22 اگست، 2015

جنرل حمید گل اور چرسی لابی

شیعہ مکتبہ فکر بنیادی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو ان کے اہل علم و دانش پر مشتمل ہے۔ آپ اس حلقے کی زبان سے کبھی بھی گالی یا غیر شائستہ بات نہیں سن پائینگے۔ یہ خاموشی اور رواداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور بالعموم سیاست کے جھمیلوں سے دور رہتے ہیں۔ شیعہ عوام کی اکثریت بھی اسی حلقے سے جڑی رہتی ہے اور ہر طرح کے تنازعات سے دور رہ کر اپنے کام سے کام رکھتی ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو حشیشیوں اور چرسیوں پر مشتمل ہے۔ یہ اہل علم و دانش کے بجائے ان ذاکرین کا پیرو کار ہے جو ہر سال واقعہ کربلا کا نیا ورژن سامنے لاتے ہیں اور جنہوں نے اس حوالے سے اتنی تحریفات کر رکھی ہیں کہ عیسائیوں کی بائبل بھی انگشت بدنداں ہے۔ اس گروہ کی صدیوں سے ایک ہی پہچان ہیاور وہ ہے "گالی" جو ان کے ہاں عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ گالیوں کے حوالے سے بھی ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گد کی طرح اپنے شکار کے مرنے کا انتظار کر تے ہیں۔ ادہر اس کی جان نکلی اور ادہر یہ اس پر پل پڑے۔ اس حوالے سے اس گروہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت تقریبا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو نہیں بخشا تو جنرل حمید گل کیا چیز ہے۔ آپ یقین کیجئے میرا شیعہ اہل علم کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ وہ ان چرسی ذاکرین اور ان کے پیرو کاروں کو ہم سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ میں ان کے لئے "چرسی" کا خطاب کسی طنز یا غصے کے سبب استعمال نہیں کر رہا بلکہ مجھے کئی شیعہ علماء بتا چکے ہیں کہ یہ ذاکر چرس پیئے بغیر کبھی بھی مجلس نہیں پڑھتے اور ان کی سب و شتم میں چرس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔
اس گروہ کو جنرل حمید گل سے شکایت یہ ہے کہ سپاہ صحابہ (میں یہی نام استعمال کرتا ہوں) کے رہنماء مولانا محمد احمد لدھیانوی کو انہوں نے خود سے بہت قریب رکھا تھا۔ اگر اس قربت کا نتیجہ یہ نکلا ہو کہ یہ جماعت زیادہ متشدد بن کر ابھری ہو تو پھر اس گروہ کی شکایت بجا لیکن اگر اس قربت کے نتائج آج لوگوں کے سامنے اس شکل میں موجود ہیں کہ سپاہ صحابہ "کافر کافر۔ شیعہ کافر!" کا نعرہ ترک کر چکی ہے اور اپنے ورکرز کو سمجھا چکی ہے کہ یہ نعرہ نہ جلسوں میں لگے گا اور نہ ہی جلوسوں میں حتیٰ کہ وال چاکنگ اور سٹیکرز سے بھی یہ نعرہ غائب ہو چکا ہے تو کیا یہ برا ہوا ہے؟ اسی طرح اگر اس قربت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج اگر کسی امام بارگاہ پر دہشت گردی ہوتی ہے تو سپاہ صحابہ اس کی کھلے عام مذمت کرتی ہے تو کیا یہ غلط ہوا ہے؟ اگر اس قربت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سپاہ صحابہ خود کو لشکر جھنگوی سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر چکی ہے اور لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق نے اس کے رد عمل میں سپاہ صحابہ پر قبضہ کر کے محمد احمد لدھیانوی کو بیدخل کرنے کی سرتوڑ مگر ناکام کوششیں کیں تو یہ معمولی بات ہے؟ اگر اس قربت کے نتیجے میں سپاہ صحابہ ایک متشدد جماعت سے ایک ایسی تنظیم میں ڈھل گئی ہے جس کی جد و جہد کا مرکزی پوائینٹ یہ ہے کہ نفرت انگیز لٹریچر اور زبان کے سد باب کے لئے آئین و قانون میں ترامیم کی جائیں تو کیا یہ غیر معقول اور معمولی تبدیلی ہے؟؟؟
اسی گروہ کی جانب سے شکر گڑھ کی زمینوں کا ایک سکینڈل اچھالا جا رہا ہے جس کا لنک کچھ دوست بار بار میری پوسٹوں پر پیسٹ کر دیتے ہیں۔ اللہ کے بندو اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر اس سکینڈل میں ذرا بھی جان ہوتی تو جنرل مشرف اسے استعمال نہ کر چکا ہوتا؟ سی این این اور بی بی سی اسے صبح و شام نہ اچھال رہے ہوتے؟ حامد میر اور سلیم صافی اس پر چٹخارے دار پروگرام نہ کر چکے ہوتے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متاثرین افتخار چوہدری کے دور میں سپریم کورٹ کا دروازہ نہ کھٹکھٹا چکے ہوتے؟ ایک چھیتڑے نے یہ بکواس شائع کردی اور آپ چونک اٹھے۔ سلام ہے آپ کے فہم کو!!!
مکمل تحریر >>

19 اگست، 2015

حریف کی گواہی

میں نے بارہا یہ بات کہی اور لکھی ہے کہ پاکستانیت میرے لئے مسلک کا درجہ رکھتی ہے۔ جنرل حمید گل اس مسلک کے امام تھے جن کی ریٹائرمنٹ کے بعد والے 23 میں سے بیس برس میں ان کے بیحد قریب رہا۔ اس قربت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں ان کے فیملی سے باہر کے ان تین لوگوں میں سے ایک ہوں جنہیں وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ ڈائیننگ ٹیبل پر شریک کر لیا کرتے تھے۔ انتقال سے صرف ایک روز قبل یعنی چودہ اگست کی شام برادرم سیف اللہ خالد کی کال آئی کہ جنرل صاحب تمہارا پوچھ رہے ہیں۔ وہ جب بھی مجھ سے رابطے کی کوشش کرتے اور کسی وجہ سے نہ ہو پاتا تو سیف اللہ خالد سے میری خیریت پوچھ لیا کرتے جس کی وہ مجھے اطلاع کردیا کرتے اور میں رابطہ کر لیتا۔ چودہ اگست کو بھی میں نے کال کی لیکن وہ مری میں تھے جہاں ان سے ٹیلیفونک رابطہ سگنلز کے مسائل کے سبب ہمیشہ بہت مشکل سے ہوتا۔ میری بدقسمتی کہ اس روز بھی رابطہ نہ ہوسکا۔
جنرل حمید گل مرحوم تھے تو پاکستان آرمی کی آرمڈ کور سے لیکن ان کی زندگی کا غالب ترین حصہ ایک نامور "سپائی لیجنڈ" کی حیثیت سے گزرا۔ مشکل یہ ہے کہ اس حیثیت میں ان کی زندگی کا صرف وہ حصہ صرف نہیں ہوا جو وردی میں تھا بلکہ بعد کی زندگی بھی حکمت عملی کی تبدیلی کے ساتھ کچھ یوں اسی حوالے سے رہی کہ وہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے فکری و عسکری رہنماء تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد والی زندگی میں انہوں نے دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کو کبھی بھی کسی طاقت کے مفادات پر حملوں کے لئے نہیں اکسایا۔ وہ صرف اور صرف ان مسلمانوں کی مدد کرتے جنہیں کسی بیرونی حملہ آور کا سامنا ہوتا۔ اور اس معاملے میں اس حد تک چلے جاتے کہ 2006ء کی حزب اللہ اسرائیل جنگ کے دوران وہ کئی ہفتے ایران میں رہے جہاں سے جنگ کے اختتام پر واپس لوٹے۔
بہت کم لوگ اس بات کو سمجھ سکے کہ جنرل مشرف کا نعرہ "سب سے پہلے پاکستان" عین اس وقت سامنے آیا جب جنرل حمید گل سے ان کا ٹاکرا عروج پر پہنچ گیا۔ مشرف کا یہ نعرہ درحقیقت حمید گل کے نظریئے کو توڑنے کے لئے سامنے آیا تھا جو ریاست اور میڈیا کے تمام وسائل بروئے کار لانے کے باوجود بری طرح پٹ گیا اور اب جنرل مشرف بھی اپنے اس نعرے کو ترک کر چکا۔ آج جنرل مشرف کی نظریاتی شکست اس درجے کو پہنچ چکی ہے کہ جنرل حمید گل کے مخالفین اپنا نظریہ منوانے میں ناکامی کے نتیجے میں ان کی لاش کو گالیوں اور طنز کے تیروں سے نشانہ بنانے پر اتر آئے ہیں۔ کیا سلیم صافی کو الیکٹرانک میڈیا پر جنرل مشرف نے متعارف نہیں کرایا تھا؟ کیا وہ جنرل مشرف کے دور میں پی ٹی وی پشاور سے ٹاک شو نہیں کرتے تھے؟ اور کیا پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے ٹاک شوز فقط حکمرانوں کی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لئے نہیں ہوتے؟ کیا یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ جنرل حمید گل اور جنرل مشرف میں سے کس نے پاکستان کو تباہی سے دوچار کیا؟
جنرل حمید گل روس کے خلاف لڑے گئے افغان جہاد۔ کشمیر کی آزادی کے لئے لڑے گئے کشمیر جہاد اور دنیا کے چوالیس ممالک کے خلاف لڑے گئے افغان طالبان کے جہاد کے ہیرو ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ان تینوں جہادی تحریکوں کے وابستہ افراد نے کب اور کہاں پاکستان کے مفادات پر کوئی حملہ کیا؟ پاکستان پر حملے صرف ان درندوں نے کئے جو "سب سے پہلے پاکستان" کا نعرہ لگانے والوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور جن کا ان تینوں جہادی تحریکوں سے دور پار کا بھی کوئی رشتہ نہ تھا۔
جنرل مشرف کی سوچ نے نیک محمد، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور فضل اللہ کو جنم دیا۔ افغان جہاد کے آغاز پر نیک محمد صرف چار سال کا تھا اور جب جہاد اختتام کو پہنچا تو وہ چودہ برس کا تھا۔ جب افغان جہاد شروع ہو رہا تھا تو بیت اللہ محسود پانچ سال کا تھا اور جب افغان جہاد ختم ہوا تو وہ پندرہ سال کا تھا۔ حکیم اللہ محسود افغان جہاد شروع ہونے سے ایک ماہ قبل پیدا ہوا اور جب یہ جہاد ختم ہوا تو وہ دس سال کا تھا۔ فضل اللہ بھی افغان جہاد کے آغاز پر صرف پانچ سال کا تھا اور جب جہاد مکمل ہوا تو وہ پندرہ سال کا تھا۔
جنرل حمید گل نے افغان جہاد میں مولانا یونس خالص، پروفیسر برہان الدین ربانی، گلبد الدین حکمتیار، عبدالرب رسول سیاف، نبی محمدی،پیر احمد شاہ گیلانی، صبغت اللہ مجدی، احمد شاہ مسعود، جلال الدین حقانی اور ارسلان خان رحمانی کی سرپرستی کی۔ کوئی بتا سکتا ہے ان لوگوں نے پاکستان پر کتنے حملے کئے؟ اسی طرح کشمیر جہاد کے حوالے سے جنرل حمید گل کے فیض یافتہ سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک، عبد الغنی لون، آسیہ اندرابی، حافظ سعید، فاروق کشمیری، گل زرین، سید صلاح الدین، سجاد افغانی اور مشتاق زرگر رہے کوئی ہے جو ان پر پاکستان پر حملوں کی فرد جرم پیش کر سکے؟
نائین الیون کے بعد افغانستان پر حملہ ہوا تو جنرل حمید گل نے اس جہاد میں ڈنکے کی چوٹ پر افغان طالبان کی حمایت کی جس کی قیادت میں ملا عمر، ملا داداللہ، امیر خان متقی، ملا اختر عثمانی، ملا منصور، ملاعبد الرزاق، ملا حسن، ملا احمد زئی، ملا ضعیف، ملا برادر، سراج الدین حقانی، ذبیح اللہ مجاہد اور طیب آغا شامل تھے۔ کیا ان میں سے کسی نے یا ان کے ورکرز نے کبھی پاکستان پر ایک بھی حملہ کیا؟ اور حملہ بھی چھوڑیئے پاکستان کے خلاف اخباری بیان تک دیا؟ آپ یہ مانے بغیر رہ ہی نہیں سکتے کہ اس خطے میں عسکریت کی دو طرح کی تحریکیں پیدا ہوئیں ایک وہ جو افغانستان پر روسی حملے کے نتیجے میں پیدا ہوئی اور دوسری وہ جو جنرل مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ فیصلہ آپ کر لیجئے کہ ان میں سے پاکستان کی دشمن کونسی تھی اور پاکستان کی دوست کونسی؟ اگر اب بھی آپ نے جنرل حمید گل کو ہی گالی دینی ہے تو شوق سے دیجئے کہ یہ گالی ہی ان کی کامیابی کی گواہی ہے اور حریف کی گواہی سب سے معتبر سند کا درجہ رکھتی ہے!!!
مکمل تحریر >>

11 جون، 2015

ڈالر کی قسم !

وہ فقر و استغناء کی علامت نظر آتا۔ اس کا دو کمرے کا فلیٹ بطور مثال پیش ہوتا۔ وہ گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہوتا تو ٹفن ہاتھ میں ہوتا۔ وہ سادہ سی گاڑی میں سفر کرتا اور ہر سگنل پر اس کی گاڑی رکتی۔ وہ کہتا، میرے پاس کپڑوں کے دو ہی جوڑے ہیں، ایک وہ جو تن پر ہے اور دوسرا وہ جو دھلنے گیا ہے۔ اس کے ان دو جوڑوں پر بھی دھبے نظر آتے۔ شائد اسے بھی کسی نے کہہ رکھا تھا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے موزے پھٹے اور جوتے ادھڑے ہوتے۔ وہ پہلے کھولتا پھر بولتا اور جب بولتا تو لگتا یہودیوں کے بد ترین دشمن بخت نصر کی روح مجسم ہو گئی ہے۔ وہ بس"شہنشاہ" والے امیتابھ بچن کی طرح یہ نہیں کہتا تھا "رشتے میں تو ہم تمہارے باپ ہوتے ہیں، نام ہے شہنشاہ" باقی کاسمیٹکس ہر زاویئے سے مکمل اور بے داغ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے مشہور ہیروئینوں کو بغیر میک اپ کے تو دیکھا ہوگا؟ بالکل ویسی رنگت جو تالاب خشک ہونے پر زمین کی ہوتی ہے۔ سابق ایرانی صدر احمدی نژاد پر وہی وقت ہے۔ ہیروئین کا میک اپ بہہ رہا ہے اور خشک تالابی رنگت سامنے آتی جا رہی ہے۔ ان کے پہلے دور حکومت کے نائب صدر محمد رضا رحیمی کو پانچ سال قید اور تین لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہوچکی جبکہ دوسرے دور حکومت کے نائب صدر حامد بقائی کو بھی عدالتی کار روائی کے لئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب احمدی نژاد کی باری ہے۔ سادگی کے اس گوتم بدھ کی زیادہ نہیں بس ستر ارب ڈالر کی میگا کرپشن پکڑی گئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری ایران جاتے تو علی خامنہ ای کے بجائے احمدی نژاد پر وارے جاتے۔ پروٹوکول کسی کے کول نہ رہتا اور دونوں یوں ملتے جیسے لنگوٹیے اور ہم مشرب ہوں۔ جیسے دونوں وہ جڑواں بھائی ہوں جو بچپن میں بچھڑنے کے سبب باہمی رشتے سے تو ناواقف ہوں لیکن ایک دوسرے کے لئے غیر معمولی کشش محسوس کرتے ہوں۔ بالکل فلموں کی طرح۔ وہ جڑواں نہ سہی، دودھ شریک بھی نہ سہی، ڈالر کی قسم کھیر شریک بھائی تو لگتے ہی ہیں۔

 

مکمل تحریر >>

14 اپریل، 2015

انقلابی پکوڑے

ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔ عمران خان کے دورہ کراچی سے قبل ضمنی الیکشن والے حلقہ 246 میں پی ٹی آئی بھر پور سرگرمی دکھا رہی تھی جسے رینجرز کی جانب سے مکمل سیکیورٹی اور میڈیا کی جانب سے زبردست کوریج بھی حاصل تھی جبکہ جماعت اسلامی کچھ ڈھیلی بھی نظر آ رہی تھی اور اس کی ریلی کو سیکیورٹی اور جلسے کو پی ٹی آئی جیسی کوریج بھی نہیں ملی لیکن عمران کے دورے کے بعد سے پی ٹی آئی کی سرگرمیاں اس حلقے میں یکدم معدوم ہو گئی ہیں جبکہ جماعت اسلامی اب چھائی نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پر اس حلقے میں پولنگ ایجنٹوں کے لئے اپیل کی گئی ہے جو بجائے خود ایک حیران کن بات ہے کیونکہ پولنگ ایجنٹ سیاسی جماعتوں کے قابل اعتماد ورکرز ہوتے ہیں جنہیں امیدوار خود اپنے اعتماد اور شناخت کی بنیاد پر چنتا ہے۔ جس حلقے سے گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی نے تیس ہزار سے زائد ووٹ لئے وہاں پولنگ ایجنٹوں کے لئے اپیل سمجھ نہ آنے والی بات ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کے بیانات انتخابی سے زیادہ انقلابی تھے۔ غالبا وہ اس تصور کے ساتھ کراچی گئے تھے کہ پورا کراچی ان کے تاریخ ساز استقبال کے لئے نکل آئے گا جس سے کراچی میں انقلاب برپا ہو جائے گا لیکن انکے استقبال کے لئے تیس ہزار ووٹرز کا دسواں حصہ بھی باہر نہیں آیا، شائد اسی چیز نے پی ٹی آئی کو خان صاحب کے دورے کے بعد سے سناٹے سے دو چار کردیا ہے۔ دوسری جانب سراج الحق کوئی انقلاب برپا کرنے نہیں گئے بلکہ انہوں نے اپنی ٹون انتخابی مہم تک محدود رکھی جو انکے منجھے ہوئے سیاستدان ہونے کی دلیل تھی۔ خان صاحب کا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ منہ ضرورت سے زیادہ کھول دیتے ہیں اور دعوے اتنے بڑے کر ڈالتے ہیں کہ ہمالیہ اور قراقرم کی چوٹیاں بھی حیرت سے ایک دوسرے کو تکنے لگتی ہیں اور ان کی یہ حیرت تب ہی ختم ہوتی ہے جب کنٹینروں کے نیچے سے مرے ہوئے چوہے برآمد ہو جاتے ہیں۔ وہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا محسن ہوگا جو خان صاحب کو اس بات پر قائل کرلے کہ پاکستانی عوام کی غالب اکثریت کو واقعی ان کے انقلاب میں کوئی دلچسپی نہیں لھذا بہتر یہی ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی بھی نارمل سیاست کرے "انقلابی پکوڑے" فی الحال نہیں چل سکتے۔
مکمل تحریر >>

دیوارِ خوف سے دیوار امن تک

انسانی تاریخ میں دو دیواروں کو عالمگیر شہرت ملی ہے۔ ایک دیوار چین اور دوسری دیوارِ برلن۔ یہ تعبیر اس سے قبل استعمال تو نہیں ہوئی لیکن یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دیوارِ چین "دیوار امن" ہے جبکہ دیوار برلن "دیوارِ خوف" تھی ان دو دیواروں کے بعد اگر ہمارے ہاں کسی دیوار کو شہرت ملی ہے تو وہ کراچی کی دو دیواریں ہیں۔ ایک وہ جو ایم کیو ایم نے تعمیر کی اور دوسری وہ جس سے ایم کیو ایم کو لگایا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کی یہی خوبصورتی جان لیوا ہے کہ اس میں قائد اور ورکر ایک ہی "صف" میں کھڑے ملتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے جس وقت ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے ماسٹر مائنڈ معظم علی کو کراچی سٹی کورٹ کی دیوار سے لگایا جا رہا تھا عین اسی وقت الطاف حسین نے بھی خود کو لندن کے ایک پولیس سٹیشن کی دیوار سے لگنے کے لئے پیش کردیا۔ یاد رہے کہ کل ایک بڑے بلڈر یعنی دیواریں بنانے والے بابر چغتائی کو بھی دیوار سے لگایا جا چکا جبکہ جاوید لنگڑا کی بھی دیوار سے لگائے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں جو پاک بھارت دیوار کے اُس پار سے آیا تھا۔ ایم کیو ایم کے کو دیوار سے لگائے جانے کا عمل اس وقت سے نازک مرحلے میں ہے جب مچھ جیل کی دیوار سے لگے صولت مرزا نے پھانسی کے لئے دیوار چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کچھ اہم ترین لوگوں کو دیوار سے لگوانے کے لئے سب کچھ بتانے کا اعلان کیا۔ تب سے صولت مرزا سکون سے دیوار سے لگا بیٹھا ہے اور اس کے انکشافات کی روشنی میں کراچی سے یہ اہم گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ روز کسی نہ کسی کی گرفتاری ہوتی ہے اور روز رینجرز کسی کو 14 دن تو کسی کو 90 روز کے لئے دیوار سے لگانے لے جاتی ہے۔ ایم کیو ایم پر الزام ہے کہ اس نے سیاست کی آڑ میں جرائم کے اڈوں کی دیواریں تعمیر کیں جن سے کراچی میں دیوارِ خوف تعمیر ہوتی چلی گئی۔ کراچی کی یہ دیوار خوف ہمیشہ نواز شریف کے نشانے پر رہی ہے، گزشتہ ادوار کی طرح اس بار بھی وہ اپنے دور حکومت میں اس دیوار کو گرا رہے ہیں اور ایسی دیوارِ امن تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کراچی کے شہریوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔ ان کی پچھلی دو کوششیں تو ناکام رہی تھیں لیکن لندن کے ایک پولیس سٹیشن کی دیوار بتاتی ہے کہ دیوارِ خوف سے دیوار امن کا یہ سفر اس بار مکمل ہو کر رہے گا۔ دیوار برلن جیسی دیوارِ خوف کو گرنا ہی ہوتا ہے، پائیداری صرف دیوارِ چین جیسی دیوارِ امن کے حصے میں آتی ہے۔
مکمل تحریر >>

13 اپریل، 2015

پاکستان کی خارجہ پالیسی۔ ضمیمہ

یو اے ای
خارجہ پالیسی میں عرب ملکوں کا ذکر کرتے ہوئے میں نے جان بوجھ کر یو اے ای کا ذکر نہیں کیا تھا البتہ وہ جو لکھا تھا کہ "ان میں سے بعض تو برادران یوسف ثابت ہوتے رہے ہیں " اس سے یو اے ای ہی مراد تھا۔ میرا اسے حساسیت کے سبب ذکر نہ کرنا غلط ثابت ہوچکا سو چلئیاب ہلکا سا بیان کر دینا بہتر ہوگا۔یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات درحقیقت پیپلز پارٹی اور یو اے ای کے تعلقات ہیں۔ یہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کے دور میں خوشگوار رہتے ہیں جبکہ دیگر ادوار میں ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔ پاکستان نے گوادر پورٹ کی تعمیر شروع کی تو بلوچستان میں وہ بغاوت شروع کرائی گئی جو اس وقت بھی جاری ہے۔ اس بغاوت کے پیچھے چار ممالک موجود تھے جن میں یو اے ای ٹاپ پر تھا۔ یو اے ای کے ذمے اس بغاوت کے اخراجات اور دبئی کو بطور ہیڈ کوارٹر پیش کرنا شامل تھا جو جنرل کیانی کے دور تک وہ کرتا رہا۔ امریکہ کو گوادر پورٹ سے یہ تکلیف ہے کہ یہ چائنا کا ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ سینٹر بننے جا رہی ہیجبکہ ساتھ ہی پاکستان نیوی کو آبنائے ہرمز پر مکمل بالادستی فراہم کرتی ہے جو دنیا کو جانے والے ساٹھ فیصد آئل کی واحد گزرگاہ ہے۔ ایران کو یہ تکلیف ہے کہ اس کی چاہ بہار پورٹ کی حیثیت اس سے دوٹکے کی ہوجاتی ہے اور یہ کہ ایرانی نیوی کے عین دروازے پر پاکستان نیوی آ کر بیٹھ سکتی ہے جو کڑے وقت میں ایرانی نیوی کو مکمل بے اثر کرسکتی ہے۔ بھارت کو یہ تکلیف ہے کہ اس سے پاکستان نیوی اس کی رینج سے نکل گئی ہے۔ جبکہ شیخ زید بن سلطان لہولہان کی اولاد کا صدمہ یہ ہے کہ اگر پاکستان گوادر کو فری پورٹ بنا دیتا ہے تو دبئی اس خطے میں واحد آپشن نہیں رہے گی جس سے اس کی مارکیٹ گرنی شروع ہو جائیگی۔ جنرل کیانی اور پاشا نے مل کر یو اے ای کو ڈنڈا کیا تھا اور اسے اس سازش سے باہر نکالنے میں اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ ریٹائرڈ ہوتے ہی جنرل پاشا یو اے ای میں جا کر انہیں کی تنخواہ پر پاکستان کے مفادات کے مستقل محافظ بن گئے ہیں۔ جب سے یو ای کے درہم بند ہوئے ہیں بلوچستان کے باغی کمزور ہونا شروع ہوگئے ہیں اور اب وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگے ہیں۔ یمن کے پس منظر میں یو اے ای کی "ٹویٹر دھمکی" کا یمن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ درحقیقت یہ موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنا وہ بازو چھڑانے کی ناکام کوشش ہے جو جنرل پاشا مستقل مروڑے بیٹھے ہیں۔
مکمل تحریر >>

9 اپریل، 2015

پاکستان کی خارجہ پالیسی۔خارجہ پالیسی کی نوعیت

چونکہ پاکستان توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والا ملک نہیں اس لئے اس کی خارجہ پالیسی جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ہے، مثلا اسرائیل کے حوالے سے پاکستان اس اصول پر چل رہا ہے کہ اگر وہ گریٹر اسرائیل بننے کی غرض سے عرب ممالک پر حملہ آور ہوگا تو پاکستان اس کے خلاف ایکشن میں آئے گا ورنہ نہیں۔ ایران کی تمامتر دہشت گردیوں کے باوجود پاکستان اپنی سرزمین پر اس کے عزائم ناکام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، ایران میں کوئی جوابی کاروائی نہیں کرتا۔ انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کیا جس سے پاکستان اور انڈیا کے مابین دشمنی شروع ہوئی، پاکستان نے اس کی بنیاد نہیں رکھی۔ افغانستان نے پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی صوبہ سرحد پر دعویٰ کردیا اور آزد پختونستان کی تحریک شروع کروائی، اس تنازعے کی بنیاد بھی پاکستان نے نہیں رکھی۔ امریکہ اسرائیل کی محبت میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کھلے عزائم رکھتا ہے، ان عزائم کے خلاف بھی ہم اپنا دفاع ہی کر رہے ہیں۔ ان چار ممالک کے علاوہ جتنے بھی ممالک ہیں ان سے پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔
خارجہ اور دفاع کی وزارتوں میں کشمکش
پاکستان میں فوج اور سول حکومتوں کے تعلقات کی خرابی کی بنیاد ہمیشہ خارجہ پالیسی بنتی ہے اس لئے اس کے ایک پہلو کو سمجھنا ضروری ہے۔ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ رشتے میں سوتیلی بہنیں ہوتی ہیں۔ چونکہ خارجہ امور کا ایک اہم حصہ دفاعی امور سے ہی وابستہ ہوتا ہے اس لئے دنیا بھر میں یہ قاعدہ ہے کہ وزارت خارجہ کے وہ امور جو دفاع سے متعلقہ ہوتے ہیں ان میں فوج کی رائے مد نظر رکھنا لازم ہوتا ہے۔ مثلاََ اگر امریکہ ایک ملک سے جنگ لڑ رہا ہے تو اس کی وزارت خارجہ پینٹاگون کو بائی پاس کرکے اس ملک کے ساتھ جاری تنازعے میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی اور اگر اٹھائیگی تو تنازعہ شروع ہوجائے گا، جیسا کہ ہیلری کلنٹن کے دور میں وزارت خارجہ اور پینٹاگون میں افغانستان کے حوالے سے ٹھن گئی تھی۔ پینٹاگون افغانستان میں مزید فوج چاہتا تھا اور ہیلری اس کی مخالف تھیں۔ نتیجہ یہ کہ افغانستان میں بیٹھا امریکی کمانڈر جنرل میکرسٹل پھٹ پڑا جو امریکہ کے لئے عالمی شرمندگی کا باعث بنا۔ جرنیل کہتے ہیں کہ جنگ ہم لڑ رہے ہیں، گولیاں ہم کھا رہے ہیں اور مر ہم رہے ہیں، یہ وزارت خارجہ کے ٹھنڈے کمروں والے بیوروکریٹ ہوتے کون ہیں ہمارے معاملات میں بولنے والے؟ اسی طرح ہماری فوج کہتی ہے کہ جو سٹریٹیجک نوعیت کے فیصلے ہیں یہ راتوں رات تبدیل نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور یہ کم سے کم بھی دس اور زیادہ سے زیادہ بیس برس کے لئے ہوتے ہیں اور یہ فیصلے کسی بڑے ہدف کے حصول کے لئے ہوتے ہیں جس تک پہنچنے کے لئے بڑی قربانیاں دی گئی ہوتی ہیں لھذا ان اہداف کو حاصل کئے بغیر سٹریٹیجک فیصلوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جب میاں صاحب نے بھارت کی خواہشات کی تکمیل کے لئے پیش رفت شروع کی تو فوج کے ساتھ تعلقات میں کھچاؤ آگیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر اور دیگر اہم تنازعات حل ہوئے بغیر آپ اسے رعایتیں کیسے دے سکتے ہیں؟ میاں صاحب کو یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ تعلقات کی بہتری یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہونی چاہئے، اگر آپ بھارت کو کچھ دیتے ہیں تو اس کے بدلے اسی کا ہم وزن کچھ لیں بھی اور یہ کہ آپ تعلقات کی بہتری کے لئے وہی رفتار اختیار کیجئے جو نریندر مودی اختیار کرتا ہے۔ اگر نریندر مودی چالیس کی رفتار سے آرہا ہے تو آپ ستر کی رفتار سے مت جائیں۔ حاصل کلام یہ کہ خارجہ امور میں فوج کی مداخلت حیران کن نہیں بلکہ پوری دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے۔
آزاد خارجہ پالیسی
خارجہ پالیسی کی اس سیریز کا یہ آخری حصہ سب سے اہم ہے جو آپ کی دگنی توجہ چاہتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی مسلسل دباؤ میں رہتی ہے۔ اور یہ دباؤ سب سے زیادہ امریکہ اور اس کے بعد یورپ سے آتا ہے۔ مثلا امریکہ نے کہا کہ افغاستان میں ہمارا ساتھ دو اور ہمیں اڈے دو ورنہ ہم غاروں کے دور میں پہنچا دینگے اور ہمیں بظاہر یوٹرن لینا پڑا۔ اسی طرح آپ آئے روز بے شمار مسائل میں دیکھتے ہونگے کہ امریکہ کی فرمائشیں آرہی ہوتی ہیں جو بظاہر پوری کی جارہی ہوتی ہیں لیکن چور دروازوں سے پھر اپنے مقاصد کے لئے کام بھی پھیلانا پڑ جاتا ہے۔ اس قسم کی خارجہ پالیسی کو "آزاد خارجہ" پالیسی نہیں کہا جاتا۔ ہمارے سیاستدان قوم کو بیوقوف بناتے ہوئے حکومت وقت سے ہمیشہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ خارجہ پالیسی آزاد نہیں، اسے آزاد کیا جائے۔ میں اسے بیوقوف بنانا اس لئے کہہ رہا ہوں کہ خارجہ پالیسی اس ملک کی آزاد ہوتی ہے جس کی معیشت اپنے مضبوط قدموں پر کھڑی ہو۔ یہ کوئی کھڑے کھڑے محض ایک حکم سے آزاد ہونے والی جنس نہیں، بالفاظ دیگر یہ خارجہ پالیسی ہے کوئی قرون اولیٰ کی باندی نہیں کہ آپ نے کہا جا تو آزاد ہے اور وہ آزاد ہوگئی۔
اسے سمجھنے کے لئے بہترین مثال ماسکو ہے۔ ایک وقت تھا جب ماسکو پوری دنیا پر دھاڑتا تھا۔ اس کا وزیر خارجہ کسی ملک میں اترتا تو ساری دنیا کے کان کھڑے ہو جاتے کہ یہ کیوں گیا ہوگا؟ یہ کیا چاہ رہا ہوگا؟ اور پھر وہ وقت آیا کہ سوویت یونین ٹوٹا اور اسی ماسکو میں لوگ لائن میں لگ کر ڈبل روٹیاں حاصل کرنے لگے، جس سے وہ وقت آگیاکہ امریکہ سے وزارت خارجہ کا انڈر سیکریٹری ماسکو میں اترتا اور ان سے مطالبات کر کے چلا جاتا اور جاتے جاتے گویا یہ بھی کہہ جاتا "چائے میں پتی کم اور چینی تیز تھی، آئندہ خیال رکھنا"اور حالات اس حد تک چلے گئے کہ ماسکو سے اس کے ایٹمی ہتھیاروں کی تفصیل مانگی جانے لگی اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے معائنے کی فرمائشیں شروع ہو گئیں۔ روس نے وہ وقت تحمل سے سر نیچے کر کے گزار لیا اور اس دوران اپنی معیشت واپس کھڑی کر لی۔ جیسے ہی وہ اپنے قدموں پر آیا تو ایک بار پھر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ولادی میر پیوٹن مغرب کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ اسلامی دنیا میں ہم ترکی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ترک صدر طیب اردگان نے اسرائیل کو دھمکیاں تب دینی شروع کیں جب ملک کو قرضوں سے نجات دلا کر معیشت کو قدموں پر کھڑا کر لیا۔اگر آپ کی معیشت مضبوط نہ ہو تو پھر خارجہ امور چھوڑیئے آپ کے داخلہ امور بھی بیرونی مداخلت کی زد میں آجاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ یورپی یونین کے دباؤ پر سزائے موت پر کئی سال تک پابندی رہی یا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نصاب تک باہر والوں کی منشاء کے مطابق تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم ان تمام ذلتوں سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کا اکلوتا راستہ معاشی ترقی کا راستہ ہے، جب تک معیشت مضبوط نہیں ہوتی ملک بظاہر آزاد نظر آئے گا لیکن درحقیقت آزاد ہوگا نہیں۔
معیشت کی مضبوطی کے لئے آپ کو جذباتیت ترک کرکے ایک باشعور شہری بننا ہوگا، جس دن آپ باشعور ہوگئے سارے سیاستدان اور بیوروکریٹ خود سیدھے ہو جائینگے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے کام شروع کردینگے۔ آپ کو باشعور کتاب بنائیگی۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے نوجوان کتاب کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ آپ روز پوچھتے ہیں کہ مغرب میں وزیر اعظم کو عام آدمی کے ساتھ لائن میں لگنا پڑتا ہے، ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ آج مجھے بھی ایک سوال پوچھنے دیجئے۔ مغرب میں نوجوان گھر چھوڑیئے ٹرین، ٹرام اور بس میں مختصر سے سفر کے دوران بھی کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں، ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ  کیجئے۔
<<<گزشتہ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::مزید>>>
مکمل تحریر >>

4 اپریل، 2015

پاکستان کی خارجہ پالیسی۔ پاک افغان تعلقات

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ بہت ہی نازک اور پیچیدہ ایشو ہے۔ یہ اسقدر تفصیلی ہے کہ کم سے کم بھی چار سے پانچ قسطیں چاہتا ہے لیکن میں پوری کوشش کرونگا کہ اس ایشو کو پانچ نکات کی مدد سے سمجھایا جا سکے۔
(01) افغانستان صدیوں ایک ایسے آزاد ملک کی حیثیت سے چلا آرہا تھا جس پر انیسویں صدی میں برطانیہ نے قبضے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن عبرتناک مار کھا کر وہاں سے نکلا۔ البتہ اس کے کچھ علاقے (تقریبا پورا موجودہ خیبر پختون خواہ) برطانیہ کے قبضے میں رہ گیا۔ جسے افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کے ذریعے الگ کیا گیا۔
(02) افغانستان کے رشیا کے ساتھ سفارتی تعلقات 1919ء میں قائم ہوئے۔
(03) تقسیم ہند کا مرحلہ آیا تو صوبہ سرحد کے لئے یہ طے کیا گیا کہ وہاں ریفرینڈم کرا لیا جائے عوام پاکستان اور بھارت میں سے جس کے حق میں ووٹ دیدیں یہ اس کا ہو جائے گا۔ 6 جولائی 1947ء کو ریفرینڈم ہوا جس کے نتائج کا 20 جولائی کو اعلان کیا گیا۔ نتیجے کے مطابق 572798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے پاکستان کے حق میں 289244 جبکہ انڈیا کے حق میں صرف 2874 ووٹ آئے یوں 14 اگست 1947ء کو آزادی کے ساتھ ہی صوبہ سرحد پاکستان کے حصے کے طور پر آزاد ہوا۔
(04) 30 ستمبر 1947ء کو پاکستان اقوام متحدہ کا ممبر بنا۔ جب ممبر شپ کے لئے قرار داد پیش ہوئی تو پوری دنیا سے افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی ممبر شپ کے خلاف ووٹ دیا۔
(05) پہلے ہی دن سے افغانستان نے پاکستان سے ساتھ یہ تنازعہ کھڑا کردیا کہ چونکہ ڈیورنڈ لائن معاہدہ برطانیہ کے ساتھ ہوا تھا جس کے تحت صوبہ سرحد کا علاقہ ایک متعین مدت تک برطانیہ کے قبضے میں تسلیم کر لیا گیا تھا لھذا برطانوی انخلاء کے بعد ایک نیا ملک (پاکستان) اس کی سرزمین پر قبضہ نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان کا موقف یہ تھا کہ صوبہ سرحد کی اسی نازک پوزیشن کے سبب ریفرینڈم ہوا جس میں عوام کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا لھذا یہ علاقے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت پاکستان کا حصہ ہیں ہی نہیں بلکہ عوام کی خواہش اور ان کی رائے کے مطابق پاکستان کا حصہ ہیں۔ افغانستان کو چین نہ آیا اور اس نے پاکستان کی پوری پختون بیلٹ میں "آزاد پختونستان" کی تحریک کو ہوا دینی شروع کی جس کے لیڈر پاکستانی پختونوں کی غیرت یہ کہہ کر جگانے کی کوشش کرتے رہے کہ پنجابی تم پر حکومت کرینگے اور تم ان کی غلامی کروگے۔ لیکن جب ایک پختون یعنی جنرل ایوب خان اقتدار میں آگیا تو صوبہ سرحد کے عوام نے ان لیڈروں سے کہنا شروع کردیا کہ بھائی اب تو دو باتیں ہو گئیں ایک یہ کہ ایک پختون پاکستان پر حکومت کر رہا ہے اور دوسری یہ کہ پنجابیوں کو قومیت کی بنیاد پر اس سے کوئی تکلیف نہیں لھذا جب پنجابی کو پختون کے اقتدار سے کوئی تکلیف نہیں تو کل کو جب کوئی پنجابی اقتدار میں آجاتا ہے تو کیا ہمیں اس پر اعتراض ہونا چاہئے؟ اس "جوابی بیانیے" نے آزاد پختونستان کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھدی۔
ستر کی دہائی میں بالآخر نام نہاد پختون نشنلسٹ بھی پاکستان سے باقاعدہ وابستہ ہونے لگے اور انتخابات میں شریک ہونا شروع ہوئے لیکن "پنجابی" لفظ ان کی زبان پر ایسا چڑھ گیا تھا کہ بہت دیر تک اپنے اثرات دکھاتا رہا اور آج کل بھی کبھی کبھار یہ ان کی زبانوں سے لڑکھ ہی آتا ہے۔ اُدھر افغانستان میں سوویت اثر رسوخ تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں تعاون کے نام پر طلباء کو رشین اساتذہ کی مدد سے کمیونسٹ بنایا جا رہا تھا اور اِدھر پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ بھٹو ایک جینئس تھے وہ جانتے تھے توسیع پسندانہ پالیسی والا سوویت یونین ہر ملک پر قبضہ کرنے سے قبل وہی کرتا ہے جو افغانستان میں کر رہا ہے چنانچہ جب کابل اور جلال آباد یونیورسٹیوں میں کمیونزم کے خلاف طلباء اور اساتذہ نے مزاحمت شروع کی تو بھٹو نے ان کے سر پر دست شفقت رکھدیا اور انہیں سمجھایا کہ بہت جلد سوویت یونین اپنی فوج افغانستان میں اتارے گا اور تم سب کو کچل دیگا لھذا واحد آپشن یہ ہے کہ "جہاد" کی تیاری ابھی سے شروع کردو۔ جی ہاں کمیونسٹ روس کے خلاف "جہاد" کا راستہ اسی بھٹو نے دکھایا اور پشاور میں 1975ء میں ٹریننگ بھی اسی بھٹو نے شروع کروائی جس کا ظاہری چہرہ "سوشلسٹ" کا تھا۔ خلاصہ یہ کہ بھٹو پھانسی پر لٹک گئے۔ افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہو گئیں اور جنرل ضیاء کے خلاف بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو نے عسکری جدوجہد شروع کردی جس کا ہیڈ کوارٹر وہی کمیونسٹ کابل بن گیا جس کے خلاف خود بھٹو نے جہاد کی بنیاد رکھی تھی۔ سٹریٹیجک فیصلے حکومتیں بدلنے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے چنانچہ جس طرح جنرل ضیاء نے بھٹو کی نیوکلیئر پالیسی کو جاری رکھا اسی طرح افغان جہاد والی پالیسی کو بھی نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے لامحدود وسعت بھی دیدی۔
پاکستان کے پختون نیشنلسٹ جو 1970ء کے بعد ٹھنڈے پڑ چکے تھے وہ روسی افواج کے افغانستان میں آتے ہی سرخ ٹوپیاں پہن کر پھر سے سرگرم ہو گئے۔ اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک جیسے تو کابل میں مستقل ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے کہ اب تو سرخ ٹینکوں پر ہی بیٹھ کر پاکستان جائینگے۔ کے جی بی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی خاد نے نہ صرف صوبہ سرحد اور بلوچستان کے نیشنلسٹ پختونوں اور پشتونوں کو منظم کیا بلکہ بلوچوں کو بھی قابو کر لیا، کابل میں ڈیرے جمانے والوں میں نواب خیر بخش مری بھی شامل تھے اور پھر مزید آگے بڑھتے ہوئے سندھ میں بھی جام ساقی جیسوں کے ذریعے ایک خفیہ کمیونسٹ تحریک کی بنیادیں ڈالیں جسے آئی ایس آئی نے بری طرح کچل ڈالا۔ گویا اب یہ طے ہوگیا کہ اگر اگر اٖفغانستان میں رشیا قدم جما گیا تو جلد یہ اجمل خٹک اور نواب خیر بخش مری کی قیادت میں پاکستان آئے گا۔ اگر اس کا قبضہ وہاں مستحکم نہ ہوا لیکن یہ وہاں سے نکلا بھی نہیں تو پاکستان کے صوبہ سرحد اور بلوچستان کو یہ نیشنلسٹوں کی مدد سے مسلسل گرم رکھتے ہوئے انہیں علیحدگی تک لے کر جائے گا۔ صورتحال اسقدر نازک ہو چکی تھی کہ نہ صرف سرخ رشین انقلاب پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا تھا بلکہ پورے بلوچستان باڈر پر کھڑا ایرانی انقلاب بھی تیزی سے پاکستان میں سرایت حاصل کرنے کی کوششوں میں تھا جبکہ ہمارے مشرقی باڈر پر وہ بھارت اسرائیل کو اشارے کر رہا تھا جو صرف آٹھ سال قبل پاکستان کو دو لخت کر چکا تھا گویا لے دے کر ہمارا صرف چائنا باڈر مکمل محفوظ تھا باقی ہم ہر جانب سے تباہ کن صورتحال سے دوچار تھے۔ تن پر پھٹی جینز، جیب میں امریکہ، برطانیہ، کینڈا یا دبئی کا ویزہ اور ایک ہاتھ میں برگر دوسرے میں پیپسی لے کرپاکستان کی افغان پالیسی کو گالی دینا بہت آسان کام ہے لیکن اگر دل میں انصاف کی معمولی سی بھی رمق باقی ہے تو 1979ء والے پاکستان میں کھڑے ہو کر ایک نظر اپنے چاروں طرف کے مناظر پر ڈال کر دیکھئے آپ کے ہوش ٹھکانے نہ آگئے تو لاشوں کو گالی دینے کی ضرورت نہیں گلزار قائد آ کر میرا ہی گریبان پھاڑ دیجئے کہ دفاع وطن کی اس جنگ کا ایک ادنیٰ سا مجرم میں بھی ہوں۔
جب بھٹو نے افغانستان میں جہاد منظم کرنا چاہا تو کابل یونیورسٹی کے تین طلباء اور ان کے استاذ کو پاکستان لایا گیا۔ یہ تینوں طالب علم بہت ہی گہرے دوست تھے اور یونیورسٹی میں کمیونزم کے خلاف سب سے زیادہ متحرک بھی۔ ان میں ایک جان محمد دوسرے احمد شاہ مسعود اور تیسرے گلبدین حکمتیار تھے جبکہ استاذ پروفیسر برھان الدین ربانی تھے۔ ان میں استاذ ربانی اور احمد شاہ مسعود تاجک جبکہ باقی دونوں افغان تھے (افغانستان میں پختون کو "افغان" کہتے ہیں) ان تین دوستوں کی پہلی سخت ایکٹوٹی یہ تھی کہ انہوں نے کابل یونیورسٹی کا ڈانسنگ فلور جلا دیا تھا جو لکڑی تھا اور سبب اس کا توہین اسلام کا ایک واقعہ بنا تھا جو کمیونسٹوں کا وطیرہ تھا۔ بھٹو دور میں ابتدائی ٹریننگ 19 لڑکوں کو دی گئی تھی جنہیں یہ تینوں لائے تھے۔ جب جنرل ضیاء آئے اور اس تحریک کو مزید بہتر شکل دی جانے لگی تو انہی دنوں ان تینوں دوستوں میں ایک معمولی سا اختلاف آیا جس میں جان محمد اور احمد شاہ مسعود کی رائے ایک تھی جبکہ حکمتیار کی کچھ اور یہ تینوں پشاور میں تھے اور مسئلہ ابھی طے نہیں ہوا تھا کہ اچانک جان محمد لاپتہ ہوگیا۔ دونوں ہی اسے ڈھونڈنے میں لگ گئے مگر دو روز بعد جان محمد کی لاش ملی۔ احمد شاہ مسعود کا کہنا تھا صبح جس علاقے میں لاش ملی اسی علاقے سے میں نے رات کو حکمتیار کو گزرتے دیکھا تھا۔ حکمتیار کا کہنا تھا کہ میں واقعی اس ایریے میں گیا تھا لیکن جان محمد کی تلاش میں ہی گیا تھا۔ احمد شاہ مسعود نہ مانا اور یہاں سے اس مشہور زمانہ جھگڑے کی بنیاد پڑی جس میں آگے چل کر پورے جہاد کے دوران ان دونوں نے ایک دوسرے پر کئی خونریز حملے کئے۔ جنرل ضیاء نے دونوں کو ساتھ بٹھا کر صلح بھی کرادی لیکن مسعود اس صلح سے بھی آگے چل کر یہ کہہ کر پھر گیا کہ جان محمد کا قتل آئی ایس آئی اور حکمتیار دونوں نے کیا ہے اور پھر مسعود نے پاکستان آنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کی تنظیم کا لین دین استاذ ربانی خود پشاور میں بیٹھ کر کرتے تھے۔ آگے چل کر یہ ثابت بھی ہو گیا کہ جان محمد کوخاد نے قتل کیا تھا مگر تب تک مسعود اور حکمتیار ایک دوسرے کا بھاری جانی نقصان کر چکے تھے جس سے دشمنی ناقابل واپسی مقام تک جا چکی تھی۔
اس پورے جہادی سین پر مولوی کہیں نہیں تھے، کابل اور جلال آباد یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباءہی سب کچھ کرتے رہے۔ مولوی سین پر تب نمودار ہوئے جب رشین آرمی افغانستان میں داخل ہوئی اور مولانا مفتی محمود نے جہاد کا فتویٰ جاری کردیا جن کا پاکستان اور افغانستان دونوں جگہ بیحد احترام تھا۔ اس فتوئے کے نتیجے میں مولانا یونس خالص اور مولانا محمد نبی محمدی کھڑے ہوئے جو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فضلاء تھے۔ مولانا یونس خالص ہی اپنے میدانی کمانڈر کے طور پر مولانا جلال الدین حقانی کو لے آئے جو جوان تھے اور حقانیہ کے تازہ فاضل بھی جبکہ محمدی صاحب مولانا ارسلان خان رحمانی کو لے آئے جو ان کے میدانی کمانڈر ہوئے۔ چنانچہ آگے چل کر جب سات جماعتیں بنیں تو ان میں پانچ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والوں کی تھیں جبکہ دو علماء کی تھیں اور علماء کی ان دونوں جماعتوں کا کمال یہ ہے کہ پورے افغان جہاد کے دوران انکی کسی ایک بھی تنظیم سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی جبکہ یونیورسٹی والوں نے تو جہاد کے دوران بھی اور آگے چل کر فتحِ کابل کے بعد بھی وہ فساد مچایا کہ خدا کی پناہ۔ سوویت افواج کے افغانستان میں داخلے کے بعد کے ابتدائی دو سالوں میں پاکستان تنہا اس خطرے سے اپنی بساط کے مطابق نمٹتا رہا لیکن جنرل ضیاء کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ اتنی بڑی طاقت سے تنہا نمٹناممکن نہیں چنانچہ امریکہ کو اس جنگ میں شامل کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں مگر وہ ویتنام میں سوویت یونین سے اتنا بڑا زخم کھا کر تازہ تازہ گھر لوٹا تھا جس کی ٹیسیں ابھی بھی اٹھ رہی تھیں جبکہ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ویتنام جنگ کے سبب امریکی رائے عامہ فضول جنگوں کے خلاف ہوگئی تھی اور حکومت کو ڈر تھا کہ اگر وہ ایک بار پھر اسقدر جلد بیرون ملک جنگ میں ملوث ہوئی تو رائے عامہ کا پہلے سے بھی شدید رد عمل نہ آجائے چنانچہ امریکہ نے ضیاء الحق کو چند ٹکے پکڑا کر جان چھڑانے کی کوشش کی جسے ضیاء الحق نے "پینٹس" کہہ کر ٹھکرادیا۔ امریکی سیاست لابنگ پر چلتی ہے، اس موقع پر جنرل ضیاءنے کانگریس مین چارلی ولسن کو قابو کرکے اس جنگ میں امریکی شرکت کے فوائد اور شریک نہ ہونے کے نقصانات سمجھائے۔ چنانچہ یہ چارلی ولسن تھے جو امریکی کانگریس کے توسط سے امریکہ کو افغان جہاد میں گھسیٹ لائے یوں سوویت افواج کی افغانستان میں آمد کے دو سال بعد 1981ءمیں امریکہ اس جنگ میں اترااور اس کے آتے ہی یورپ بھی آگیا جس سے افغان جہاد نے زور پکڑتے پکڑتے بالآخر رشیا کو افغانستان سے انخلاءپر مجبور کردیا۔ سوویت یونین کا پورا نظام جبر و استبداد پر کھڑا تھا اور اس کے قبضہ کئے ہوئے ممالک اور غلام بنائے گئے انسانوں میں یہ تصور راسخ تھا کہ سرخ فوج ایک ناقابل تسخیر قوت ہے یہ جہاں بھی جائے وہاں سے واپس نہیں ہوتی لھذا سوویت یونین سے آزادی کا تصور ہی بے معنیٰ ہے لیکن جب یہ ناقابل تسخیر قوت افغانستان میں ملبے کا ڈھیر بن گئی تو نہ صرف سوویت یونین بلکہ مشرقی یورپ میں بھی امید کی لہر دوڑ گئی جس سے اگلے دو برس میں نہ صرف یہ کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا بلکہ مشہور زمانہ برلن وال بھی زمیں بوس ہوگئی اور مشرقی یورپ بھی آزاد ہو گیا۔
سوویت یونین نے انخلاء کے باوجود کابل میں بیٹھی نجیب اللہ حکومت کی مدد جاری رکھی اور دلچسپ بات یہ ہوئی امریکہ نے افغان مجاہدین کو چھوڑ کر نجیب اللہ کی مدد شروع کردی کیونکہ امریکہ افغان مجاہدین کی حکومت بنوانے کے لئے جہاد میں نہیں آیا تھا بلکہ اس کا مقصد صرف سوویت یونین کی شکست تھا جو پورا ہو چکا تھا۔ رہ گیا افغان مجاہدین کی حکومت کا قیام تو ظاہر ہے وہ امریکہ کیسے قبول کر سکتا تھا۔ جب بالآخر کابل بھی فتح ہو گیا تو اسے شمال سے احمد شاہ مسعود نے گھیر رکھا تھا اور مشرق سے حکمتیار نے اور یہ دونوں ہی ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے۔ یوں ان دونوں میں کابل کے صدارتی محل تک پہلے رسائی پانے کا ماحول پوری طرح تیار تھا۔ حملے کی پہل احمد شاہ مسعود نے کی جس پر فورا حکمتیار نے بھی پیش قدمی شروع کردی مگر کھیر کی پلیٹ مسعود کے ہاتھ لگی اور پھر وہ طوفان بدتمیزی اور خونریزی شروع ہوا کہ الامان و الحفیظ۔ اس موقع پر مولاناجلال الدین حقانی جو افغانستان کے سب سے غیر متنازع کمانڈر تھے اور جن کا احترام حکمتیار اور مسعود دونوں ہی کرتے تھے مصالحتی کوششوں کے لئے میدان میں اترے اور مسلسل کابل میں بیٹھ کر ان کی صلح کرانے کی کوشش کرتے رہے۔ سامنے تو یہ دونوں ان کی ہر بات مان جاتے لیکن جب وہ واپس خوست آجاتے تو یہ پھر باہم لڑنا شروع کردیتے۔ حقانی صاحب ان دونوں کی مسلسل لڑائیوں سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ چڑ چڑے ہوگئے جس کا اندازہ مجھے خود ذاتی طور پر اس طرح ہوا کہ 1992ءمیں ایک دن میں کسی ضروری کام سے ان سے ملنے کراچی سے خوست پہنچا۔ پتہ چلا کہ اٹھارہ دن سے کابل میں ہیں اور کچھ پتہ نہیں کہ کب آئینگے۔ میں نے وائرلیس پر رابطہ کیا، نارمل انداز میں گفتگو شروع ہوئی لیکن دو تین جملوں کے تبادلے کے بعد ہی انہوں نے مجھے کھری کھری سنادیں کہ یہ معاملہ ابراھیم یا خلیل (حقانی صاحب کے بھائی) کے ساتھ نمٹا لو میرے پاس لمبی باتوں کا وقت ہی نہیں ہے۔ حقانی صاحب ایک نہایت بردبار،متحمل اور منکسر المزاج انسان ہیں، میں نے اس روز پہلی دفعہ انہیں غصے میں پایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے جاتے ہوئے میران شاہ سے ایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈر خریدا تھا جس میں یہ گفتگو میں نے ٹیپ کرلی تھی۔ آج بھی جب کبھی ان کی ڈانٹ سننے کو جی کرتا ہے تو سن لیتا ہوں ?
اس پوری صورتحال میں پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا رہا جس نے اپنے دشمن ملک کی پوری پختون آبادی کے دل جیت کر افغانستان کے خطرے اور دیورنڈ لائن والی چخ چخ کا پکا توڑ حاصل کر لیا تھا لیکن اگر یہ اندرونی خانہ جنگی نہ رکتی تو آگے چل کر ان مجاہدین کے خلاف ہی ایسی تحریک اٹھ سکتی تھی جس کے نتیجے میں سب کچھ الٹ جاتا اور ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھ میں چلا جاتا جس سے پاکستان کے لئے صورتحال جوں کی توں ہو جاتی۔ جب افغانستان کے علماء صلح کی کوششیں کر کر کے تھک گئے تو جنرل حمید گل اور نواز شریف اس کام کے لئے آگے آگئے یہ پھر بھی باز نہ آئے تو سعودی انہیں ساتھ لے گئے اور حرم کے ائمہ سے منت سماجت کروالی، انہوں نے حرم میں بیٹھ کر صلح کر لی مگر جیسے ہی افغانستان پہنچے پھر توپوں کے دھانے کھول لئے۔ پینتیس لاکھ مہاجرین پاکستان میں سر پکڑے بیٹھے تھے جبکہ اتنے ہی ایران میں بھی اسی حالت میں تھے۔ دنیا کی سب سے بے رحم طاقت کو شکست فاش دینے والے اب ایک دوسرے کو فتح کرنے میں لگ گئے۔ افغانستان کا ہر صوبہ چھوڑیے ہر ضلع میں ایک مستقل الگ حکومت قائم ہوتی چلی گئی۔ قدم قدم پر پھاٹک لگ گئے جو مقامی کمانڈر کی عملداری شروع ہونے کا اعلان ہوتے۔ ہر شخص مسلح تھا، ہر شخص مشکوک تھا اور ہر شخص خطرے میں تھا۔ ایسے میں 1994ء میں قندھار سے ملا عمر افغان منظر نامے پر نمودار ہوئے۔
طالبان کا ظہور یوں ہوا کہ جنوبی افغانستان میں ملا عبد السلام راکٹی نام کا ایک کمانڈر تھا جس نے افغانستان کی لاتعداد ڈیڑھ ڈیڑھ بالشتی شخصی حکومتوں کی طرح اپنی ایک ڈیڑھ بالشت کی حکومت قائم کر رکھی تھی جو لونڈے بازوں کے ایک گروہ پر مشتمل تھی۔ یہ لڑکے تو اغوا کرتے رہے تھے لیکن ایک دن کسی غریب کی لڑکی بھی اغوا کر لی۔ افغان سماج کی سب سے قابل احترام شخصیت عالم دین ہوتا ہے۔ نہ وہاں عالم کی تذلیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی بات ٹالی جاتی ہے۔ مغوی لڑکی کا والد ملا عمر نامی ایک گمنام مقامی عالم دین کے پاس شکایت لے کر پہنچا تو اس نے اپنے طلباءکو لڑکی چھڑا کر لانے کا ٹاسک دیدیا۔ ان طلباء نے کچھ مقامی لوگوں کو ساتھ ملایا اور ملا راکٹی کے مرکز کی جانب بڑھنا شروع کردیا۔ یہ لوگ لڑائی کی نیت سے جا ہی نہیں رہے تھے لیکن راکٹی اور اس کا گروہ اس ہجوم کو بڑھتا دیکھ کر گھبرا گیا اور فرار ہو گیا جس سے یہ اڈہ ختم ہو گیا۔ کئی لڑکیاں اور لڑکے وہاں سے چھڑا کر لائے گئے۔ ملا راکٹی کے عذاب سے نجات پانے پر لوگ اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے ملا عمر سے کہنا شروع کردیا کہ فلاں کمانڈر نے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے اور فلاں کمانڈر بھی کسی آسمانی آفت سے کم نہیں آپ ان کا بھی کچھ کیجئے۔ ملا عمر نے آس پاس کے ان مقامی کمانڈروں کی شخصی حکومتیں لپیٹنی شروع کردیں جس میں صرف طلباء ہی شریک نہ تھے بلکہ مقامی آبادی بھی شامل تھی۔ چونکہ یہ علماء اور طلباء سیاہ پگڑیاں باندھتے تھے تو مقامی لوگوں نے بھی اپنی سفید اور پیلی دھاری دار پگڑیاں چھوڑ کر کالی پگڑیاں باندھ کر خود کو اس تحریک سے مکمل وابستہ کر لیا۔ خلاصہ یہ کہ جلد ہی قندھار اور ہلمند صوبے بغیر کسی جنگ کے طالبان کے کنٹرول میں آگئے۔ اور تب تاریخ نے ایک دلچسپ ترین موڑ لیا، ایک ایسا موڑ جو نہایت حیران کن ہے۔
جان محمد، احمد شاہ مسعود اور حکمتیار کو بھٹو کابل یونیورسٹی سے لائے تھے تو گویا وہ افغان جہاد کے گاڈ فادر ہوئے۔ اور انہیں چراٹ میں میجر جنرل نصیر اللہ بابر کے سپرد کیا گیا تھا جو اس خفیہ آپریشن کے انچارج مقرر ہوئے تھے تو گویا وہ تو گویا وہ فادر آف مجاہدین ہوئے۔ سلطان عامر تارڑ المعروف کرنل امام اس سینٹر میں افغان مجاہدین کے پہلے ٹرینر بنے تو گویا وہ مجاہدین کے استاذ اول ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی کی سب سے سخت ترین حریف پارٹی جماعت اسلامی رہی ہے جس کے سابق امیر قاضی حسین احمد تاریخ کے اوراق پر اپنی یہ گواہی ڈال کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں کہ ان تینوں کو بھٹو لائے تھے اور پشاور میں خفیہ ملٹری ٹرینگ شروع کی گئی تھی جس سے بھٹو اور نصیر اللہ بابر کے سوا پیپلز پارٹی تک کا کوئی رہنمائی با خبر نہ تھا۔ آئی ایس آئی فتح کابل کے بعد احمد شاہ مسعود اور حکمیار کی جنگ ختم کرانے میں ناکام ہو چکی تھی اور کسی کو کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا ایسے میں جب قندھار اور ہلمند طالبان کے قبضے میں چلے گئے تو پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو اقتدار میں تھیں جو یہ جانتی تھیں کے انکے والد کو ایوب خان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے افغانستان سے پاکستان کی سلامتی کا چیلنج درپیش رہا تھا اور وزیر اعظم بننے کے بعد اس چیلنج کا پکا توڑ کرنے کے لئے انہوں نے ہی افغان جہاد کی بنیاد ڈالی تھی اور یہ کہ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہو سکا بلکہ افغانستان خانہ جنگی میں چلا گیا ہے اور نواز شریف اسے حل کرنے میں ناکام رخصت ہوا ہے تو یہ وہ موقع تھا جب بینظیر نے اپنے والد کے نا مکمل مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا زبردست موقع بھانپ لیا۔ یوں گویا بھٹو کی جو افغان میراث ضیائالحق کے ہاتھ لگی تھی وہ ضیاءالحق کے لاڈلے نوازشریف سے ہوتی ہوئی بھٹو کی بیٹی کے سامنے آگری۔ افغان مجاہدین کے فادر میجر جنرل نصیر اللہ بابر ان کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے چنانچہ فوری طور پر انہیں طلب کر کے محترمہ نے منصوبہ سمجھایا اور یہ ٹاسک ان کے سپرد کر دیا۔ نصیر اللہ بابر افغان مجاہدین کے استاذ اول کرنل امام کو لے آئے جو انہیں دنوں فوج سے ریٹائر ہوئے تھے۔ انہیں آئی ایس آئی کے افغان ڈیسک پر ہی فوری واپس لایا گیا اور یہاں سے سیدھا جنوبی افغانستان بھیجا گیا جہاں وہ بطور سفار تکار پاکستانی قونصل خانے میں تعینات ہوئے اور طالبان کے رابطے میں آگئے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ اور شمالی کوریا سے میزائلوں کی بمع ٹیکنالوجی خریداری ایسے دو ایشو ہیں جس میں فوج اور بینظیر بھٹو دونوں ایک ہی پیج پر تھے۔ سلگتا ہوا کابل امریکہ کی ضرورت تھا جبکہ پر امن کابل پاکستان کے لئے ہر حال میں ضروری تھا۔
محترمہ بینظیر بھٹو یہ جانتی تھیں کہ ان کے والد کا اصل قاتل امریکہ ہی ہے۔ وہ اپنے جذباتی والد سے ذہانت میں بدرجہا فائق تھیں، پاکستانی سیاستدانوں میں سے اس خطے میں امریکی مفادات کو جتنا نقصان محترمہ نے پہنچایا وہ 67 سال میں کوئی نہیں پہنچا سکا۔ وہ بظاہر بہت بولڈ، اینٹی مذہب اور نہ جانے کیا کیا تھیں لیکن ان کے اندر کی بینظیر بھٹو اتنی مختلف تھی کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں خاص طور پر دیوبندی مولویوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کچھ واقعات افشاں نہیں کئے جاسکتے ورنہ آپ پر تو ان کے اتنے احسانات ہیں کہ آپ دوسرا جنم لے کر بھی ان کا قرض نہیں چکا سکتے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو انہوں نے محض اندرونی سیاسی ضرورتوں کے لئے ہمیشہ قریب نہیں رکھا تھا بلکہ وہ جانتی تھیں کہ پاکستان میں سب سے طاقتور اینٹی امریکہ فورس دیوبندی مکتبہ فکر ہے جس کے سب سے بڑے لیڈر کو ساتھ رکھ کر ہی امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور انہوں نے یہ کیا۔ میں جانتا ہوں کہ مولانا کا تعریفی ذکر موجودہ دور میں ناقابل ہضم خوراک ہے، خود میں بھی مولانا کا شدید ناقد ہی ہوں لیکن جب آپ تاریخ لکھ رہے ہوں اور ضمیر زندہ ہو تو سچ آپ کی سب سے بڑی مجبوری بن جاتا ہے۔ آپ ایک لمحے کے لئے غور تو کیجئے کہ محترمہ نے اس مولوی کو خارجہ امور کمیٹی کا ہی کیوں چیئر مین بنایا؟ وہ تو مولوی تھے، مذہبی امور یا اوقاف یا کوئی اور لولی پوپ ٹائپ چیئر مین شپ دیدیتیں، آخر "خارجہ امور" ہی کیوں؟جب آپ اس نکتے پر غور کرینگے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے دماغ میں زیرو واٹ کے ہی سہی مگر دوچار بلب ضرور روشن ہو جائینگے۔ ان دونوں نے مل کر امریکہ کو جتنا "ماموں" بنایا ہے اتنا تو منا بھائی اور سرکٹ نے مل کر ڈاکٹر استانہ کو بھی نہیں بنایا تھا۔ اگر میں مولانا فضل الرحمٰن کو پاکستان کی سیاسی فلم کا "سرکٹ" قرار دوں تو غلط نہ ہوگا۔ الحمدللہ مجھے اللہ نے یہ توفیق دی کہ محترمہ کی شھادت سے 19 روز قبل میں نے گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو شھید کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور اپنے رب سے دعا گو ہوں کہ مجھے محترمہ کی قبر پر بھی فاتحہ خوانی کی توفیق اور موقع عطا فرمائے۔ آمین
نصیر اللہ بابر یا کرنل امام نے ملاعمر کو اپنا کوئی ایجنڈہ نہیں پکڑایا بلکہ بہت سمپل بات کی اور وہ یہ کہ جو آپ کر رہے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر مت چھوڑنا۔ پورے افغانستان میں جھاڑو پھیرو اور یہ ڈیڑھ ڈیڑھ بالشت کی تمام شخصی حکومتیں بلا کسی استثناء کے لپیٹ کر رکھدو اور افغانستان کو ایک ہی حکومت کے تحت لے آؤ۔ اس ضمن میں اگر ہماری کسی مدد کی ضرورت پڑی تو بلا تکلف مانگ لینا۔ میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ افغانستان میں عالم دین سب سے قابل احترام شخصیت ہوتا ہے اور پختون بیلٹ میں تو اس سے کوئی لڑتا بھی نہیں ہے۔ چناچہ جب طالبان آگے بڑھے تو پختون بیلٹ میں جتنے بھی کمانڈر تھے بشمول مولانا جلال الدین حقانی و مولانا ارسلان خان رحمانی کسی ایک نے بھی مزاحمت نہیں کی سب نے اپنے اپنے علاقے میں ان کا استقبال کیا اور اپنے لا محدود اسلحہ ڈپووئں کی کنجیاں ان کے حوالے کرتے چلے گئے کیونکہ طالبان نے صاف کہدیا تھا حکومتی اہلکار کے علاوہ کسی بھی شخص کو ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی چاہے وہ کتنا ہی بڑا کمانڈر کیوں نہ ہو۔ ہرات میں افغان جہاد کے چوتھے بڑے کمانڈر اسماعیل خان توران نے تھوڑی سی مزاحمت کی لیکن پھر فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا مگر کچھ عرصے بعد طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ کابل تک رسائی سے قبل سب سے مشکل اور خونریز مزاحمت سروبی میں کمانڈر عبد الحق نے کی جو حکمتیار کا اہم کمانڈر تھا اور بہت طاقتور ہو چکا تھا۔ سروبی جلال آباد سے کابل جاتے ہوئے آنے والا ایک پیچدار درہ ہے۔ اگر پہاڑوں پر فوج موجود ہو تو آپ سڑک سے نہیں گزر سکتے۔ اس درے میں طالبان کا اتنا بڑا جانی نقصان ہوا کہ لاشوں کے انبار لگ گئے۔ طالبان کے پہلے کمانڈر انچیف اور شہرہ آفاق کردار ملا برجان بھی یہیں شھید ہوگئے لیکن طالبان نے پروا نہیں کی وہ اپنی لاشوں کو روندتے ہوئے سروبی عبور کر گئے۔
اس درے کو عبور کرتے ہی "چھار آسیاب" ان کے سامنے تھا جہاں گلبدین حکمتیار کا ہیڈ کوراٹر تھا۔ جو فورس سروبی جیسے تنگ درے سے خون کا دریا عبور کر کے گزر آئے اس کے لئے نسبتا خاصا ہموار چھار آسیاب کیا چیز تھی؟ حکمتیار مقابلہ کئے بغیر نکل لئے اور ایسے نکلے کہ پھر کئی ماہ بعد ایران میں نمودار ہوئے کیونکہ آئی ایس آئی اور قاضی حسین احمد کے اس لاڈلے کے لئے اب پاکستان ہی نہیں قاضی حسین احمد کے دل کے دروازے بھی بند ہوچکے تھے۔ جن کا اعتماد اس شخص نے بری طرح توڑا تھا اور صلح کی تمام کوششیں ناکام کرنے میں احمد شاہ مسعود کے ساتھ برابر کا شریک تھا۔ کابل تو حلوہ ثابت ہوا۔ مسعود اور رشید دوستم دونوں اپنے گھر بچانے کے لئے پنجشیر اور مزار شریف فرار ہوگئے۔ طالبان کا پہلا دستہ کابل میں داخل ہوا تو بارہ لڑکوں کا ایک گروپ اقوام متحدہ کے دفتر سے نجیب اللہ کو کھینچ لایا اور چوک میں پھانسی پر لٹکا دیا جو پہلی بڑی غلطی ثابت ہوا۔ 28 ستمبر 1996 کو کابل فتح ہوا تو ملا عمر قندھار میں تھے اور وہیں رہے۔ کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہو گئی جس کے سربراہ ملا محمد ربانی مقرر ہوئے۔ قائد اسے نہیں کہتے جو ہجوم زیادہ بڑا اکٹھا کر سکتا ہو یا جو تقریر زیادہ عمدہ کر سکتا ہو بلکہ اسے کہتے ہیں جو نازک وقت پر درست فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ حزب اسلامی حکمتیار گروپ افغانستان کی جماعت اسلامی تھی لیکن جب طالبان کابل میں آئے تو قاضی حسین احمد نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ ہم سے فکری قربت رکھنے والی جماعت حزب اسلامی ہے لھذا ہم طالبان کو نہیں مانتے بلکہ انہوں نے لڑاکو حکمتیار سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اپنی مکمل حمایت طالبان کے پلڑے میں ڈالدی اور مرتے دم تک اس پر قائم رہے۔ اسی طرح مولانا شاہ احمد نورانی اور ڈاکٹر اسرار نے بھی مکتبہ فکر کے اختلاف کے باوجود طالبان کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا اور مرتے دم تک اس پر قائم رہے۔ چونکہ مولانا نورانی اور ڈاکٹر اسرار کا افغانستان میں کوئی سٹیک نہ تھا جبکہ قاضی صاحب کا تو بہت بڑا سٹیک تھا لیکن انہوں نے اس سٹیک کو ہمیشہ کے لئے افغانستان اور پاکستان کے مفاد میں قربان کردیا لھذا قاضی حسین احمد مرحوم کا یا اقدام تاریخ ہمیشہ ایک دلیرانہ اور مدبرانہ فیصلے کے طور پر یاد رکھے گی۔ چونکہ افغانستان بہر حال حکمتیار کا گھر تھا اس لئے قاضی صاحب نے یہ خاموش کوشش کی کہ حکمتیار کم از کم افغانستان واپس آ کر رہ سکے اور اس سلسلے میں ملا عمر سے ملاقاتیں ہوئیں جن کا موقف تھا کہ ہمیں حکمتیار سے کوئی دشمنی تو کیا شکوہ بھی نہیں، افغانستان ان کا گھر ہے وہ آئیں اور پوری بے فکری سے یہاں رہیں لیکن چونکہ افغان شہریوں میں ان کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے جس کے وہ قائد رہے ہیں لھذا ان تک یہ کھلا پیغام جانا ضروری ہے کہ حکمتیار نے موجودہ سسٹم کی اطاعت قبول کرلی ہے اور اس پیغام کی شکل یہی ہوگی دیگر سابق اہم کمانڈروں کی طرح وہ بھی میرے ہاتھ پر بیعت کرینگے۔ حکمتیار یہ شرط قبول کرنے کو تیار نہ ہوا چنانچہ قاضی صاحب نے حکمتیار کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔ حکمتیار آج کل افغانستان میں ہیں اور طالبان کے شانہ بشانہ قابض فورسز سے لڑ رہے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای نے اسے تسلیم کر لیا جبکہ باقی دنیا نے کہا کہ ملا کی حکومت منظور نہیں۔ طالبان شمال کی طرف بڑھے تو شدید ترین جنگ شروع ہو گئی جس میں طالبان مختلف شہر اور صوبے فتح بھی کرتے رہے اور کھوتے بھی رہے اور کھونے کے بعد ایک بار پھر فتح بھی کرتے رہے یوں پورے طالبان دور میں شمال مسلسل حالت جنگ میں رہا۔ شمال میں طالبان کے لئے مزار شریف۔ قندوز اور تخار اہم تھے۔ یہ تینوں طالبان نے فتح کر لئے تھے لیکن ان میں مزار شریف اور قندوز تاریخ کے تین بڑے قتل عاموں کے حوالے سے یاد رکھے جائینگے۔ 1995ء میں طالبان نے شیعہ تنظیم حزب وحدت کے سربراہ عبدالعلی مزاری کو گرفتار کیا ۔ اسے ہیلی کاپٹر کی ذریعے قندھار منتقل کیا جا رہا تھا کہ اس نے دوران پرواز دھینگا مشتی شروع کردی جس سے یہ ہزروں فٹ کی بلندی سے زمین پر آگرا۔ یہ واقعہ ہوا اور گزرگیااور طالبان نے بھی اسے شائد بھلا دیاہو کہ مئی 1997ء میں رشید دوستم سے بغاوت کرکے مزارشریف کا کنٹرول حاصل کرنے والے ازبک لیڈر جنرل مالک نے طالبان کو پیغام بھجوایا کہ جس طرح آپ پختون بیلٹ میں دوستانہ ماحول میں صوبوں کا کنٹرول حاصل کرتے رہے ہیں، اسی طرح میں مزار شریف آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں، آپ لوگ شہر میں داخل ہوجائیں۔ طالبان ہزاروں کی تعداد میں شہر میں داخل ہوئے اور جب شہر کے وسط تک پہنچے تو ہزاروں کلاشنکوفیں گرجنی شروع ہو گئیں۔ ہر گھر سے فائر آیا اور اس شدت کا آیا کہ نصف گھنٹے میں تین ہزار طالبان لاشوں سے شہر کی سڑکیں اٹی پڑی تھیں اور انسانی خون فی الحقیقت نالے کی شکل میں بہہ رہا تھا۔ یہ واقعہ 30 مئی 1997ء کو پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد جنرل مالک نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ حرکت عبدالعلی مزاری کا انتقام لینے کے لئے کی ہے۔ جنرل مالک کو عبدالعلی مزاری سے کوئی غرض نہ تھی بلکہ اصل بات یہ تھی کہ اس نے مزار شریف اپنے باس کو دھوکہ دے کر اس سے قبضہ کیا تھا جس کے سبب وہ ردعمل سے خوفزدہ تھا چنانچہ اس دعوے کے ذریعے اس نے شہر کی دوسری بڑی آبادی شیعہ کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کی۔
اگست 1998ء میں طالبان جب مزار شریف پر حتمی حملے کے لئے آئے تو سینکڑوں گاڑیوں میں تقریبا بیس ہزار کی لگ بھگ تعداد میں آئے۔ اور جب شہر میں داخل ہوئے تو انہیں پتہ تھا کہ سڑکوں کے اطراف کا ہر گھر ایک مورچہ ہے۔ پھر طالبان نے بھی وہ کیا جو ان گھروں سے ان کے ساتھ ہوا تھا۔ ازبک افغانستان کی سب سے خونخوار قوم ہے ان خونخواروں کو انہوں نے سکھا دیا کہ یہ زبان ہم بھی جانتے ہیں لیکن انسانیت کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن کی پاسداری لازم ہوتی ہے۔ یوں یہ کمیونسٹ اور شیعہ آبادی والا شہر طالبان کے کنٹرول میں آگیا اور نومبر 2001ء تک ان کے کنٹرول میں رہا۔ اس کی سٹریٹیجک اہمیت یہ تھی کہ یہ ازبکستان کے قریب تھا اور رشید دوستم چونکہ ازبک حکومت کا سٹیک تھا جس کے لئے امداد یہیں آتی تھی۔ اس کے بعد قندوز کی باری آئی جو آسانی سے طالبان کے ہاتھ آیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شمالی افغانستان کا پختون اکثریت والا صوبہ ہے اور افغانستان کے پختون مولویوں سے نہیں لڑتے۔ اس صوبے کی سٹریٹیجک اہمیت یہ ہے کہ یہ تاجکستان کے ساتھ لگتا ہے جو احمد شاہ مسعود مددگار تھا۔ مسعود کو آنے والی امداد کے زمینی اور فضائی راستے قندوز اور تخار سے تاجکستان تک تھے۔ تخار بہت ہی مشکل ثابت ہوا۔ اسے بچانے کے لئے مسعود نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا کیونکہ تخار ہاتھ سے جانے کا مطلب تھا تاجکستان سے مکمل طور پر کٹ جانا اور پنجشیر میں محصور ہوجانا۔ تخار کا دارالحکومت طالقان افغانستان کا آخری بڑا شہر تھا جو نائن الیون سے آٹھ ماہ قبل جنوری 2001ء میں طالبان نے فتح کیا لیکن تخار کے کچھ علاقے اب بھی ان کے کنٹرول سے باہر تھے۔

طالبان کی غلطیاں

طالبان نے اپنے دور حکومت میں جو غلطیاں کیں ان میں کچھ واقعی غلطیاں تھیں جبکہ باقی محض گمراہ کن پروپیگنڈہ۔ حقیقی غلطیاں یہ تھیں۔
(01) اقوام متحدہ کے دفتر میں زبردستی گھسنا اور نجیب اللہ کو قتل کرنا۔ یہ حرکت جن بارہ لڑکوں نے کی تھی انہیں طالبان نے سزا دی لیکن اس سزا کو پبلک نہیں کیا کیونکہ اس سے اس نازک موقع پر نوجوان گھبرا کر پیچھے ہٹ سکتے تھے اور یہ بھی سوچ سکتے تھے کہ ملاعمر نے نجیب جیسے درندے کے قتل پر اتنا برا کیوں منایا ؟ کہیں یہ سب کوئی گیم تو نہیں ؟۔ دفتر میں گھسنا، نجیب کا قتل اور ذمہ داروں کو دی گئی سزا کو پبلک نہ کرنا تینوں ان کی غلطیاں ہیں۔
(02) بامیان کے مجسمے بارود سے اڑانا جس پر انہیں کراچی کے ایک پیر نے اکسایا تھا۔ طالبان اتنا بھی نہ سوچ سکے کہ اگر یہ بت توڑنا اتنا ہی ضروری ہوتا تو کیا سلطان محمود غزنوی انہیں چھوڑتا ؟ اور کیا مصر میں ابولہول کا مجسمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رہنے دیتے ؟
(03) ہر صوبے کے اہم عہدے قندھاریوں کو دینا اور جہاں قندھاری دستیاب نہ ہو وہاں مقامی شخص کو عہدہ ددینا لیکن ایک بیس پچیس سال کا قندھاری لونڈا اس پر بطور نگران مسلط کر دینا۔ حتیٰ کہ اپنے بیرون ملک سفیروں پر بھی یہ لونڈے مسلط کئے۔
(04) محض مالی مجبوریوں کے تحت لڑکیوں کی تعلیم بند کر دینا لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد سے قبل پبلک کو اعتماد میں نہ لینا۔
(05) ارجنٹائن کے ساتھ ہونے والے پٹرول پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد میں غفلت برتنا جبکہ امریکہ اس معاہدے کے ہونے پر سیخ پا تھا اور یہ معلوم تھا کہ وہ اسے ناکام کرنے کو بیقرار ہے۔

طالبان کی خوبیاں

(01) انہوں نے اپنے زیر حکومت 95 فیصدی افغانستان کو اسلحے سے پاک کر کے رکھدیا تھا۔ ہزاروں ٹن اسلحے کے مالک کمانڈر وں کے پاس ایک پستول تک نہیں چھوڑا۔
(02) ان کا وزیر اعظم، تمام گورنر اور تمام وزراء مسجدوں اور فٹ پاتھوں پر عام شہریوں کی طرح چلتے پھرتے ہر شخص کو دستیاب تھے۔ یہاں تک کہ جن کی اولاد نہیں تھی وہ اپنے گھروں کا سودا سلف بھی بازاروں سے خود لاتے۔ یوں عوام کو ان کے پیچھے خوار نہیں ہونا پڑتا تھا بلکہ وہ عوام کے بیچوں بیچ ان کی دسترس میں ہوتے۔
(03) ان کا نظام انصاف مفت اور فوری تھا۔ مظلوم کی آہ کو آسمان تک جانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ زیادہ سے زیادہ دو ہفتے میں عدالت فیصلہ سنا دیتی اور ایسا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہوا ہو کہ ان کا فوری انصاف کا نظام کسی بے قصور کو سزا دے گیا ہو۔
(04) وزیر اعظم سے لے کر گونر اور وزرا تک کسی سے بھی شکایت ہوتی تو سڑک پر چلتے قاضی سے شکایت کرکے اسے برطرف کروایا جاسکتا تھا اور کئی اہم لوگ برطرف کئے بھی گئے۔

نائن الیون

نائن الیون ہوا تو گویا تم قتل کرے ہو کہ کرامات کرے ہو والی بات ہو گئی۔ واقعے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر اندر امریکہ نے تمام 19 ہائی جیکر سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کر لئے مگر ان میں سے کسی ایک بھی ہائی جیکنگ کو روک نہ سکا۔ دوسری بات یہ کہ اسامہ بن لادن کو مانگا گیا اور ملا عمر نے انکار کر دیا کہ مہمان کو کسی کے حوالے کرنا ہماری روایت نہیں اور پھر خود اسامہ نے آفر کی کہ چائنا یا کسی بھی غیر جانبدار ملک کے حوالے ہونے کو تیار ہوں۔ عالمی عدالت بنا لی جائے لیکن اسی غیر جانبدار ملک میں کارروائی چلے، امریکہ اس عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرے۔اگر جرم ثابت ہو جائے تو مجھے سزا دیدی جائے، امریکہ نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کیوں کیا ؟وہ خود مدعی، خود پولیس، خود عدالت اور خود جلاد بننے پر ہی کیوں مصر رہا ؟۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ ابھی صرف چند ہفتے قبل امریکی صدر باراک اوباما کی اکڑ پر روس نے دھمکی دی کہ نائن الیون کے حوالے سے ہمارے سٹلائٹس کی مدد سے ملنے والا کچھ نہایت حساس ڈیٹا ہمارے پاس ہے تو صدر باراک اوباما بھیگی بلی کیوں بن گئے؟ پتہ نہیں کیوں مگر مجھے تو یہی لگتا ہے کہ رشیا کے پاس جو حساس مواد ہے یہ اس کے اپنے سیٹلائٹس سے حاصل کردہ نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ کی سب سے خطرناک ایجنسی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے منحرف ہو کر رشیا میں پناہ لینے والے ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن نے رشیا کو فراہم کیا ہے ورنہ رشیا اتنا عرصہ چپ نہ رہتا۔ چوتھی بات یہ کہ امریکہ افغانستان سے جہاز بھر بھر کر القاعدہ اور طالبان کے قیدی گوانتانامو بے لے کر گیا تھا۔ چودہ سال ہو گئے اب تک نائن الیون کا جرم عدالت میں ثابت کیوں نہیں کر سکا ؟۔ یہ وہ چار بنیادیں ہیں جو یہ بات ماننے کی اجازت ہی نہیں دیتیں کہ نائن الیون خود امریکہ کا اپنا منصوبہ نہیں تھا۔

قندوز ایئر لفٹ

نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو غاروں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اور وہ امریکہ کی مدد کے لئے تیار ہوگیا۔ بی 52 بمبار طیاروں نے افغانستان پر لاکھوں ٹن بارود برسانا شروع کردیاتاکہ طالبان کو کمزور کیا جاسکے اور جب وہ ہوگئے تو شمالی اتحاد کو ہتھیار فراہم کر کے زمینی کار روائی شروع کردی جس سے شمال میں تمام شہر ایک کے بعد ایک طالبان کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔ سب سے آخر میں تاجکستان کے باڈر پر واقع قندوز رہ گیا جو شمال میں طالبان کا ہیڈ کوارٹر اور مضبوط گڑھ تھا۔ امریکہ ابھی افغانستان کا زمینی کنٹرول حاصل نہیں کر سکا تھا لھذا کابل اور قندھار کے علاوہ کہیں کوئی ریڈار نہ تھے۔ امریکہ دن بھر بمباری کرتا اور رات میں سناٹا چھا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے طورخم باڈر سے کابل تک جتنا فاصلہ ہے اس سے تقریباً تین گنا زیادہ فاصلہ کابل سے قندوز تک ہے اور یہ کہ فضائی فاصلے میں قندوز کابل کی نسبت چترال کے زیادہ قریب ہے۔ طالبان کے تمام اہم ترین کمانڈر قندوز میں تھے اور دوسرے شہروں سے پسپا ہو کر آنے والے طالبان بھی قندوز میں جمع ہورہے تھے جبکہ امریکہ کا الزام ہے کہ آئی ایس آئی کے بھی کچھ اہم لوگ اس شہر میں تھے۔ دوستم نے اعلان کیا تھا کہ اس شہر سے ملنے والے ہر غیر ملکی کو میں عبرت کی مثال بناؤنگا۔ غیب کا علم اللہ کو ہے لیکن سنا ہے نومبر کی ایک ٹھنڈی رات میں چترال اور گلگت ایئر سٹرپس سے پاکستان ایئر فورس کے C130 طیاروں نے پرواز بھری اور سیدھا قندوز ایئر بیس پر اترے، وہاں سے مسافروں کو اٹھایا اور واپس چترال اور گلگت آ کر اترے، یہاں سے ایک بار پھر اڑے اور مزید مسافر لے کر چترال اور گلگت آ کر اترے۔ کہتے ہیں کہ ایک ہزار سے زائد لوگ لائے گئے تھے۔ اب دلچسپ بات یہ ہے کہ کھسیانی بلی کہتی ہے کہ یہ آپریشن ہماری اجازت سے ہوا تھا لیکن ساتھ ہی اسے "Operation Evil Airlift" بھی کہہ دیتی ہے، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ اور اگر اس کی اجازت سے ہوا تو دن کی روشنی میں پشاور یا پنڈی سے پروازیں کیوں نہیں ہویں ؟۔ یہ وہ پہلا واقعہ ہے جس نے امریکہ پر یہ واضح کردیا تھا کہ اس نے جسے غاروں کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی ہے وہ اسے افغانستان میں کھلی چھوٹ دینے اور ہر حکم ماننے پر تیار نہیں ہوگا۔

دشت لیلیٰ قتل عام

قندوز سب سے آخر میں طالبان کے ہاتھ سے نکلنے والا شہر تھا۔ سقوط کابل کے دس دن بعد تک طالبان نے اسے اپنے کنٹرول میں رکھا تھا اور یہی ان کی مہلک ترین غلطی ثابت ہوا۔ قندوز کے شمال میں تخار، جنوب میں مزار شریف، مشرق میں بغلان اور مغرب میں تاجکستان ہے۔ طالبان کی چودہ ہزار لڑاکا فورس اس شہر میں محصور ہو کر رہ گئی۔ 23 نومبر 2001ء کو طالبان نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔ شہر سے باہر آنے والی ایک سڑک کھولی گئی اور اس سڑک پر چار پوائنٹ بنائے گئے۔ پہلے پوائنٹ پر ہر شخص اپنے ہتھیار حوالے کرتا، دوسرے پر نام اور پتہ لکھواتا، تیسرے پر تمام کپڑے اتارے جاتے اور چوتھے پر کپڑے پہنا کر گرفتار کرکے کنٹینر میں چڑھا دیا جاتا۔ آخری دونوں پوائنٹس امریکیوں کے تھے۔ پچاس سے ساٹھ کنٹینروں میں یہ چودہ ہزار قیدی اس طرح ٹھونس کرسیل کر دئے گئے کہ ان کے لئے سانس لینا ہی ممکن نہ رہا۔ بظاہر کہا گیا کہ انہیں جنوب مغرب میں واقع شبر غان جیل لے جایا جا رہا ہے لیکن اگلے دن یہ یاقافلہ شبرغان پہنچ کر بائیں ہاتھ گھوم گیا اور شبرغان و ترکمانستان کے مابین واقع افغان صحراء "دشتِ لیلیٰ" میں داخل ہو گیا۔ انہیں یقین تھا کہ تمام قیدی دم گھٹنے سے مر چکے ہونگے لیکن پھر بھی انہوں کنٹینر بجا کر تصدیق شروع کردی۔ جس کنٹینر میں ہل جل کے آثار ملتے اس پر اینٹی ایئر کرافٹ گنوں سے فائر کھولدیا جاتا۔ بلڈوزر اس قافلے کی آمد سے قبل ہی اجتماعی قبریں تیار کر چکے تھے۔ چودہ ہزار لاشیں اس صحراء میں دفن کردی گئیں۔ خدا کا کرنا دیکھئے ان میں سے بیس زندہ بچ گئے تھے جو ریت میں سے نکل آئے اور اپنے ساتھیوں تک رسائی حاصل کرکے بھانڈہ پھوڑ دیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مغربی میڈیا نے بریک کی اور آج تک وہ امریکی حکومت پر دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس قتل عام کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرائی جائیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس پر کام شروع کیا مگر یہ شرمناک دعویٰ کیا کہ صرف پندرہ سو کے لگ بھگ قیدی مارے گئے تھے اور یہ کہ ہم ابھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ 2009ء میں باراک اوباما نے اس کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا اور 2013ء میں امرکی حکومت نے اعلان کیا کہ تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، رپوٹ جاری نہیں کی جائیگی بس ہم اتنا بتا رہے ہیں کہ اس قتل عام میں کوئی امریکی ملوث نہیں تھا حالانکہ یہ قتل عام امریکہ اور رشید دوستم نے مل کر کیا تھا۔ امریکی صدر گاڑی سے اتر کر برگر خریدلے، برطانوی وزیر اعظم پھٹا موزہ پہن لے یا کسی یورپی ملک میں کوئی سلبرٹی بندر کا بوسہ لے لے تو پاکستان کی موم بتی مافیا اس کی تصویریں شیئر کر کر کے ہمیں ان کی "انسانیت" کا اعلیٰ معیار دکھانے کی کوشش کرتی ہے۔ جی کرتا ہے اپنی فرینڈ لسٹ پر موجود بعض ڈیڑھ بالشتیوں کے نام لے کر ان سے پوچھوں کہ انسانیت کی قوالی تو آپ خوب گاتے ہیں لیکن کیا تیرہ سال میں کبھی دشت لیلی کے قتل عام پر بات کرنے کی توفیق آپ کو ہوئی ؟
پچھلے تیرہ سال
افغانستان میں کھیل ابھی ختم نہیں ہوا لھذا اب میں قدرے واضح اشاروں کنایوں میں چلونگا لیکن تفصیل نہیں بتاؤگا۔ جنہیں سمجھ آجائیں ان کی قسمت اور جو نہ سمجھ سکیں ان کی بھی اپنی قسمت۔
(01) پاکستانی ادارے بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ نائن الیون کیوں اور کیسے ہوا اور امریکہ کی افغانستان آمد کے مقاصد کیا ہیں۔ لھذا اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیاب ہونے دیا جائے اور اپنے باڈر پر کوریا، جاپان اور جرمنی کی طرح ستر یا اس سے زائد برسوں کے لئے امریکی اڈے بننے دیئے جائیں۔
(02) چار ہزار سال سے اپنی عقل و دانش کے حوالے سے شہرت رکھنے والوں کا بھی مشورہ تھا کہ آنے والے کو آنے دیا جائے اور اس کے گھٹنوں تک دھنسنے کا انتظار کیا جائے۔ جب دھنس جائے تو پھر اسے گدگدیاں بھی کی جائیں اور چٹکیاں بھی بھری جائیں اور اسے اتنا مجبور کردیا جائے کہ وہ واپسی کے لئے بھی آپ ہی کی مدد کا محتاج ہو کر رہ جائے۔
(03) افغان طالبان یا انکے امیر ملا عمر نے تیرہ برسوں میں ایک بار بھی پاکستان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔
(04) اگر ہم اپنے شہر میں کسی کو دوچار تھپڑ رسید کرنے جائیں اور اس کام کے لئے دوچار دوستوں کو ساتھ لے جانا چاہیں اور ایک گھنٹے میں دو چار تھپڑ مار کر لوٹ آئیں تو یہ "آپریشن" بھی کم از کم دو تین سو روپے کا خرچہ تو مانگتا ہی ہے۔
(05) طالبان دنیا کے چوالیس ممالک سے لڑے اور اس جنگ پر امریکہ کے اب تک سولہ سو ارب روپے خرچ ہوچکے اور اس وقت بھی دس ملین ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے خرچ ہو رہے ہیں۔
(06) 2004ء کے اختتام تک امریکہ گھٹنوں تک دھنس گیا تھا اور اور گدگدیوں اور چٹکیوں کا عمل شروع ہو گیا تھا چنانچہ اس کے بعد والے سالوں میں ہر امریکی یہ کہتا سنا جا رہا تھا "دیکھ باز آجا میں چھوٹ گیا نا تو چھوڑونگا نہیں !" لیکن وہ چھوٹتا کیسے ؟
(07) 2009ء تک امریکہ کی دماغی حالت اتنی خراب کردی گئی کہ باراک اوباما نے اس سال افغانستان میں ایساف اور نیٹو کی کمان کرنے والے اپنے دو فور سٹار جنرل برطرف کردئے۔ آنے والے سالوں میں دو مزید فور سٹار جنرلز جبکہ دو میجر جنرلز بھی برطرف کئے اور پھر ایک دن اعلان کردیا کہ امریکی فوج تطہیر کا عمل چاہتی ہے۔ تحقیقات شروع کی گئیں کہ عراق اور افغانستان میں ہماری ناک کیوں کٹی ؟ رپوٹ آئی کہ جرنیلوں کو تو لڑکیوں اور ڈرگز کی لت لگی ہوئی ہے۔ اوباما نے ایک بڑا جھاڑو اٹھایا اور پھیرنا شروع کردیا۔ اب تک فوج سے 197 ہائی رینکنگ افسران کو برطرف کیا جاچکا ہے۔
(08) 2009ء میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کیا تو سوال جواب کے سیشن میں ایک کیپٹن نے اس سے سوال کیا "آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ؟" یہ وہی سوال تھا جو نائن الیون کے فوری بعد پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے پوچھا گیا تھا۔
(09) 2010ء میں امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ شروع کیا کہ طالبان سے ہمارا رابطہ کروایا جائے ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے حیلے بہانے شروع کئے تو برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 نے از خود کوششیں شروع کردیں اور پھر 2011ء میں وہ شرمناک سکینڈل سامنے آیا جس میں کویٹہ کا ایک دکاندار اہم طالبان کمانڈر بن کر ان سے خفیہ مذاکرات کرتا رہا اور ایک دن چھ ملین پاؤنڈز لے کر غائب ہوگیا۔ یہ بندہ آج تک ملا نہیں۔
(10) بظاہر تو آئی ایس آئی نے ریمنڈ ڈیوس والے معاملے میں قوم کی ناک کٹوائی تھی پھر برطانوی اخبار گارجین نے اسے امرکی دفتر خارجہ کی 186 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی ناکامی کیوں قرار دیا ؟ ایسا کیا ہوا تھا کہ پورا مغربی میڈیا پاکستان کے بجائے امریکی حکومت کو طعنے دے رہا تھا ؟ انہی دنوں جنرل پاشا کے دورہ جرمنی کے بعد جرمنی کے جاسوسی کے مسئلے پر امریکہ سے تعلقات کیوں بگڑنے شروع ہوئے ؟
(11) اگر پاکستان نے پچھلے تیرہ سال میں امریکہ سے مل کر افغان طالبان کو نقصان پہنچایا ہے تواخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ خبریں کیوں آتی ر ہیں کہ امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ اس کے طالبان سے مذاکرات کروائے جائیں ؟ اگر پاکستان نے طالبان کو نقصان پہنچایا ہے تو ملا عمر پاکستان کی کیوں سنتے ہیں ؟ اور اگر پاکستان طالبان کو نقصان پہنچا رہا تھا تو سابق صدر حامد کرزئی کو تو خوش ہونا چاہئے تھا، وہ ہر وقت پاکستان کے خلاف زہر کیوں اگلتا رہتا تھا ؟ اور یہ کہ طالبان سے مذاکرات شروع کروانے پر موجودہ افغان صدر نے پاکستان کا شکریہ کیوں ادا کیا ؟
(12) آج کے افغانستان کی سیاسی صورتحال اس حد پاکستان کے کنٹرول میں ہے افغانستان کا صدر اپنے شہریوں سے بات چیت کے لئے پاکستان کے رحم و کرم پر ہے۔ چند ماہ قبل چائنا بھی اس سین پر اپنی باقاعدہ انٹری دے چکا حالانکہ درحقیقت وہ اکتوبر 2001ء سے ہی پوری طرح موجود تھا لیکن پس منظر میں۔ حتمی ہدف یہ ہے کہ ایک پر امن افغانستان ہوگا جہاں طالبان کی زیر قیادت قومی حکومت ہوگی اور چائنا اس کی تعمیر نو میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ذیل میں مغربی اخبارات میں شائع ہونے والے دو کارٹون پیش خدمت ہیں۔
           <<<گزشتہ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::مزید>>>
مکمل تحریر >>

3 اپریل، 2015

پاکستان کی خارجہ پالیسی۔جنوبی ایشیائی ممالک

جنوبی ایشیا میں بھارت کے ساتھ ہماری فل ٹائم جبکہ بنگلہ دیش سے پارٹ ٹائم دشمنی چل رہی ہے اور وہ پارٹ ٹائم دشمنی بھی ہماری جانب سے نہیں ہے۔ دیگر ممالک میں سری لنکا سے مضبوط اور گہری دوستی ہے جبکہ باقی ممالک سے نارمل دوستانہ مراسم ہیں۔ بھارت کا ذکر گزر چکا دیگر ممالک میں بنگلہ دیش اور سری لنکا قابل توجہ ہیں۔
بنگلہدیش
بنگلہ دیش کو چند سطروں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ملک نے بھارت کی سرپرستی میں ہم سے آزادی حاصل کی ہے اور اس آزادی کی محرک جماعت "عوامی لیگ" تھی جو آج بھی ہمیں نفرت ہی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ حسینہ واجد کا خیال ہے کہ اسکے والد شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل میں بھی ہمارا ہاتھ ہے۔ چنانچہ جب بھی عوامی لیگ برسر اقتدار آتی ہے بنگلہ دیش پاکستان کو کڑوی کسیلی سنانی شروع کردیتا ہے اور دوستی کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہوجاتا ہے۔ پاکستان سے آزادی بنگلہ دیشی عوام کا متفقہ فیصلہ نہ تھا بلکہ اس کی مسلم آبادی کی اکثریت پاکستان ہی کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ بنگلہ دیش کے ایسے لوگوں کی ترجمان سیاسی جماعت بیگم خالدہ ضیاء کی "بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی" ہے چنانچہ جب بھی یہ جماعت برسر اقتدار آتی ہے بنگلہ دیش کا دوستانہ جھکاؤ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش بھی اسی پس منظر میں ہمیشہ بیگم خالدہ ضیاء کے قریب اور حسینہ واجد کی حریف رہی ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کی نوعیت سمجھنے کا یہ آسان پیمانہ ہے کہ بس آپ یہ دیکھا کیجئے کہ ان دونوں میں سے برسر اقتدار کونسی جماعت ہے۔
سری لنکا
سری لنکا سے ہمارے سٹریٹیجک نوعیت کے تعلقات کا آغاز جنرل ضیاء کے دور میں ہوا۔ بھارت سری لنکا میں 70 کی دہائی کے آخر میں تامل علیحدگی پسند تحریک کی بنیاد ڈال چکا تھا جو 1984ء میں باقاعدہ عسکری شکل اختیار کر گئی۔ بھارت کا منصوبہ یہ تھا کہ اس تنظیم کے ذریعے سری لنکا کو کمزور کرکے وہاں فوج اتاری جائے اور خود کو "مہا بھارت" بنانے کا ایک اہم سنگ میل عبور کیا جائے۔ اس منصوبے کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے لئے جنرل ضیاء نے سری لنکا کو دفاعی شعبے میں تعاون کی پیشکش کردی جو اُس پورے عرصے میں فوجی تربیت تک رہا۔ جب تامل تحریک نے زور پکڑنا شروع کیا تو پاکستان نے اپنا ایمونیشن بھی سری لنکا کو بیچنا شروع کردیا۔ سری لنکن گورنمنٹ کوبلیک میل کرکے قیام امن کے نام پر بھارت نے 1987ء میں سری لنکا میں اپنی فوج اتاری تو سری لنکا نے پاکستان کی خفیہ مدد سے اسے تگنی کا ناچ نچادیا۔ نہ صرف یہ کہ راجیو گاندھی کو سری لنکن ایوان صدر میں گارڈ آف آنر زکے دوران ایک سری لنکن فوجی نے اپنی رائفل دے ماری جس سے اس کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ ملٹری آپریشن کے دوران بھی بھارت کو ایسی عسکری و سیاسی مار پڑی کہ وہ رسوا ہو کر سری لنکا سے اس حالت میں نکلا کہ علیحدگی پسند تنظیم تامل ٹائیگرز کو بھی اپنا دشمن بنا گیا اور بالآخر تامل ٹائیگرز نے ہی راجیو گاندھی کو قتل بھی کردیایوں سارا کھیل الٹا بھارت کے گلے پڑ گیا۔ نوے کی دہائی میں سری لنکا ایک حد تک تامل ٹائیگرز کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا اور اپنے فساد زدہ شمالی صوبے کے دارالحکومت جافنا کو تامل ٹائیگرز سے چھڑا لیا تھا لیکن 2000ء میں انہوں نے پھر قوت پکڑنی شروع کردی اور جافنا کو ایک بار پھر شدید خطرات لاحق ہوگئے۔ اس موقع پر جنرل مشرف نے فوری طور پر سری لنکا کو بھاری ہتھیاروں کی سپلائی شروع کردی جس سے سری لنکن فوج اس خطرے سے نمٹنے کی پوزیشن میں آتی چلی گئی۔
اس عرصے میں سری لنکا نے پاکستان سے اسلحے کی خریداری تیز کردی 2007ء تک سری لنکا نے پاکستان سے 50 ملین ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ جب تامل ٹائیگرز کو اندازہ ہوا کہ پاکستان ان کی کمر توڑنے کے لئے سری لنکا کی بڑے پیمانے پر مدد کر رہا ہے تو انہوں نے 2006ء میں سری لنکا میں تعینات پاکستانی سفیر بشیر ولی محمد پر خود کش حملہ کردیا جس میں وہ تو محفوظ رہے لیکن سات افراد مارے گئے، اس حملے کے باوجود پاکستان نے تعاون روکا نہیں بلکہ اس میں اضافہ کرتے ہوئے 2009ء میں150 ملین ڈالر کا اسلحہ سری لنکا کو فراہم کیا۔ راوی کہتا ہے بلکہ فرماتا ہے کہ 2009ء کی بالکل ابتدا میں بھارت پر اچانک انکشاف ہوا کہ اس بار پاکستان سے صرف اسلحہ سری لنکا نہیں آ یا بلکہ ہوش اڑانے والے بھی آئے ہیں چنانچہ پاکستان اور سری لنکا دونوں کے ہوش اڑانے کا منصوبہ ترتیب دیدیا گیا جس پر عمل کرتے ہوئے مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کو پاکستانی سرزمین پر قتل کروانے کی کوشش کردی گئی جو اللہ کے فضل و کرم سے ناکام رہی۔ اگر یہ ٹیم یہاں قتل ہوجاتی تو سری لنکن عوام کے دلوں میں پاکستان سے ایسی نفرت بیٹھ جاتی جو شائد کبھی نہ نکلتی۔ سری لنکن گورنمنٹ کو بخوبی اندازہ تھا کہ لاہور میں درحقیقت کیا ہو ا اور کس نے کیا اسی لئے اس نے اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور جلد بقیہ میچز عرب امارات میں کروا کر بھارت کو انگوٹھا دکھا دیا۔ بالآخر مئی 2009ء میں تامل ٹائیگرز کے خلاف آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا اور 19 مئی کو بدنام زمانہ دہشت گرد "پربھاکرن" مارا گیا جو تامل ٹائیگرز کا سربراہ تھااورصرف وہی نہیں مارا گیا بلکہ پوری دہشت گرد تنظیم کا جڑ سے صفایا کردیا گیا جس سے یہ تیس سالہ دہشت گردی اپنے انجام کو پہنچی۔فوجی آپریشن کے اختتام پر سری لنکا کے ڈپٹی وزیر خارجہ حسین احمد بھائلہ کا یہ بیان عالمی توجہ حاصل کر گیا۔
"سری لنکا کی حکومت اور اس کے عوام پاکستان کو اپنا وہ حقیقی دوست سمجھتے ہیں جس کی ہمیں جب بھی ضرورت پڑی وہ ہمارے ساتھ کھڑا نظر آیا"
اس بیان کے ذریعے گویا سری لنکن حکومت نے تصدیق کردی کہ تامل ٹائیگرز کے خاتمے کا اصل ہیرو کون ہے۔28 مئی 2009ء کو بھارتی اخبار "دی انڈین ایکسپریس" نے صاف صاف لکھ بھی دیا کہ یہ پاکستان آرمی کا کارنامہ ہے اور تامل ٹائیگرز کے خاتمے میں الخالد ٹینک اور پاک فضائیہ کے پائلٹوں کا مرکزی کردار ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں پاکستان کی عسکری درسگاہوں میں سری لنکن آرمی افسران کی شروع ہونے والی تربیت کا نتیجہ یہ ہے کہ آج سری لنکن آرمی کی ہائی کمانڈ میں شائد ہی کوئی افسر ایسا ہو جس نے پاکستان سے عسکری کورس نہ کئے ہوں حتیٰ کہ سری لنکن فوج میں فیلڈ مارشل کے رینک تک پہنچنے والے واحد آرمی چیف Sarath Fonseka بھی پاکستان کے تربیت یافتہ ہیں جو تامل ٹائیگرز کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کے موقع پر فوج کے سربراہ تھے۔ تربیت کا یہ سلسلہ اب آگے بڑھ کر جاسوسی کے شعبے میں بھی شروع ہوگیا ہے اور پاکستان سری لنکا کے لئے ایک تگڑی انٹیلی جنس ایجنسی کھڑی کرنے جا رہا ہے۔ ملٹری ہارڈوئیر کی خریداری الخالد ٹینکوں اور لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے سودوں تک جا پہنچی ہے دوسری طرف چین نے بھی سری لنکا سے فوجی تعاون شروع کردیا ہے جس میں سب سے اہم اس ہائی ٹیک نیول بیس کی تعمیر ہے جس نے بھارت کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں یوں جنوبی ایشیا میں پاکستان اور چین کو بھارت کے جنوب مشرق میں ایک ایسا قابل اعتماد سٹریٹیجک پارٹنر میسر آگیا ہے جس کی مضبوطی بھارت کو اپنی حد میں رکھنے کے کام آئے گی۔ اس قسط کے اختتام پر میرے لبوں پر ایک بے اختیار مسکراہٹ☺پھیل گئی ہے جس کا سبب یہ خیال ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کی کوششوں پر چخ چخ کرنے والی موم بتی مافیا پر یہ قسط پڑھ کر کیا گزرے گی؟ سو تسلی کے یہ دو جملے ہی کہہ سکتا ہوں کہ بھائی لوگ! اب ٹینشن کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم افغانستان میں جھانکتے رہ گئے اور دور بہت دور جنوب مشرق میں پاکستان میچ جیت کر فارغ بھی ہو گیا۔

<<<گزشتہ:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::مزید>>>
مکمل تحریر >>

30 مارچ، 2015

حقیقی تقسیم

 
اس ملک میں حقیقی اور سنجیدہ تقسیم صرف ایک ہی ہے اور یہ دین و لادین کی تقسیم ہے۔ اہل مذہب کی تفرقہ بازی نے پہلے لوگوں کو بتدریج مولوی سے بد گماں کیا اور جب نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ پگڑیاں باندھنے قرآنی آیات پڑھنے اور جہادی ترانے گانے والوں نے آن کیمرہ یہ کہہ کر مسلمانوں کو دنبے اور گائے کی طرح ذبح کرنا شروع کردیا کہ وہ "دین" کا حکم پورا کر رہے تو لوگوں میں اس خیال نے جنم لینا شروع کردیا کہ قصور مولوی کا نہیں بلکہ دین کا ہے کیونکہ وزیرستان کے قصائی مولوی تو قرآن کی آیات پڑھ پڑھ کر بتا رہے ہیں کہ مساجد پر عین نماز جمعہ میں بم حملے کرنا اور مسلمانوں کو زمین پر لٹکا کر بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر انہیں ذبح کرنے کا حکم دین نے دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے دین نامی درندے سے خود کو لگ کرنا شروع کردیا جس سے پاکستان میں الحاد کو فروغ حاصل ہوا۔ میری کل رات والی پوسٹ پر ایک ارسطو نے لکھا ہے کہ "حوثی باغیوں کی وہ ویڈیو دیکھیں جس میں وہ سنیوں کو ذبح کر رہے ہیں۔ پھر بھی شیعہ سنی بھائی بھائی ؟" اس ارسطو کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود دیوبندی تھے اور انہوں نے جتنوں کو ذبح کیا وہ صرف سنی ہی نہیں دیوبندی بھی تھے۔
آپ غور کیجئے اس ملک کے چند مشہور مدرسوں کی چھتوں سے شیعہ جلوسوں پر پتھراؤ ہوا کرتا تھا اور اس اعلان کے ساتھ ہوا کرتا تھا کہ شیعہ کافر ہیں۔ جب جنرل مشرف کے دور میں پہلی بار سنجیدگی سے مدارس ریفامز کی بات ہوئی تو تمام مسالک کے وفاق ایک پلیٹ فارم پر "تنظیمات مدارس دینیہ" کے نام سے جمع ہوگئے تاکہ اپنے بیس بیس کنال کے مدرسے بچائے جاسکیں۔ اس تنظیم میں شیعہ وفاق کو بھی شامل کیا گیا۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ اسلام کو لاحق خطرے کے خلاف یکجا ہوئے ہیں اور اس تنظیم کے تمام اراکین اسلام کے سچے سپاہی ہیں۔ اب نہ شیعہ کافر رہا، نہ بریلوی مشرک رہا، نہ مودودی گمراہ رہا اور نہ ہی اہلحدیث وھابی رہا۔ اگر آپ دس سے بیس کنال کا مدرسہ بچانے کے لئے متحد ہو سکتے ہیں، ایک دوسرے سے اختلافات بھلا سکتے ہیں تو آپ اسلام دین کی خاطر کیوں ایک نہیں ہوسکتے ؟ میری سوچ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں پھیلتے ارتداد کا راستہ روکنا ہے اور لوگوں کو دین سے جوڑنا ہے تو تمام اہل مذہب کو حقیقی بنیاد پر اپنے اختلافات نظر انداز کرنے ہونگے۔ اہمیت اختلافی باتوں کو نہیں بلکہ متفقہ باتوں کو دینی ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دیوبندی کو مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ کی جو باتیں غلط لگتی ہیں انہیں درست مان لے یا بریلوی کو مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی جو باتیں غلط دکھتی ہیں انہیں ٹھیک تسلیم کر لے بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ اہمیت ان باتوں کو دینا شروع کیجئے جو آپ کو ایک دوسرے کی ٹھیک اور درست لگتی ہیں اور چونکہ یہ متفقہ باتیں 99 فیصد اور اختلافی ایک فیصد ہیں لھذا عقل و خرد کے کسی پیمانے پر بھی کوئی جواز نہیں بنتا کہ آپ میں دشمنی ہو۔
میں آپ کے سامنے ایک فقہی نکتہ پیش کرتا ہوں۔ احناف کا یہ مسلک ہے کہ مسلمان رعایا اپنی حکومت کے خلاف اس وقت تک ہتھیار نہیں اٹھا سکتی جب تک حکمران کفر بواح اختیار نہ کرلے۔ کفر بواح سے مراد عیسائیت، یہودیت، مجوسیت ہندومت، سکھ اور الحاد وغیرہ جیسے صریح کفر ہیں۔ آخر امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر فقہاء نے کفر بواح جیسی شرط کیوں رکھی ؟ یہ اسی لئے رکھی کہ فی الواقع کفر یہی ہے اس کے علاوہ جتنے کفر ہیں یہ تاویلی کفر ہیں جس کے فتوے عناد میں آکر مسلمان خود مسلمان پر لگانا شروع کردیتے ہیں جن کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگر احناف فقہاء کفر بواح کی شرط نہ لگاتے تو انصاف سے بتایے کیا آج کا دیوبندی بریلوی مسلک والے نواز شریف کے خلاف ہتھیار اٹھاتا کہ نہیں ؟ اور آج کا بریلوی کسی دیوبندی وزیر اعظم کے خلاف ہتھیار اٹھاتا کہ نہیں ؟ اور یہ دونوں ملکر آصف علی زرداری کے خلاف اعلان جنگ کرتے کہ نہیں ؟ اس لئے میرے بھائی ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں ان تاویلی کفریات کے چکروں سے باہر نکلو اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر لادینیت کا راستہ روکو جو پاکستان میں 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھیل رہی ہے۔
ہر وہ پلیٹ فارم جو دین کے نام سے کام کر رہا ہے میرا اپنا پلیٹ فارم ہے چاہے وہ دیوبندی ہے، چاہے بریلوی ہے، چاہے مودودی ہے، چاہے اہلحدیث ہے اور چاہے غامدی ہے۔ چونکہ میں کٹر دیوبندی ہوں اس لئے مجھے ان تمام مکاتب فکر سے وہ علمی اختلافات بھی ہیں جو دیوبندی مسلک کے اختلافات ہیں لیکن مجھ میں اور دوسرے دیوبندیوں میں فرق یہ ہے کہ وہ اختلافی امور کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ میں متفقہ امور کو ترجیح دیتا ہوں اور یہ میری کوئی ذاتی سوچ نہیں بلکہ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور علامہ سرخسی علیھم الرحمہ کی ہی تعلیمات ہیں۔ جنہوں نے صاف صاف کہا ہے کہ اگر فتنہ پیدا ہو رہا ہو اور نقصان کا اندیشہ ہو تو قول راجح نہیں قول مرجوح اختیار کیا جائے گا۔ عامی دوستوں کے لئے قول راجح اور قول مرجوح کی سادہ تشریح یہ ہے کہ قول راجح اسے کہتے ہیں جس کے دلائل زیادہ قوی اور لاجیکل ہوں جبکہ قول مرجوح اس کا اپوزٹ ہے۔ تو گویا فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر مضبوط اور لاجیکل نظر آنے والے علمی موقف کو اختیار کرنے سے معاشرے میں جھگڑے اور فساد کا خطرہ ہو تو فساد اور فتنے کو ختم کرنے کو ترجیح دی جائیگی اور قول مرجوح اختیار کرنا ہوگا۔ اگر آج کے حنفی واقعی حنفی بن جائیں تو فرقہ واریت کا فتنہ راتوں رات ختم ہو سکتا ہے۔

حقیقی تقسیم:::::::::::::::اس ملک میں حقیقی اور سنجیدہ تقسیم صرف ایک ہی ہے اور یہ دین و لادین کی تقسیم ہے۔ اہل مذہب کی...

Posted by Riayatullah Farooqui on Monday, March 30, 2015
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے