10 اگست، 2015

ریاست یا ایک جادو نگری..؟؟

ایک نہیں، دو نہیں، عالمی سطح پر مطلوب اور بهاری "ہیڈ منی" والے اکٹھے تین عدد خطرناک دہشت گردوں کی "سورگباشی" کی خبریں اور وہ بهی ایک ساتھ؛ 
یقین جانئے؛ ایسا دنیا بهر میں صرف اور صرف الباکستان نامی "طلسم ہوشربا" میں ہی ممکن ہے ..
مجهے حیرت البتہ اپنے "ہر دم بیدار" بلکہ تیز و تیار میڈیا چینلز کی پراسرار خاموشی پر ضرور ہو رہی ہے، طالبان ہوں یا داعش کے جنگجو، جن کی خصوصی توجہ کے ہمیشہ مرکز رہا کرتے ہیں جبکہ اس معاملے میں اصل حیرت انگیز امر یہ بهی ہے کہ ملک اسحاق کے علاوہ ملا عمر اور اب جلال الدین حقانی تینوں کے کریاکرم کا تمام تر "کریڈٹ" سکہ رائج الوقت کے مطابق، دور حاضر کے "صلاح الدین ایوبی" کو دینے میں اتنی کوتاہی کیوں برتی جا رہی ہے..؟؟
اس بڑے سوالیہ نشان کے ایک حصے سے کچھ پردہ البتہ تھوڑی دیر پہلے ایک نیوز بلیٹن میں "صلاح الدین ایوبی" کو امریکہ بہادر کے خصوصی نمائندہ برائے "افپاک" مسٹر ڈینئل ایف فیلڈمین سے دہشت گردوں کے خلاف "کامیاب کارروائی" پر "شاباش" وصول کرتے دیکھ کر ضرور اٹھ گیا؛ 
جبکہ "ہمارے" ٹریک ریکارڈ کی روشنی میں یہ شاباش محض زبانی کلامی حوصلہ افزائی تک محدود نہیں رہی ہوگی بلکہ ساتھ میں ان کارہائے نمایاں کا "خاطر خواہ صلہ" بهی یقینی طور پر زیرِ بحث آیا ہوگا ...
قارئین گرامی؛ ٹی وی چینل پر سامنے آنے والے اس منظر نے مجهے سال ڈیڑھ پہلے اپنے باجگذار شہنشاہ معظم اور ہوشیار سپہ سالار اعظم دونوں کی سعودی فرمانروا کے بعد امریکہ بہادر کے اعلیٰ سطحی اہلکاروں کے ساتھ وہ پے در پے ملاقاتیں بهی یاد کرادیں، جن پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے لکها تها کہ ...
"جہادی مصنوعات کی خرید و فروخت کے بل بوتے پر اپنی معیشت کی بنیادیں استوار کرنے والی مملکت خداداد نے طالبان نامی اپنے قدیمی پراڈکٹ کو اب بوجوہ مارکیٹ سے اٹھا لیا ہے اور زمینی حقائق کے پیش نظر اپنے آئندہ کاروبار کیلئے داعش نامی نئے جہادی پراڈکٹ پر انوسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے؛ 
"کاروباری حکمت عملی" میں ایک بڑا فرق یہ بهی پڑا ہے کہ اب "ہم" طالبان نامی سابقہ پراڈکٹ کی طرح، "جہادیوں" کی پروڈکشن کے ساتھ ساتھ ان کی مارکیٹنگ، دونوں ایک ساتھ چلانے کی بجائے نئے امپورٹڈ "جہادی مصنوعہ" داعش کی صرف نیگیٹو مارکیٹنگ (بیخ کنی) سے کمیشن کمانے کی طرف ہی توجہ مرکوز رکھا کریں گے ...
مزید برآں؛ اس نئی "بزنس ڈیل" کے تحت "شہنشاہ ذی وقار" السعودیہ کے ساتھ اپنے "روحانی تعلق" کے ناطے بزنس کی صرف "سرپرستی" کی ذمہ داری پر اکتفا کریں گے، جس کے عوض آپ "منافع" میں سے "حصہ بقدر جثہ" کے حقدار بہرحال قرار پائیں گے؛ جبکہ بالخصوص امریکہ بہادر کے ساتھ جملہ کاروباری معاملات آئندہ آنجناب سپہ سالار اعظم ہی انجام دیا کریں گے" ...
خواتین و حضرات؛ تازہ ترین صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہماری محولہ بالا پیشین گوئی کی "صحت یا عدم صحت" بارے فیصلہ اب آپ خود کرتے رہئے..!!
مکمل تحریر >>

علامہ المشرقیؒ اور جوش ملیح آبادی..!!

دو بہت بڑی شخصیات کے درمیان ہم پاکستانیوں جیسی گری پڑی قوم کو اٹھا کھڑا کرنے کے اہم ترین موضوع پر خط و کتابت .....
جوش ملیح آبادی کا خط اور علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کا جواب...
برصغیر کے شہرہ آفاق شاعر جوش ملیح آبادی نے ستمبر ۱۹۳۵ء میں دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ’’کاخ ِبلند‘‘ کی قلمی معاونت کیلئے "مصلح اعظم" علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ کو خط لکھا؛ جس میں آج تک رائج اس بہت بڑے مغالطے کے حوالے سے المشرقیؒ کو تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ ... 
’’تاریخ شاہد ہے کہ اُس وقت تک کسی قوم میں بیداری اور زندگی پیدا نہیں ہوئی جب تک اس کی ادبیات میں عظیم انقلاب پیدا نہیں کیا گیا؛ اور ظاہر ہے یہ انقلاب کہیں باہر سے نہیں آتا۔ اس ملک کے ’’مشاہیر‘‘ ہی اسے پیدا کیا کرتے ہیں"۔
آج بھی دن کے چند سب سے زیادہ پڑهے لکهے افراد میں شمار ہوتے والے علامہ المشرقیؒ نے جوش ملیح آبادی کو جواب میں کیا لکھا، پڑھ کر اس کی حقانیت بارے فیصلہ خود کرلیجئے؛ .............
’’میں نہیں مانتا کہ کسی قوم میں بیداری اور زندگی اس وقت تک پیدا نہیں ہوئی جب تک اِس کے ادبیات (لٹریچر) میں عظیم انقلاب پیدا نہیں کیا گیا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قومیں اُس وقت بیدار اور زندہ ہوتی ہیں جب ان میں اتحاد عمل، اخوت، مساوات اور سپاہیانہ زندگی کے جذبات (Tendency) پیدا ہوئے۔ اگر آپ ان حسیات کی تبلیغ کو ادبیات اور دنیا میں زندہ رہنے کے آداب اور سلیقہ میں شمار کرتے ہیں تومیں آپ سے متفق ہوں۔ 
موجودہ علم و ادب جو ہندی مسلمانوں نے غلامی کے دوران اختیار کیا ہے، نہ ’’علم‘‘ ہے اور نہ ’’ادب‘‘، یہ محض گھناؤنی مخرب زدہ اشیاء کا مجموعہ ہے، جس سے قوم کو کوئی شعور، کوئی ادب ہرگز حاصل نہیں ہوگا۔
’’قومی مشاہیر کے طرزِ عمل بارے المشرقی آگے چل کر لکھتے ہیں کہ؛ ....
قوم کے مشاہیر ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے ان میں اتحاد فکر پیدا نہیں ہو سکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی زندگی کی کوئی مسلم تصویر ذہنوں میں نہیں۔ 
ایک مشہور شخص زندگی اسے کہتا ہے کہ سب مسلمان بی۔ اے، ایم۔ اے ہوجائیں۔ دوسرا زندگی اُسے کہتا ہے کہ دفتروں میں مسلمان ہی مسلمان نظر آئیں۔ تیسرا زندگی اُسے کہتا ہے کہ رسالے اور اخبارات کثرت سے جاری ہوں۔ چوتھے کی زندگی سے مراد یہ ہے کہ بہت سے شاعر پیدا ہوجائیں۔ پانچواں اُس کو زندہ سمجھتا ہے جس میں عورتوں کی ہر طرف چہل پہل ہو۔ 
سرسید نے زندگی یہ سمجھی تھی کہ سکول کالج اور کالج یونیورسٹیاں بن جائیں یا ترکوں کی طرح ہندی مسلمانوں میں بھی چھری اور کانٹوں کا رواج ہو۔ 
امان اللہ خان زندگی اُس کو سمجھتا ہے کہ سب افغان نک ٹیایاں پہننیلگیں اور داڑھیاں کتردی جائیں۔ 
ملا کی زندگی یہ ہے کہ ماتھے پر مصنوعی گٹا پڑا ہو۔ بدن پر چیتھڑے ہوں۔ دنیا سے بے خبری ہو۔ تمام عمر نحو کی تلاوت ہو۔ حجرے بھرے ہوں، باسی ٹکڑوں پر گذارہ ہو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر توکل ہو، وغیرہ وغیرہ .. محشر شان فکرو ضلال میں کسی کی کون سنے گا۔
آپ اگر اس رسالہ کے ذریعے قوم میں بیداری اور زندگی پیدا کرنے کے خواہاں ہیں تو پہلے رسالے کے ذریعے قوم کے مشاہیر سے فیصلہ کرائیے کہ قوم میں بیداری حیات کے معنیٰ کیا ہیں؟؟.. 
میرے نزدیک قوم میں بیداری اور زندگی یہ ہے کہ قوم کا منتہا وراثت زمین اور غلبہ ہو۔‘‘ 
(عنایت اللہ خان المشرقیؒ)

مکمل تحریر >>

آئین کے ساتھ بلاد کار اور طبلہ نوازی.!!

افتخار چوہدری کی مادر پدر آزاد عدلیہ نے آئین کو ایک بار دوبارہ لکھ ڈالا؛ لیکن اس دفعہ اپنی نہیں بلکہ اپنے "آقائے نامدار" ادارے کی ضرورت کے عین مطابق ..
پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو "آئین و پارلیمان کی فتح" کا نام دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے، جس میں یہ کہہ کر آئین کا واضح طور پر مذاق اڑایا گیا ہے کہ "پارلیمنٹ کو ہر قسم کی آئینی ترمیم کا حق حاصل ہے، بهلے وہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہی کیوں نہ جارہی ہو"؛ کیونکہ 1973 کے رائج الوقت دستور میں پارلیمان اور عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کو جن بنیادی اصولوں سے چهیڑ چهاڑ کی ممانعت کی گئی ہے، "انسانی حقوق" کی شق ان میں شامل ہے ..
پیپلزپارٹی نے اگر اس خدشے کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام بارے آئینی ترمیم کی مخالفت سے گریز کیا تها کہ اس پر دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد نہ کر دیا جائے تو اب جبکہ اپنے قیام کو کئی ماہ گزر جانے کے بعد بهی یہ فوجی عدالتیں 8000 گرفتار دہشت گردوں میں سے پھانسی کے پہلے سے سزا یافتہ 800 میں سے ان دو درجن کے علاوہ کسی کو بهی لٹکانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، جو فوجی افسران اور عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث تهے؛ ایسے میں پیپلز پارٹی کیلئے عدالت کے اس فیصلے پر بغلیں بجانے کی بجائے خاموشی زیادہ بہتر طرزِ عمل سمجھا جاتا ..
پارلیمانی "بزرجمہروں" سمیت اس فیصلے سے "دہشت گردی کے خاتمے" کی اندھی آرزوئیں باندھنے والے میڈیائی افلاطونوں کو بهی عدالت کے ان ریمارکس کی صورت میں آئین کی واضح بے حرمتی پر شرم سے پانی پانی ہو جانا چاہئے کہ "بنیادی انسانی حقوق کی منسوخی سمیت ہر قسم کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے"..
موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم "فل بینچ" کا 11/6 کی اکثریت کے ساتھ منقسم اور جرنیلوں کے اشارہ ابرو پر صادر کیا گیا یہ فیصلہ اس لحاظ سے بهی شرمناک تصور کیا جاتا چاہئے کہ یہی عدلیہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی اور ترقی بارے زرداری دور کی پارلیمنٹ کو، اس کی منظور کردہ اس آئینی ترمیم میں ترمیم مزید پر مجبور (گویا پارلیمنٹ کے حق کو مسترد) کر چکی ہے، جس میں حتمی فیصلے کا اختیار ججوں کی بجائے پارلیمانی نمائندوں کو دیا گیا تھا ...
اس پس منظر میں پارلیمنٹ کی نام نہاد بالا دستی کے نام پر رچائی گئی اس "نوٹنکی" کا منطقی مفہوم اس کے سوا کیا اخذ کیا جائے کہ
"الباکستان میں عدلیہ پارلیمان سے زیادہ بالادستی کی حامل ہے جبکہ فوج کو اسی عدلیہ پر بھی حتمی بالا دستی حاصل ہے"...
سپریم کورٹ کا کردار اس سارے ڈرامے میں اس وجہ سے بهی "مشکوک" ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ فیصلے سے اختلاف کرنے والے 6 ججز کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر موسٹ جج اور ماہ رواں کی 17 تاریخ کو "چیف جسٹس آف پاکستان" کی نشست سنبهالنے والے جسٹس جواد ایس خواجہ نے 25 صفحات پر مشتمل اپنے "اختلافی نوٹ" میں "بنیادی انسانی حقوق" کا ذکرِ خیر ایک سطر میں بهی کرنا گوارا نہیں کیا، بلکہ اپنے اختلاف رائے کی بنیاد پارلیمان یا عدلیہ کی سُپریمیسی کے سوال پر رکهی ہے ...
مکمل تحریر >>

تلاش کیجئے