کرنا ان حکومتوں میں جائزہ ہوگا۔
ہندوستان میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کو حکومت سپرد کردینا اس سے زیادہ بدترین شہنشاہیت، زیادہ بدترین سرماداری، زیادہ ہلاکوخانیت پیدا کریگا جو آج تک کسی تاریخ نے پیدا کئے؛ ایسا راج دراصل برطانوی تو ہوگا لیکن برطانوی راج کی خوبیوں سے عاری ہوگا۔ 
یہ دنیا میں دوزخ کا نمونہ ہوگا۔ یہ ایشیا کے خوبصورت تمدنوں کو مٹادے گا، اخلاقی قواعد کے خوبصورت آئین کو، محبت اور باہمی رواداری کے خوبصورت فلسفے کو تہس نہس کردے گا۔ بلکہ درحقیقت ان تمام بنیادی سچائیوں کو جوایشیا کے بر اعظم نے پچھلے پانچ ہزار سال میں بنی انسان کو دی ہیں، یکسر نیست و نابود کردے گا۔
مجھے خطر ناک شکوک ہیں کہ ان حکومتوں کے ماتحت اٹھارہ کروڑ ادنیٰ ذات کے ہندو یا قریباً ساڑھے نو کروڑ مسلمان یا چھ کروڑ اچھوت اس قدر زندہ بھی رہ سکیں گے، کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاسکیں۔
مجھے سخت شکوک کہ آیا عربی کے ہندسے بھی باقی رہیں گے۔ عربی کے حروف تہجی بھی قائم رہیں گے یا اگر پلڑا دوسری طرف جھک گیا تو سنسکرت زبان اور ہندو فلسفے کا ہندوستا ن میں نام ونشان بھی باقی رہیگا یا نہیں۔ 
انتقالِ اقتدار کی موجودہ تجویز میری نظروں برلا راج، برہمن راج، خان بہادر راج، اور برٹش راج کی بے رحمانہ حکومت کی ایک شیطانی تجویز ہے جس میں انسانوں کے بجائے تمرد، سرمایہ داری اور ظلم حکومت کریں گے۔
موجودہ حالات میں آخر ی علاج یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام افراد اس خوفناک سازش کے خلاف یک جان و یک زبان ہوکر اٹھ کھڑے ہوں اور ان کے متحدہ زور سے ایک مشترکہ انقلاب پیدا ہو جس میں سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں انسان برلا، خان بہادر اور برٹش کی گولیو ں سے ہلاک ہوں گے۔ ہاں اس طرح لاکھوں ضرور مریں گے لیکن کروڑوں ضرور بچ جائیں گے. 
اگر طاقت حاصل کرنے کی حرص میں انسان نے انسان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کو لوٹ اور ظلم کا تماشہ دکھلانا ہے، تو وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے آدمیوں کی لاکھوں کی تعداد میں قربانی دیں تاکہ سچائی اور عزت کا بول بالا ہو؛ دیکھنا ہے کہ اس تجویز کا شیطانی ہونا کس قدر صحیح ثابت ہوتا ہے"۔
(علامہ عنایت اللہ خان المشرقی)
مکمل تحریر >>

14 اگست، 2015

"پنجابستان اب بن گیا ہے، پاکستان کا اصل نام"..!!

لبرل پارٹی آف کینیڈا کے ممبران پر مشتمل ایک گروپ "اونٹاریو لبرل کاکس" کی جانب سے، اونٹاریو پارلیمنٹ کی گیسٹس کاریڈور میں غیر سرکاری طور پر منعقدہ "جشن آزادیِ پاکستان" کی تقریب کے دوران قونصلیٹ جنرل پاکستان (قونصل جنرل آف پنجاب نہیں) اصغر علی گولو کی طرف سے اونٹاریو پریمئیر کیتھلین ونِ کو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے دورہ پنجاب کا سرکاری دعوت نامہ پہنچانا ہوا کے نئے رخ کی نشاندہی کررہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان صرف پنجاب پر ہی مشتمل ہی ہے اور وفاق کی نمائندگی اب صرف پنجاب ہی کیا کرے گا؛ باقی تین صوبوں کا پاکستان سے کوئی تعلّق نہیں رہ گیا۔ 
گزشتہ چند سالوں سے پنجاب باقی تین صوبوں کو علیحدہ رکھ کر اقتصادی فائدے حاصل کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ ایسا عمل وفاقِ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ 
اس سے پہلے پاک چائنا کاریڈور اور پاک چائنا اقتصادی منصوبے جات کے معاملات طے کرنے کے دوران بھی یہی حکمتِ عملی اختیار کی گئی تھی۔ 
پنجاب کی حکومت اور وزیرِ اعلی' نے پاکستان کے باقی تین صوبوں سندھ، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کی حکومتوں اور ان کے سربراہوں کو جان بوجھ کر اس طرح دور رکھا تھا؛ جیسے یہ تینوں صوبے پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کے صوبے ہوں۔ 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب جو کہ 52 فیصد آبادی کا صوبہ ہے، لیکن اقتدار کے سرچشمے یعنی افواجِ پاکستان، وفاقی ملازمتوں، نیم سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر قومی وسائل پر پہلے ہی اپنے حق سے زیادہ قنضہ جمانے کے باوجود پورے پاکستان کے وسائل اور اقتدار پر 100 فیصد قبضہ کرکے باقی تین صوبوں کو اپنا غلام بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ 
یہ عمل ایک خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اگر پاکستان کو سلامت رکھنا ہے تو اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور اگر پنجاب نے طے کر لیا ہے کہ باقی تین صوبوں کو اپنا غلام بنا کر رکھنا ہے تو خدانخواستہ پهر پنجاب ہی پاکستان رہ جائے گا۔ 
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا، بلوچستان میں بغاوت جاری ہے، سندھ کے حالات بھی کچھ امید افزا نہیں ہیں۔ خیبر پختون خواہ نے پاک چائنا اقتصادی منصوبے کے معاملے میں کھل کر پنجاب کی اس روش کی مخالفت کی ہے..
سوچئے خواتین و حضرات؛ ملکی حالات کس خوفناک انجام کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں..؟؟؟
مکمل تحریر >>

کیا ہم واقعی ایک "آزاد قوم" ہیں۔۔؟؟

قیام پاکستان کی 68 ویں سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے ہمیں لمحہ بھر رْک کر سوچنا ضرور چاہئے کہ ایک ایسی کیفیت میں جب ہم پر مْسلط کی جانے والی حکومتوں سمیت ہماری قسمت کے تمام فیصلے اب تک واشنگٹن اور لندن یا پھر ہمارے سابق آقا برطانیہ عظمیٰ اور موجودہ آقا امریکہ بہادر کے علاقائی اڈوں ریاض اور دوبئی میں طے کئے جاتے ہیں، جن کیلئے ہمارے باجگذار بادشاہوں سمیت بہادر سپہ سالاروں تک سب کو ان مقامات پر بْلا کر ایجنڈہ تھما دیا جاتا ہے، جسے بلا چوں و چرا مان لینے کے سوا ہمارے پاس آپشن ہی کوئی نہیں چھوڑی جاتی؛ 
نیز یہ کہ جب "مْملکت خْداداد" کا "عالمی کردار" صرف اور صرف عالمی سامراج کی ضروریات کے عین مطابق، صرف چند ملین ڈالرز کے عوض کبھی دہشت گردوں کی کھیپ تیار کرنا تو کبھی ڈالرز کی نئی قسط کے بدلے اپنے تیار کردہ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے سوا رہ ہی کچھ نہیں جاتا؛ …………
تو کیا "آزادی کے اس وکھرے ایڈیشن" کو مکمل آزادی کا نام دیا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔۔؟؟
مجھے یقین یہی ہے خواتین و حضرات کہ جواب آپ سب کا بھی میری طرح "مکمل نفی" میں ہی ہوگا۔۔۔ 
وجہ اس ”ادھوری آزادی“ کی قارئین؛ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ انگریز بہادر کی طرف سے سکھائی گئی ”سیاست“ نے ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ بھلے دنیا بھر کی قومیں سامراج کی غلامی سے چھٹکارہ پانے کیلئے متحد اورمنظم اجتماعی طاقت کو واحد وسیلہ جان کر کسی ایسی تنطیم سازی کا راستہ اختیار کرنے کی عادی رہی ہوں جو ڈسپلن پیدا کرنے والے کسی تربیتی نظام پر ”باقاعدہ عمل“سے گذرتا ہو، لیکن ہمارا گوری چمڑی والا ”مہذب“ آقا جب صرف قراردادوں اور ووٹوں کے مظاہرے پر ہی ”آزادی“ کی نعمت ہماری جھولی میں ڈال کر ’ازخود‘ ہماری جان چھوڑ رہا ہے تو ہمیں مصیبت مول لینے کی کیا ضرورت ہے،چلو آؤ”کھوٹے سکوں“ سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔۔ اسی لئے تو ہم نے اقوام کے عروج و زوال کے فطری قوانین کے منفرد شارح علامہ عنات اللہ المشرقیؒ کے اس بروقت انتباہ پر کان دھرنے کی ضرورت محسوس نہ کی کہ ”برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ غاصب انگریز سے کروانا نئے تنازعات کو دعوت دینے کے مترادف ہے، اسلئے ضروری ہے کہ ہندو اور مسلما ن دونوں متحد ہو کر پہلے سونے کی چڑیا کے پر نوچنے والے سامراج کو نکال باہر کریں اور آپس کے اختلافات بعدازاں باہم بیٹھ کر طے کرتے رہیں“۔
قارئین کرام؛ اس "ادھوری آزادی" اور "دہشت گردی کی جنت" کے عالمی اعزاز سمیت ہمارے تمام مسائل کی واحد وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم ایک "قوم" نہیں بلکہ افراد کا ایک غیر منظم وجود ہیں، لہٰذا واحد اور نتیجہ خیز "حل" بھی یہی ٹھہرا کہ "پاکستانی" نامی بھیڑ بکریوں کو پہلے ایک "قوم" کی صورت منظم کیا جائے، جس کے بعد یہ "قوم" دہشت گردی کے علاوہ اخلاقی، اقتصادی اور معاشرتی بْحران سمیت تمام مسائل کا توڑ خود دریافت کر لے گی۔۔ قوم سازی اور اقوام عالم کے عرج و زوال جیسے علوم پر میرے ناچیز مطالعہ کی رْو سے اس "منظم" وجود کی تشکیل کا تیز تر اور تیر بہدف نْسخہ علامہ المشرقیؒ کی خاکسار تحریک جیسے عملی تربیت کے کسی پروگرام پر باقاعدہ عمل کی روایت ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ ……. وما الینا علی البلاغ
مکمل تحریر >>

11 اگست، 2015

مینارٹیز ڈے یا مذاق اعظم ..؟؟

بانئِ پاکستان کی "نیشنل آرکائیوز" سے غائب، 11 اگست 1947 کی جس "المشہور" تقریر کے حوالے سے اس دن کو "یومِ اقلیتاں" قرار دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بنیاد کو "سیکولر" ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؛ آئیے آج ملک کی پہلی غیر منتخب "دستور ساز اسمبلی" کے پہلے اجلاس سے بانی گورنر جنرل کے اس خطاب کی حقیقت کو انہی کے اس سے پہلے اور اس کے بعد کے فرمودات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں ..
ہمارے ہاں کی "اقلیتیں" اور سیکولرازم کے علم بردار بانئی پاکستان کی 11 اگست 1947 کے "تاریخ ساز خطاب" کے جن الفاظ کو لے کر پهولے نہیں سماتے، ان کا مفہوم یہ ہے کہ "ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہئے کہ آپ کس عقیدے، کس مذہب یا کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں؛ بحیثیت شہری آپ میں سے کسی کو دوسرے پر کوئی فوقیت یا امتیاز حاصل نہیں رہے گا" اور یہ کہ "کچھ عرصہ بعد پاکستان میں سیاسی حقوق کے حوالے سے ہندو اور مسلم سمیت تمام طبقات مساوی حیثیت کے حامل ہو جائیں گے"..
قارئین گرامی؛ ہم بهی بابائے قوم کی محولہ بالا تقریر میں سے "مملکت خداداد" کی سیکولر بنیاد کشیدنے کے ساتھ ساتھ "اقلیتوں کو مملکت کے مساوی شہری" تسلیم کر لیتے؛ اگر ہم نے "بابائے قوم" کی زندگی میں ہی ابهر آنے والے چند تضادات دیکھ نہ رکهے ہوتے اور مذکورہ خطاب کی تردید کرتے ان کے کچھ بیانات نہ پڑهے ہوتے ...
مثلاً آپ نومبر 1945 میں پیر صاحب آف مانگی شریف کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ "نئی ریاست کی دستور ساز اسمبلی مسلمانوں کے غلبہ کے زیرِ اثر ہوگی، لہٰذا وہ شریعت کے منافی قانون سازی نہیں کرسکے گی اور اس طرح مسلمان غیر اسلامی قوانین کے پابند نہیں رہیں گے" ...
خواتین و حضرات؛ اگر تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی، اس مفروضہ تهیسز کو درست تسلیم کر لیں کہ جناح صاحب کی اصل پالیسی بعدازاں دستور ساز ادارے سے ان کے خطاب کی صورت میں ظاہر ہوئی؛ تو پهر درج ذیل اقدامات بارے کیا رائے قائم کی جائے..؟؟
1. بانئی پاکستان کی زندگی میں ہی، اور ظاہر ہے آپ کی منظوری سے سوڈان کے اسد نامی اس نومسلم کو "علامہ" کے خطاب کے ساتھ پاکستان بلا کر ملک کیلئے "اسلامی آئین" کی تشکیل کی ذمہ داری سونپی گئی، جس نے اس سے پہلے سعودی عرب کیلئے "اسلامی قوانین" مرتب کئے تهے
2. قرارداد مقاصد جیسی متنازعہ دستاویز کی تیاری پر کام بهی آپ کی زندگی میں ہی شروع کر دیا گیا تھا، جسے بعد ازاں ریاست کے ہر آئین کیلئے رہنما دستاویز کی صورت میں ہر آنے والی مقننہ پر مسلط کر دیا گیا
..... چلئے قارئین؛ اس مفروضے پر بهی ایمان لے آئے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں اقدامات سمیت دیگر ایسی پیش رفت جناح صاحب کو اعتماد میں لائے بغیر عمل میں لائی جاتی رہی ... 
لیکن پهر 11 اگست 47 کی "سیکولر تقریر" کے ٹهیک 13 ماہ بعد 11 ستمبر 48 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران آپ کی جانب سے فراہم کردہ اس "گائیڈ لائن" کو کیا نام دیا جائے کہ 
"ملک کا اقتصادی نظام اسلام کے معاشی اصول و ضوابط کی روشنی میں ترتیب دیا جائے گا"..؟؟
مزید برآں؛ ان گائیڈ لائنز سے پہلے لیکن 11 اگست والے خطاب کے بعد 14 فروری 1948 کو "سبی دربار" سے خطاب اور اسی ماہ امریکی عوام کے بام نشریاتی پیغام کے ان فرمودات کی کیا تشریح ممکن ہے کہ
"ہماری جمہوریت کی بنیاد رسول اللہ صلعم کے مرتب کردہ سنہری اصولوں پر استوار ہے، جو آج بھی اسی طرح قابل نفاذ ہیں، 1300 سال قبل جیسے تهے"..؟؟؟
خواتین و حضرات؛ مندرجہ بالا شواہد و نکات کی روشنی میں آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ "بابائے قوم کے ذہن میں نوزائیدہ مملکت کے نظام بارے کوئی واضح نقشہ تها بهی یا آپ موقع محل اور ضرورت کے مطابق سیاسی قسم کے بیانات کے ذریعے کام چلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہے"...؟؟؟
مکمل تحریر >>

10 اگست، 2015

المیہ قصور اور ہمارا رویہ .!!

یقین جانئے قارئین؛ آرمی پبلک اسکول میں 145 ننھے فرشتوں کے خون سے کهیلی گئی ہولی کے بعد قصور میں 280 معصوم جانوں کے ساتھ بدفعلی جیسے اندوہناک سانحہ نے دنیا جہاں کی سختیاں سزا جان کر جھیلنے کے عادی اس قلم کار کے اعصاب کو بهی بری طرح جهنجوڑ کر توڑ پھوڑ دیا ہے کہ دو روز سے کوشش اور ارادہ کے باوجود اس قیامت خیز المیہ پر قلم اٹھایا نہ جاسکا؛ کہاں سے لاؤں وہ الفاظ جو خود پر بیتی واردات اور احساسات کا حق ادا کر سکیں ... 
یہ کیفیت قارئین گرامی؛ شاید ایک آدھ دن مزید جاری رہتی کہ دفعتاً شرفائے البنجاب کے دو "بهونپووں" کی لن ترانی یکے بعد دیگرے نظر سے گذری، جس نے گویا پہلے سے شکستہ اعصاب کو عذاب مزید سے دوچار کر دیا ...
غور فرمائیے خواتین و حضرات؛ اور داد دیجئے ڈھٹائی اور بے حسی کی بے غیرتی کو چھوتی ہوئی اس انتہا کو کہ جیسے "ہم" نے ملکی عدالتوں اور ریاستی اداروں کو تو پہلے ہی خرید کر رکها ہے، اب "قانون مکافات عمل" بهی گویا ہمارے زیرِ نگیں آگیا ہے...؟؟
"بڑے میاں" کے معتمد خصوصی طلال چودھری کے نزدیک "یہ سانحہ غیر معمولی قطعی طور پر نہیں سمجھا جاتا چاہئے؛ ایسے واقعات عموماً رونما ہوتے ہی رہتے ہیں"...
جبکہ "چھوٹے میاں" کے دست راست رانا ثناء اللہ کے ملتے جلتے خیال کے مطابق "قصور کا واقعہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ اسے اسکینڈل بنا دیا جائے"....
پیارے احباب؛ اس "شان بے نیازی" کی وضاحت کیلئے میرے پاس مناسب الفاظ موجود نہیں، آپ نتیجہ خود اخذ کرتے رہئے ....
مکمل تحریر >>

جاپان پر ایٹم بم گرانے جیسا انتہائی اقدام کیونکر اٹھانا پڑا..؟؟

جی ہاں؛ ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران امریکہ اور روس کی قیادت میں قائم بڑی طاقتوں پر مشتمل "اتحادی افواج" کو ہٹلر کے جرمنی، جنرل ٹوٹو کے جاپان اور مسولینی کے اٹلی جیسے نسبتاً کمزور ممالک کے اتحاد کے ہاتھوں مختلف محاذوں پر خاصی عبرتناک خفت اٹھانے کے باوجود ایٹمی بمباری کا خیال نہ آیا، ایٹم بم گرانے کی ضرورت اگر آن پڑی تو اس وقت جب ہندوستان کی وہ "کالونی" ہاتھ سے نکلتی دکهائی دی، جس کے سودے بازی کی وجہ سے اسلحہ کی پیداوار اور تجارت کے ذریعے عالمی سامراج جیسی طاقت پکڑنے والا امریکہ بہادر اس عالمی جنگ کے دوران ہندوستان پر قابض برطانیہ کو اسلحہ اور نقدی کی شکل میں چودہ ملین پونڈز قرضہ روزانہ کے حساب سے دے رہا تها، اچھی طرح یہ جان لینے کے باوجود کہ اس کا برطانوی حلیف جنگ کی تباہ کاریوں سے بچ بهی نکلا تو کم از کم یہ بهاری قرض لوٹانے کی پوزیشن میں بہرحال نہ رہے گا، سوائے اس کے کہ ہندوستان جیسی سٹریٹجک اہمیت کی حامل اپنی کالونی کا قبضہ بدلے میں اپنے قرض خواہ کے حوالے کر جائے ..
اور قارئین گرامی؛ جنگ عظیم دوم کے بعد اب تک 70 سال کی تاریخ گواہ ہے کہ عملاً ہوا بهی ایسا ہی ہے ...
خواتین و حضرات؛ ہم بتا رہے تھے کہ امریکہ کو جنگ عظیم کی بڑی بڑی تباہ کاریوں کے باوجود ایٹمی ہتھیار استعمال میں لانے کی ضرورت اس وقت پیش آئی، جب جاپانی افواج رنگون (برما) پر قبضہ مکمل کرنے کے بعد سمندری راستے سے ہندوستان کی جانب پیش قدمی شروع کر چکی تهیں، جہاں نیتا جی سبهاش چندر بهوس کی "انڈین نیشنل آرمی" کے دستے ان کی رہنمائی کی خاطر سمندر میں لنگر انداز، جاپانی افواج کے بے چینی سے منتظر تهے ...
اور اس طرح جاپان کے دو اہم ترین شہروں کو ایٹمی تباہ کاری کا شکار کرنے کے بعد امریکہ نے جاپانی دستوں کے ہندوستان کی جانب بڑهتے قدم روک کر اپنے اس "تذویراتی اثاثہ" کو محفوظ کر لیا؛ جسے بعد ازاں تقسیم کے ایک سوچے سمجهے منصوبے کی مدد سے ایسا مسلسل میدان جنگ بنا دیا گیا، جو گذشتہ 7 دہائیوں سے امریکی اسلحے کی منافع بخش مارکیٹ بنے رہنے کے ساتھ ساتھ اہم ترین جغرافیائی اہمیت کے حامل اس خطے میں امریکہ کے سیاسی مفادات کے مورچے کا فریضہ بهی بطریق احسن انجام دئے جا رہا ہے ...
قارئین؛ تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ فیصلہ اب خود کرلیجئے کہ 2 ایٹم بموں کے بدلے میں "الباکستان" جیسی 53 ویں اسٹیٹ؛ سودا مہنگا ثابت تو بہرحال نہیں ہوا نا ...؟؟؟
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے